بن سلمان کے خوابوں کی مخالفت کرنے پر2 سعودی شہریوں کو50 سال قید کی سزا

مخالفت

?️

سچ خبریں:سعودی عرب کی ایک عدالت بن سلمان کے نیوم پروجیکٹ کی مخالفت کرنے کے جرم میں دو سعودی شہریوں کو پچاس سال قید اور پچاس سال ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کیے جانے کی سزا سنائی ہے۔

مڈل ایسٹ آئی نے انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی ایک عدالت نے نیوم پروجیکٹ پر اعتراض کرنے والے دو سعودی شیخوں کے خلاف سخت فیصلے صادر کیے ہیں ، رپورٹ کے مطابق شمال مغربی سعودی عرب میں الحویطات قبیلے کے شیخ عبداللہ الحویطی اور عبداللہ دخیل الحویطی نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے نیوم شہر کی تعمیر کے منصوبے پر اعتراض کیا کیونکہ یہ قبیلہ نیوم شہر کی عین تعمیراتی جگہ پر واقع ہے اور سعودی عدالت نے اس کے لوگوں کو ہجرت پر مجبور کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس پروجیکٹ پر اعتراض کرنے کے جرم میں سعودی عدالت نے عبداللہ الحویطی اور عبداللہ دخیل الحویطی کو 50 سال قید اور 50 سال کے لئے بیرون ملک سفر پر پابندی کی سزا سنائی ہے،القسط نامی تنظیم نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ فیصلے سعودی عرب کی فوجداری اپیل کورٹ نے جاری کیے ہیں۔

نیوم پروجیکٹ سے متعلق ایک اور صورتحال میں وال اسٹریٹ جرنل نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے نیوم میں نائٹ کلب بنانے اور الکحل کے مشروبات کی آزادانہ فراہمی کے منصوبے کی رپورٹ دی ہے، اخبار کے مطابق بن سلمان یہ اقدام سیاحوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کشش بڑھانے کے لیے اٹھائیں گے تاہم ان کے اس اقدام کی سعودی عرب میں مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید مخالفت کی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ نیوم سعودی عرب کے شمال مغرب میں طائف کے علاقے میں ایک میگا سٹی کی تعمیر کا منصوبہ ہے جس کے پہلے حصے کا افتتاح 2025 تک ہونا ہے۔ اس شہر کا رقبہ 26500 مربع کلومیٹر بتایا جاتا ہے یعنی نیویارک سٹی سے 33 گنا اور قطر سے تین گنا زیادہ۔

نیوم سٹی کی تعمیر پر لاگت کا تخمینہ 500 بلین ڈالر لگایا گیا ہے اور رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے دوران فرانسیسی کمپنیاں 1000 کلومیٹر طویل سولر روڈ تعمیر کریں گی اور برطانوی کمپنیاں بھی ونڈ پاور سسٹم کے ذریعے بجلی تیار کریں گی نیز کروز تفریحی کشتیاں بھی بنائیں گی جبکہ ڈچ کمپنیاں بھی مکمل طور پر جدید اور پیش رفتہ پلوں کی تعمیر کے ذریعے بڑی اور اونچی اونچی عمارتوں کو آپس میں جوڑیں گی، تاہم ابھی تک یہ بن سلمان کے خواب ہی ہیں اس لیے کہ بہت ساری کمپنیاں اس پروجیکٹ سے مایوس ہو کر واپس جا چکی ہیں۔

 

مشہور خبریں۔

شہباز شریف کی لندن میں نواز شریف سے ملاقات

?️ 19 ستمبر 2022لندن: (سچ خبریں) اگلے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق بڑھتی قیاس

پاکستان کا رواں ہفتے ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ سے نکلنے کا امکان

?️ 17 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی

فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسی تھنک ٹینک کا جواب

?️ 28 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی میڈیا اور تھنک ٹینکس میں وینزویلا پر سمندری دباؤ

عالمی کپ میں فلسطین کا پرچم صہیونیوں کے لیے وبال جان

?️ 12 دسمبر 2022سچ خبریں:عالمی کپ میں خاص طور پر مراکش کی قومی ٹیم کی

’ایکس‘ پر پابندی ختم کی جائے، خواجہ سعد رفیق

?️ 18 اپریل 2024لاہور: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی

شام کے ساتھ ترکی کی خیانت نیا طریقہ

?️ 16 دسمبر 2024سچ خبریں: ترک وزیر دفاع Yashar Güler نے اتوار کے روز ایک پریس

اسرائیل کی موجودہ تنہائی کی وجہ کیا ہے ؟

?️ 23 ستمبر 2025سچ خبریں: صیہونی تجزیہ کاروں اور سابق عہدیداروں نے زور دے کر کہا

الحدیدہ بندرگاہ ایک فوجی چھاونی ہے: سعودی اتحاد

?️ 20 جنوری 2022سچ خبریں:  سعودی جارح اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے الحدیدہ کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے