?️
بگرام ایئربیس کے ذریعے افغانستان میں امریکہ کی واپسی کا نیا منصوبہ
امریکی جریدے نیشنل انٹرسٹ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بعض امریکی حکام کی جانب سے افغانستان میں بگرام ایئربیس دوبارہ حاصل کرنے کے حالیہ بیانات دراصل واشنگٹن کی ایک وسیع تر جیوپولیٹیکل حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد چین، روس اور ایران کے مقابلے میں خطے میں اپنی موجودگی کو ازسرِنو متعین کرنا ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق امریکہ کو یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے مؤثر اور محفوظ علاقائی شراکت داروں کی ضرورت ہوگی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ تقریروں میں بارہا افغانستان سے بائیڈن حکومت کے اچانک انخلا کو "امریکی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے لندن میں ایک تقریب کے دوران یہ بھی کہا کہ طالبان کو بگرام ایئربیس امریکہ کے حوالے کرنی چاہیے، بصورتِ دیگر "سنگین نتائج” برآمد ہوں گے۔ تاہم طالبان نے اس مطالبے کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا ہے، جب کہ چین نے افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرنے پر زور دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بگرام ایئربیس، جو کابل سے تقریباً ۶۵ کلومیٹر شمال میں واقع ہے، سوویت یونین نے ۱۹۸۰ کی دہائی میں تعمیر کی تھی۔ ۲۰۰۱ میں امریکی حملے کے بعد یہ اڈہ افغانستان میں امریکی فوجی کارروائیوں کا مرکز بن گیا، یہاں تک کہ ۲۰۲۱ میں بائیڈن انتظامیہ نے اسے خاموشی سے خالی کر دیا۔
“نیشنل انٹرسٹکے مطابق بگرام کی جغرافیائی پوزیشن امریکہ کو ایران، وسطی ایشیا، مغربی پاکستان اور خصوصاً چین کے سنکیانگ علاقے پر نگرانی کا غیر معمولی موقع فراہم کرتی ہے۔ اس اڈے سے امریکہ نہ صرف “اوور دی ہورائزن(Over-the-Horizon) طرز کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں مؤثر طور پر انجام دے سکتا ہے بلکہ اسے چین اور روس کے علاقائی منصوبوں جیسے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹواور “گریٹر یوریشین پارٹنرشپ— کے مقابلے میں سیاسی و جغرافیائی دباؤ بڑھانے کا موقع بھی ملے گا۔
تحلیل کے مطابق افغانستان وسطی ایشیا کو بحرِ ہند سے جوڑنے والے متعدد اہم راہداری منصوبوں کے مرکز میں ہے۔ چین اور روس ان راستوں پر اپنے اثر و رسوخ میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ اگر امریکہ بگرام میں دوبارہ قدم جماتا ہے تو وہ ان منصوبوں میں غیر یقینی کی فضا پیدا کر کے بیجنگ اور ماسکو کے اقتصادی مفادات کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن واشنگٹن کے حق میں بدل سکتا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی انخلا کے بعد سے دہشت گرد گروہ دوبارہ فعال ہو چکے ہیں۔ القاعدہ کے رہنما کابل میں آزادانہ نقل و حرکت کر رہے ہیں اور ان کے طالبان سے تعلقات منقطع نہیں ہوئے۔ ایسے حالات میں بگرام پر امریکی موجودگی خفیہ معلومات اور آپریشنل صلاحیت کے لحاظ سے ایک اہم سہارا ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم رپورٹ کے مصنف ناطق ملک زادہ خبردار کرتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کی براہِ راست سیکیورٹی ڈیل انتہائی خطرناک ہوگی، کیونکہ یہ گروہ نہ صرف امریکہ کا نظریاتی دشمن ہے بلکہ بارہا اپنے وعدے بھی توڑ چکا ہے۔
بگرام صوبہ پروان میں واقع ہے، جہاں کی اکثریت تاجک آبادی پر مشتمل ہے جو تاریخی طور پر طالبان مخالف رہی ہے۔ اس لیے اس علاقے میں طالبان پر انحصار کرنا عملی طور پر ناممکن اور پرخطر ہوگا۔
نیشنل انٹرسٹ کے مطابق عبداللہ خنجانی، جو افغان نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے رہنماؤں میں شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ امریکہ کو طالبان کو جائز حکومت کے طور پر تسلیم کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور اس کے بجائے مقامی مزاحمتی گروہوں کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے بالکل ویسے ہی جیسے اس نے ۲۰۰۱ میں اتحادِ شمال کے ساتھ کیا تھا۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
امریکہ کی طاقت اور بیجنگ واشنگٹن تعلقات پر اس کے اثر
?️ 25 جنوری 2023سچ خبریں:امریکی کانگریس کے ریپبلکنز کے لیے نیا سال اس ملک کے
جنوری
بائیڈن کو ٹرمپ کے ساتھ بحث سے پہلے طبی معائینہ کی ضرورت
?️ 25 جون 2024سچ خبریں: وائٹ ہاؤس کے ایک سابق ڈاکٹر نے انتخابی بحث سے
جون
آٹا اسکیم میں 20 ارب روپے کی کرپشن کا اندازہ درحقیقت کم ہے، شاہد خاقان عباسی
?️ 2 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے
مئی
آپ اتنے بچے ہیں جو پنجاب حکومت کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں، عظمیٰ بخاری کا ردعمل
?️ 5 اکتوبر 2025 لاہور: (سچ خبریں) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سینئر وزیر
اکتوبر
وینزویلا کی جانب سے ٹرمپ کے استعماری دعوؤں کی شدید مذمت
?️ 20 دسمبر 2025وینزویلا کی جانب سے ٹرمپ کے استعماری دعوؤں کی شدید مذمت اقوام
دسمبر
روس کا بی بی سی کے نامہ نگار کو نکال کر برطانوی تخریب کاری کا جواب
?️ 14 اگست 2021سچ خبریں:روسی صحافیوں کے خلاف لندن کی لاپرواہی اور تخریبی کاروائی کے
اگست
شمالی وزیرستان میں سکیورٹی خدشات کے باعث دوسرے روز بھی کرفیو نافذ
?️ 21 اپریل 2025شمالی وزیرستان: (سچ خبریں) شمالی وزیرستان میں سکیورٹی خدشات کے باعث دوسرے
اپریل
اسرائیل کو امریکی ناکام پالیسیوں پر عمل نہیں کرنا چاہیے:صیہونی تجزیہ کار
?️ 2 مارچ 2022سچ خبریں:ایک اسرائیلی تجزیہ کار نے تل ابیب حکومت کو مشورہ دیا
مارچ