?️
جاپان کی خاتون وزیرِاعظم، خواتین سیاست دانوں کے زوال کے سال میں ایک نمایاں استثنی
ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں سیاسی اقتدار میں خواتین کی موجودگی عدم استحکام، ادارہ جاتی پسپائی اور اچانک برطرفیوں کا شکار دکھائی دیتی ہے، سانائے تاکائیچی کا جاپان کی وزیرِاعظم بننا ایک تاریخی اور غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ نہ صرف جاپان کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیرِاعظم ہیں بلکہ فوربس کی 2025 کی فہرست میں طاقتور ترین خواتین میں تیسری پوزیشن پر فائز ہو کر نئی سیاست دانوں میں سب سے بلند مقام حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوئیں۔
فوربس میگزین کے مطابق 2025 میں دنیا کی سو طاقتور خواتین کی فہرست میں مسلسل چوتھے سال بھی پہلے دو مقامات یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈر لائن اور یورپی مرکزی بینک کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ کو حاصل رہے، جو عالمی سطح پر خواتین قیادت کے بالائی درجوں میں استحکام کی علامت ہے۔ تاہم اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس استحکام کے برعکس، دنیا کے مختلف ممالک میں خواتین سیاست دانوں کو شدید سیاسی اتار چڑھاؤ، جماعتی کشمکش اور ادارہ جاتی دباؤ کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تھائی لینڈ کی سابق وزیرِاعظم پیتونگتارن شیناواترا اس عدم استحکام کی واضح مثال ہیں۔ وہ ایک سال سے کچھ زائد عرصے میں ہی آئینی عدالت کے فیصلے کے تحت اخلاقی خلاف ورزی کے الزام میں عہدے سے ہٹا دی گئیں، جس کے بعد ملک سیاسی بحران کا شکار ہو گیا۔ فوربس کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ اعلیٰ سیاسی منصب تک رسائی، اقتدار کے تسلسل کی ضمانت نہیں ہوتی۔
اسی تناظر میں انڈونیشیا کی سابق وزیرِ خزانہ سری مولیانی اندراواتی کی اچانک برطرفی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جنہیں ستمبر 2025 میں محض ایک گھنٹے کے نوٹس پر کابینہ میں رد و بدل کے دوران عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ فوربس کے مطابق یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خواتین کے لیے اقتدار میں بقا اب بھی ایک سنجیدہ چیلنج بنی ہوئی ہے۔
ان تمام پیش رفتوں کے نتیجے میں دنیا بھر میں سربراہِ حکومت یا ریاست کے منصب پر فائز خواتین کی تعداد کم ہو کر 29 رہ گئی ہے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 38 تھی۔ خارجہ تعلقات کونسل سے وابستہ ماہر لنڈا رابنسن کے مطابق، خواتین قیادت اس وقت واضح عددی جمود کا شکار ہے اور ترقی کی رفتار رک سی گئی ہے۔
فوربس کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ریکیاوک انڈیکس، جو خواتین رہنماؤں کے بارے میں عوامی رویوں کو جانچتا ہے، ترقی یافتہ ممالک میں مسلسل دوسرے سال بھی جمود کا شکار رہا ہے۔ جرمنی، امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک میں خواتین قیادت پر عوامی اعتماد میں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ نوجوان نسل میں بھی خواتین سیاست دانوں کی حمایت توقع سے کم ہو رہی ہے، جسے ماہرین نے “دوبارہ قدامت پسندی” کا نام دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیاست میں خواتین کو درپیش نئے چیلنجز میں تنوع اور مساوات کے خلاف مہمات، سیاسی تشدد میں اضافہ، آن لائن نفرت انگیز رجحانات اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا غلط استعمال شامل ہیں، جو خواتین کی سیاسی شرکت اور بقا کو مزید مشکل بنا رہے ہیں۔
ان حالات کے درمیان فوربس سانائے تاکائیچی کے اقتدار کو 2025 کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی قرار دیتا ہے۔ جاپان ٹائمز کے مطابق ان کا وزیرِاعظم بننا جاپان کی روایتی مردانہ سیاست سے ایک غیر متوقع انحراف ہے، اگرچہ ان کی کابینہ میں خواتین کی محدود نمائندگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صنفی ڈھانچوں میں فوری اور بنیادی تبدیلی ابھی باقی ہے۔
جاپانی میڈیا کے مطابق تاکائیچی کو ملک میں قابلِ ذکر عوامی حمایت حاصل ہے اور حالیہ سروے میں ان کی کابینہ کی مقبولیت 64 فیصد بتائی گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ ان کے مثبت تعلقات، بالخصوص سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ روابط، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
فوربس کی رپورٹ میں افریقہ اور یورپ کی چند مثبت مثالوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں نمیبیا کی صدر نیتومبو ناندی نڈایتوا اور لتھوانیا کی وزیرِاعظم انگا روگینینے شامل ہیں، تاہم مجموعی تصویر تضادات سے بھرپور ہے۔
رپورٹ کے مطابق جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کا ابھار اس بات کی علامت ہے کہ اگرچہ شیشے کی چھت ٹوٹ سکتی ہے، لیکن صنفی طاقت کے ڈھانچوں میں حقیقی تبدیلی ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔ اس کے باوجود، سانائے تاکائیچی کا تجربہ عالمی سیاست میں طاقت کے توازن کو نئے سرے سے متعین کرنے کی ایک ممکنہ شروعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
امریکی فوجیوں میں بے اطمینانی اور تردید میں اضافہ
?️ 23 مارچ 2026سچ خبریں: ایک امریکی میڈیا نے ریاستہائے متحدہ کی فوجی افواج میں
مارچ
عراق میں امریکی فوجی نقل و حرکت کی وجہ؟
?️ 25 اگست 2023سچ خبریں:عراق میں امریکی سفیر ایلینا رومنسکی نے شام اور اردن کے
اگست
وفاقی کابینہ نے کچے کے علاقے میں آپریشن کے لیے فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی
?️ 15 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی کابینہ نے کچے کے علاقے میں آپریشن
اپریل
آئرن ڈوم میں تل ابیب کی بڑھتی ہوئی لت کے بارے میں انتباہ
?️ 22 مئی 2023سچ خبریں:صیہونی میڈیا کسی بھی استقامتی میزائل کے ردعمل کے خلاف آئرن
مئی
خانہ جنگی کے بارے میں اسرائیل کی تشویش
?️ 5 اپریل 2025سچ خبریں: گزشتہ چند ماہ کے دوران صیہونی حکام اور حلقوں نے
اپریل
وزیراعظم شہباز شریف سے ترک وزیر دفاع کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر اظہارِ اطمینان
?️ 9 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف سے ترک وزیر دفاع یاسر
ستمبر
صیہونی انتہاپسند عہدیدار کا مسجد الاقصی کے خلاف شرپسندانہ بیان
?️ 7 مئی 2024سچ خبریں: ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے مشہور انتہا پسند صہیونی گروہوں
مئی
قرض پروگرام کا پہلا جائزہ، حکومت، آئی ایم ایف کے درمیان بیک اپ اقدامات پر اتفاق
?️ 10 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) مالیاتی اور زری اہداف سے انحراف کی صورت
نومبر