?️
سچ خبریں: سینئر امریکی صحافی اور تجزیہ نگار رچرڈ اسٹنگل نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف غیر مساوی جنگ میں امریکہ کی جانب سے صیہونی حکومت کی ہرممکن حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سیاست نے دنیا بھر میں پرانے امریکہ مخالف جذبات کو پھر سے زندہ کیا گیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تنازعات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ امریکہ کی عالمی قبولیت کے عمل کو روک رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا میں امریکہ کی یک جہتی کا اختتام
سینئر امریکی صحافی اور تجزیہ نگار رچرڈ اسٹنگل نے ٹائم میگزین میں شائع ہونے والے اپنے تجزیے میں امریکہ کی عالمی مقبولیت کے بارے میں لکھا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں 2017 اور 2020 کے درمیان، دنیا میں امریکہ کی مقبولیت خاص طور پر اس ملک کے اہم سکیورٹی اور کاروباری شراکت داروں کے درمیان اس حد تک کم ہوگئی کہ امریکہ 1970 کی دہائی میں دنیا میں اپنی سازگار پوزیشن سے 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں عالمی ناقابل قبولیت کے دور تک پہنچ گیا۔
تاہم جو بائیڈن نے اوباما کے سالوں کے دوران کی اپنی زیادہ تر بین الاقوامی ساکھ دوبارہ حاصل کی ہے، جس کی اوسط موافقت کی درجہ بندی 62 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بائیڈن نے دسمبر میں ایک انتخابی مہم میں کہا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل دنیا بھر میں عالمی حمایت کھو رہے ہیں، چند روز بعد 153 ممالک نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی غزہ میں جنگ بندی کی تجویز پر اتفاق کیا جبکہ صرف نو ممالک نے امریکہ کی حمایت کی اور بل کے خلاف ووٹ دیا جو بائیڈن کے دعوے پر منظوری کی مہر تھی۔
اسٹنگل جو اوباما کے دور میں امریکی نائب وزیر خارجہ برائے عوامی سفارت کاری کے عہدے پر فائز تھے، نے دنیا بھر میں امریکہ کی امیج کے بارے میں تشویش کو اس ملک کے لوگوں کے لیے ایک اہم نقطہ کے طور پر متعارف کرایا اور لکھا کہ انگلستان سے آزادی کے ابتدائی سالوں سے امریکی حکومت بھی نرگسیت کا شکار تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ دنیا کی نظریں ان پر ہیں۔
انہوں نے سرد جنگ سے پہلے جمہوریت کے بارے میں امریکیوں کے پرفریب نعروں کا حوالہ دیتے ہوئے اس ملک پر کمیونسٹ مخالف آمرانہ حکومتوں کی حمایت کرنے کا الزام لگایا اور لکھا کہ امریکہ جمہوریت پر تحفظ کا انتخاب کرنے میں اپنے نظریات پر پورا نہیں اترتا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو ایک بار 11 ستمبر کے بعد عراق پر حملہ کرکے اور اب صیہونی حکومت کی کھلی حمایت کرکے عالمی سطح پر ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس سابق امریکی اہلکار نے بش دور میں عراق پر حملہ، ٹرمپ کے دور میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی اور صیہونی حکومت کے لیے امریکی حمایت جیسی غیر مقبول پالیسیوں کو امریکی ثقافت کی طاقت کو کمزور کرنے سے تعبیر کیا اور لکھا ہے کہ مثال کے طور پر کہ عراق پر حملے کے بعد بہت سے ممالک میں کوکا کولا کی فروخت میں نمایاں کمی آئی اور اس امریکی سافٹ ڈرنک پروڈیوسر کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ اب، جیسا کہ ان سالوں میں، عربوں نے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کیا ہے اور سوشل میڈیا پورے مشرق وسطیٰ میں میکڈونلڈز، اسٹاربکس اور ڈومینو کے بائیکاٹ کی تصاویر سے بھرا ہوا ہے۔
اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکہ اب دنیا کے لوگوں کے لیے جمہوریت کی مثال نہیں رہا، اس امریکی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا امریکہ کے کلچر کے بارے میں جو کچھ دکھاتا ہے، اس کے علاوہ 6 جنوری کے اسکینڈل اور حکومتی شٹ ڈاؤن بھی امریکی طرز کی ریپبلکن حکومت کے زوال کی ایک انمٹ عالمی تصویر ہے اور کانگریس پر حملہ مجسمہ آزادی کی طرح امریکہ کی عالمی علامت بن گیا ہے۔
اسٹنگل نے اس صورتحال کو امریکی جمہوریت کی نااہلی کی تصویر اور اس کے عدم استحکام کی تصدیق قرار دیتے ہوئے لکھا کہ Pew سروے کے مطابق، امریکہ کے صرف 17% اتحادیوں کا کہنا ہے کہ یہ ملک دوسرے ممالک کے لیے ایک اچھی مثال ہے، جب کہ اس سے قبل 57% ان کا خیال تھا کہ امریکہ ایک ماڈل ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ 7 اکتوبر کو حماس کی طرف سے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے باوجود اس وقت صیہونی حکومت پوری دنیا میں فلسطینیوں کے انسانی حقوق ک وپائمال کرنے والے کے طور پر جانی جاتی ہے اور امریکہ کو اس حکومت کا ساتھی سمجھا جاتا ہے،دنیا کے بہت سے لوگوں کے لیے اسرائیل غنڈہ ہے اور امریکہ اس بدمعاش کا محافظ ہے۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ انتظامیہ کی یہ حکمت عملی کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات نارمل کرنے کو پس پشت ڈال سکتا ہے اور ساتھ ہی فلسطینیوں کو پسماندہ کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: دنیا میں امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ؛ امریکی میگزین کی زبانی
آخر میں اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یوکرین کی خودمختاری اور انسانی حقوق کے حق میں امریکہ کی طرف سے پیش کردہ دلیل عالمی سطح پر فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیلیوں کے لیے بیزاری کا باعث بنی ہے،اگلے چند سالوں میں، امریکیوں کو ذہین اور جدت پسند لوگوں سے زیادہ ہارڈ ویئر اور بمباروں کی قوم کے طور پر دیکھا جائے گا اور اس ملک کے ہارڈ پاور کے انتخاب اس کے سافٹ پاور کے فائدہ پر غالب ہوں گے۔


مشہور خبریں۔
بھارت میں کورونا وائرس کا قہر جاری، متعدد ریاستوں میں سخت لاک ڈاؤن لگادیا گیا
?️ 8 مئی 2021نئی دہلی (سچ خبریں) بھارت میں کورونا وائرس کا شدید قہر جاری
مئی
سوتے ہوئے بھی آنکھیں کھلی رکھنا؛صیہونی اخبار کا صیہونیوں کو مشورہ
?️ 9 فروری 2025سچ خبریں:صیہونی اخبار نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر
فروری
بائیڈن اور ان کے خاندان کی مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات میں معلومات چھپانے کا الزام
?️ 19 اگست 2026سچ خبریں:2 امریکی سینیٹرز نے بائیڈن اور ان کے خاندان سے متعلق
اگست
افغان فوج کے ہاتھوں سیکڑوں طالبان ارکین ہلاک
?️ 5 جولائی 2021سچ خبریں:افغانستان کے متعدد شہروں میں فوج اور طالبان کے درمیان ہونے
جولائی
صہیونیوں کے پاس بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں:مزاحمتی تحریک
?️ 17 اکتوبر 2022سچ خبریں:عرین الاسود مزاحمتی گروپ نے مغربی کنارے کے لوگوں سے صیہونی
اکتوبر
صیہونی میڈیا کو مزاحمتی تحریک کی کامیابی پر یقین
?️ 16 مئی 2021سچ خبریں:صہیونی حکومت کے میڈیا اور کچھ فوجی تجزیہ کاروں نے موجودہ
مئی
مناظرے میں نقل ہوئی ہے: ٹرمپ
?️ 15 ستمبر 2024سچ خبریں: ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا
ستمبر
افغان طالبان کی وزارت دفاع کا وانا میں کامیاب ڈرون حملے کا دعوی بے نقاب
?️ 15 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزارت اطلاعات نے افغان طالبان رجیم کے جھوٹے
مارچ