?️
سچ خبریں: روس کے اعلیٰ سفارت کار اور ایٹمی عدم پھیلاﺅ معاہدے (این پی ٹی) کے جائزے کانفرنس میں روسی وفد کے سربراہ آندرے بیلوسوف نے کہا ہے کہ ایران کا این پی ٹی سے باہر نکلنا موجودہ اور مستقبل میں اسلامی جمہوریہ کے مفاد میں نہیں ہوگا، اور تہران کے حکام ایسا ہرگز نہیں کریں گے۔
روسی سفارت کار نے ایک نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے وضاحت کی کہ جہاں تک ایران کے انخلا کا تعلق ہے، میں واضح کر دوں کہ اسلامی جمہوریہ ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے، اور ایرانی کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ لیکن میری رائے میں، کئی وجوہات کی بنا پر، ایسا اقدام نہ موجودہ صورت حال میں اور نہ مستقبل میں ایران کے مفاد میں ہوگا۔
آندرے بیلوسوف نے نیوز ایجنسی تاس سے گفتگو میں مزید کہا کہ روسی فیڈریشن یورپی سرزمین سے تمام امریکی جوہری ہتھیاروں اور ان کی تنصیب اور دیکھ بھال سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے خاتمے پر زور دیتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی جوہری ہتھیار جو یورپ میں تعینات ہیں، درحقیقت اسٹریٹجک نوعیت کے حامل ہیں۔ اس لیے ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ ہتھیار یورپ سے نکال کر ریاستہائے متحدہ واپس بھیج دیے جائیں، اور یورپی سرزمین پر ان کی تنصیب سے متعلق تمام بنیادی ڈھانچے کو بھی ختم کر دیا جائے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ روس یورپ میں تعینات امریکی جوہری ہتھیاروں کو اسٹریٹجک تصور کرتا ہے، کیونکہ ان کی تباہ کن حد روس کی سرزمین پر موجود اہم ترین شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
روسی ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار امریکہ کے لیے خطرہ نہیں
این پی ٹی جائزے کانفرنس میں روسی وفد کے سربراہ نے کہا کہ روس کے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار ریاستہائے متحدہ کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہیں کرتے، اور اس معاملے کو جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق مذاکرات کا محور بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
بیلوسوف نے کہا کہ ہمارے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے بارے میں یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ ہتھیار امریکہ کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں، اور نہ ہی یہ سلامتی کے اس توازن کو متاثر کرتے ہیں جو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد کے پہلے سالوں میں قائم ہوا تھا اور آج تک اسٹریٹجک استحکام کی بنیاد ہے۔
اس سفارت کار نے زور دیا کہ جب بھی ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کا مسئلہ اٹھایا جاتا ہے، روس کے مخالفین سب سے پہلے ان ہتھیاروں سے لاحق خطرے کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں اس مسئلے کو اسٹریٹجک استحکام یا ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق مذاکرات کا مرکزی محور بنانے کی کوششیں بے نتیجہ اور حقیقی طور پر بے فایدہ ہیں۔
روسی وزارت خارجہ کے نائب وزیر سرگئی ریابکوف نے مئی کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ پانچ جوہری طاقتوں کے فریم ورک میں مذاکرات مکمل طور پر معطل نہیں ہوئے، لیکن فی الحال یہ ایک انتہائی محدود سطح پر جاری ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ روس امریکہ کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا خیرمقدم کرتا ہے، اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں ایسی گفتگو شروع کرنے کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے، اور واشنگٹن کا ماسکو کے ساتھ رویہ اور تعلقات بہتر ہونے کی صورت میں ہی اس طرح کے رابطے ممکن ہو سکیں گے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
اسرائیل نے مغربی ممالک کو بھی مشکل میں ڈال دیا
?️ 10 جون 2024سچ خبریں: اسرائیلی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ بنی گانٹز اور
جون
کیا ٹرمپ کو گرفتار کیا جائے گا؟
?️ 15 اگست 2023سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیروں کو جارجیا کی ایک
اگست
میٹا کا پرائیویسی مسائل کا جائزہ لینے کیلئے اے آئی نظام متعارف کرانے کا فیصلہ
?️ 4 جون 2025سچ خبریں: میٹا (سابقہ فیس بک) نے اپنے پلیٹ فارمز جیسے فیس
جون
صہیونیوں کا جنوبی لبنان کے عیسائیوں پر حملے کا منصوبہ
?️ 14 مارچ 2024سچ خبریں:جنوبی لبنان پر اپنے حملوں کے نئے دور میں صیہونی حکومت
مارچ
غزہ میں عارضی جنگ بندی کے لیے 5 نکاتی امریکی منصوبہ
?️ 3 نومبر 2023سچ خبریں: صہیونی میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ
نومبر
بلوچستان: کوئٹہ اور شیرانی میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں بھارتی اسپانسرڈ 18 دہشتگرد ہلاک
?️ 1 اکتوبر 2025کوئٹہ: (سچ خبریں) بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 18 دہشت
اکتوبر
آئندہ 45 دن اہم ہیں الیکشن اکتوبر میں ہی ہو جائیں گے۔شیخ رشید
?️ 11 جولائی 2022لاہور: (سچ خبریں) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیر داخلہ
جولائی
کیف حکومت مقدمے سے بچنے کے لیے جنگ جاری رکھے ہوئے ہے : روس
?️ 27 فروری 2026 سچ خبریں:روسی ڈوما کے رکن امیر خامیتوف نے یوکرین کے صدر
فروری