عرب ممالک کو ایران کے ساتھ تعاون کی ضرورت کیوں ہے؟

ایران

?️

عرب ممالک کو ایران کے ساتھ تعاون کی ضرورت کیوں ہے؟
الجزیرہ نے اپنے ایک تفصیلی تجزیے میں کہا ہے کہ موجودہ علاقائی حالات میں عرب ممالک کے لیے ایران کے ساتھ تعاون ناگزیر ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ خطے میں طاقت کے توازن کو سب سے بڑا خطرہ ایران سے نہیں بلکہ اسرائیل کے اس منصوبے سے لاحق ہے جس کا مقصد اپنی برتری اور بلاشرط سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق عرب دنیا اور ایران کے درمیان اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم بہت سے عرب دانشوروں اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اصل خطرہ وہ صہیونی منصوبہ ہے جو خطے میں طاقت کے توازن کو مکمل طور پر اسرائیل کے حق میں بدلنا چاہتا ہے۔ یہ کوئی نظری بحث نہیں بلکہ ایک زمینی حقیقت ہے، جس کا واضح اظہار غزہ میں جاری جنگ کے دوران ہونے والی وسیع انسانی تباہی، بنیادی ڈھانچے کی بربادی اور سماجی نظام کے انہدام کی صورت میں ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں اٹھائیس ہزار سے زائد خواتین اور بچیاں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں، جبکہ زندگی کے تمام آثار تقریباً مٹ چکے ہیں اور معمول کی زندگی ایک دور کے خواب میں بدل چکی ہے۔
اگرچہ بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے خلاف قانونی اقدامات کیے گئے، جن میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے عبوری احکامات اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے اسرائیلی قیادت کے خلاف وارنٹ گرفتاری شامل ہیں، تاہم الجزیرہ کے مطابق یہ اقدامات زمینی حقیقت میں اسرائیلی جارحیت کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
الجزیرہ کا کہنا ہے کہ بعض عرب ممالک نے اگرچہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے کیے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اسرائیل کو دل سے ایک معمول کی ریاست تسلیم نہیں کرتے اور اسے پورے عرب خطے کے لیے ایک مستقل اور اسٹریٹجک خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عرب ممالک ایران کے خلاف کسی بھی بڑی جنگ کی مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ ایسی جنگ پورے خطے کو تباہ کن عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس کے اثرات سب سے پہلے عرب ریاستوں پر ہی پڑیں گے۔
تجزیے میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ دراصل خطے میں طاقت کے توازن کو اسرائیل کے حق میں یکطرفہ طور پر تبدیل کر دے گی، جس سے سیاسی، سلامتی اور ثقافتی انتشار میں اضافہ ہوگا اور اسرائیل کو عرب دنیا پر اپنے سیاسی اور سلامتی کے تقاضے مسلط کرنے کا موقع مل جائے گا۔
الجزیرہ کے مطابق ایران اور عرب ممالک کے تعلقات میں فلسطین ایک مرکزی اور فیصلہ کن مسئلہ ہے، جو محض ایک نعرہ نہیں بلکہ خطے میں سیاست، اخلاقیات اور قانونی حیثیت کا پیمانہ ہے۔ فلسطینی حقوق کو نظرانداز کرنا عرب دنیا کی کمزوری اور تقسیم کا باعث بنا ہے، اور جب فلسطین پس منظر میں چلا جاتا ہے تو پورا خطہ اپنی مشترکہ سمت اور سیاسی قطب نما کھو دیتا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عرب ممالک اور ایران کے درمیان صرف اختلافات کم کرنا کافی نہیں، بلکہ انہیں ایک مشترکہ تعاون کا فریم ورک تشکیل دینا ہوگا، تاکہ خطے میں جنگ، محاذ آرائی اور مسلسل بحرانوں کا راستہ روکا جا سکے۔ اس تعاون کا مقصد اختلافات کو ختم کرنا نہیں بلکہ انہیں اس حد میں رکھنا ہے جہاں وہ کسی بڑے تصادم میں تبدیل نہ ہوں۔
الجزیرہ کے مطابق خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ایران اور عرب ممالک بحرانوں کے انتظام، بحری راستوں کے تحفظ، اقتصادی تعاون اور فلسطین کے مسئلے پر عملی ہم آہنگی پیدا کریں، تاکہ استحکام محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ اور ٹھوس مفاد بن سکے۔
آخر میں الجزیرہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کو روکنا ایران پر کوئی احسان نہیں بلکہ عرب ممالک کی اپنی سلامتی، خودمختاری اور خطے میں طاقت کے خطرناک عدم توازن کو روکنے کے لیے ایک دانشمندانہ اور دور اندیشانہ قدم ہے، کیونکہ ایسی جنگ کا سب سے بڑا فائدہ اسرائیل کو اور سب سے بڑا نقصان عرب دنیا کو ہوگا۔

مشہور خبریں۔

قومی اسمبلی اجلاس: 9 مئی کے شرپسندوں کے خلاف کیسز ملٹری ایکٹ کے تحت چلانے کی قرارداد منظور

?️ 12 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) قومی اسمبلی نے 9 مئی کے شرپسندوں کے خلاف

ایک براعظم سے دو انتخابی بیانیہ؛ برازیل بائیں اور ارجنٹینا دائیں کیوں گیا؟

?️ 2 نومبر 2025سچ خبریں: ارجنٹائن میں 26 اکتوبر 2025 کو منعقد ہونے والے پارلیمانی

اسرائیل ایران سے کتنا ڈرتا ہے؟

?️ 7 اپریل 2024سچ خبریں: عبرانی ذرائع نے اعتراف کیا کہ صیہونی حکام نے دمشق

امریکی ریاست کینٹکی میں خوفناک سیلاب

?️ 2 اگست 2022سچ خبریں:امریکہ کے جنوب میں واقع ریاست کینٹکی میں آنے والے خوفناک

متحدہ عرب امارات کی اسکائی نیوز پر سوڈان سے پابندی لگا دی گئی

?️ 11 نومبر 2025سچ خبریں: سوڈانی وزارت ثقافت اور مواصلات نے متحدہ عرب امارات کے

چیف جسٹس کا اختیار محدود کرنے کی قانون سازی کی ٹائمنگ پر سوالیہ نشان ہے؟ صدر مملکت

?️ 30 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف جسٹس کا

جنرل سلیمانی کے قتل پر روسی صدر کی تنقید

?️ 29 اکتوبر 2022سچ خبریں:روس کے صدر نے ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی

ہم باکو اور ایروان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی حمایت کرتے ہیں: میکرون

?️ 31 مئی 2022سچ خبریں:   فرانس کے صدر نے تہران کے وقت کے مطابق منگل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے