?️
غزہ میں امریکہ کی تعمیری سیاست کے اثرات
امریکی منصوبے کی منظوری کے بعد غزہ ایک ایسے عبوری دور میں داخل ہو گیا ہے جس میں اس کی سیاسی اور سکیورٹی فضا پر بین الاقوامی اداروں کا اثر نمایاں طور پر بڑھ جائے گا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 26 اکتوبر کو امریکی تجویز کو منظور کیا جس میں غزہ کے انتظام کے لیے ایک عبوری ڈھانچے کا ذکر ہے۔ اس ڈھانچے میں شورائے صلح کی تشکیل، بین الاقوامی فورس کی تعیناتی، بازسازی کے عمل پر بیرونی نگرانی اور بتدریج ریاست فلسطین کی جانب پیش رفت کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن فلسطینی حلقوں کے مطابق یہ نکات غزہ کو غیر یقینی سیاسی کیفیت میں معلق رکھنے کا سبب بنیں گے۔
منصوبے کے تحت شورائے صلح نامی ادارہ امداد، بازسازی، انتظامی امور اور تشکیلات خودگردان کی اصلاحات کی نگرانی کرے گا۔ بین الاقوامی فورس کو غزہ کی غیر عسکریت، شہریوں کے تحفظ اور فلسطینی پولیس کی تربیت کی ذمہ داری دی جائے گی، جبکہ بازسازی کے فنڈز عالمی بینک کی سربراہی میں تشکیل پانے والے ایک مالیاتی نظام کے ذریعے تقسیم ہوں گے۔ منصوبے کے مطابق یہ عبوری انتظام 2027 تک جاری رہے گا لیکن اس کی مدت اصلاحات اور سکیورٹی پیش رفت سے مشروط ہونے کی وجہ سے طویل بھی ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتنیاہو نے منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم اسرائیلی میڈیا اور تحقیقی اداروں میں اس کے کئی پہلوؤں پر تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اسرائیل کو تشویش ہے کہ منصوبہ ریاست فلسطین کے قیام کی سمت ایک باضابطہ راستہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی فورس میں شامل ممالک کے انتخاب پر اسرائیل کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا اور غزہ کے انتظام میں بین الاقوامی اداروں کی بڑھتی ہوئی مداخلت تل ابیب کے اسٹریٹجک کنٹرول کو محدود کر سکتی ہے۔
فلسطینی گروہوں نے منصوبے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں غزہ کو بین الاقوامی قیمومیت کے تحت رکھا جائے گا اور فلسطینیوں کے سیاسی اختیار کو محدود کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق غیر عسکریت کے مطالبے کو اس وقت تک قبول نہیں کیا جا سکتا جب تک اشغال کا مکمل خاتمہ نہ ہو جائے۔ فلسطینی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ تشکیلات خودگردان کی واپسی کو بیرونی شرائط سے مشروط کر کے داخلی سیاسی اختلافات میں اضافہ کرے گا۔
ماہرین کے مطابق امریکی منصوبے کے کئی اثرات مستقبل میں غزہ کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے پر گہرے اثرات چھوڑیں گے۔ حاکمیت کی منتقلی، داخلی کشیدگی کے خدشات، خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی، غیر ملکی فورسوں کے قیام کے غیر واضح دورانیے اور بازسازی کے عمل کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کیے جانے کا امکان ان میں شامل ہیں۔ ریاست فلسطین کے قیام کے معاملے میں بھی منصوبے میں کوئی واضح یا ضمانت شدہ روڈمیپ موجود نہیں، جس سے غزہ کے سیاسی مستقبل پر غیر یقینی کے سائے گہرے ہو رہے ہیں۔
منصوبے کی مجموعی سمت ظاہر کرتی ہے کہ غزہ کا انتظام فلسطینیوں سے ہٹ کر بین الاقوامی اداروں کے ہاتھ میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اس صورت حال میں اصل سوال یہ ہے کہ آیا فلسطینی عوام اپنے سیاسی اختیار کو برقرار رکھ پائیں گے یا غزہ ایک نئے بین الاقوامی سیاسی انجینئرنگ پروجیکٹ میں تبدیل ہو جائے گا۔


مشہور خبریں۔
ایرانی انٹیلی جنس نیٹ ورک کی اسرائیلی ریاست میں جاسوسی؛ 2 صیہونیست گرفتار
?️ 1 اکتوبر 2025سچ خبریں: عبرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ شاباک (اسرائیلی سیکورٹی
اکتوبر
مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے کھوکھلے نعرے۔
?️ 25 اگست 2022سچ خبریں:اپنے آپ کو انسانی حقوق کا علمبردار کہلانے والے مغربی ممالک
اگست
ابو عبداللہ خطرہ کا تل ابیب کے لیے صالح العروری سے کم نہیں تھا
?️ 28 نومبر 2024سچ خبریں: شہداء زندہ ہیں، یہ پیارے معاشرے کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی
نومبر
امریکی سینیٹ نے "حکومتی شٹ ڈاؤن” کو ختم کرنے کے ڈیموکریٹس کے منصوبے کو مسترد کر دیا
?️ 4 اکتوبر 2025سچ خبریں: ریاستہائے متحدہ کی سینیٹ نے وفاقی حکومت کو عارضی طور
اکتوبر
آئی ایم ایف معاہدے میں تاخیر کے سبب پاکستان کو قرضوں کی ادائیگیاں روکنی پڑ سکتی ہیں
?️ 14 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) ایک امریکی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر
مارچ
بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر میں منتقل کیا جائے: ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن
?️ 1 مئی 2021سرینگر (سچ خبریں) بھارت میں کورونا وائرس کی بگڑتی صورتحال کو دیکھتے
مئی
حکومت کی طرف سے پیکا سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست واپس
?️ 8 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اور نگزیب نے کہا
مئی
عمران خان نے کہا ہے ان سے بات کی جائے جن سے ٹرمپ بات کررہے ہیں، علیمہ خان
?️ 3 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہمشیرہ
جولائی