اگر مذاکرات میں لچک نہ دیکھائی گئی تو سب سے زیادہ نقصان اسرائیل کو ہو گا:اسرائیل کے سینئر جنرل

 اگر مذاکرات میں لچک نہ دیکھائی گئی تو سب سے زیادہ نقصان اسرائیل کو ہو گا:اسرائیل کے سینئر جنرل

?️

 اگر مذاکرات میں لچک نہ دیکھائی گئی تو سب سے زیادہ نقصان اسرائیل کو ہو گا:اسرائیل کے سینئر جنرل
اسرائیلی فوج کے سینئر کمانڈر اسحاق بریک نے کہا ہے کہ غزہ کی جنگ میں اسرائیل ایک ناقابل واپسی مقام پر پہنچ چکا ہے اور صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ مذاکراتی منصوبے پر دستخط سے ہی بچا جا سکتا ہے۔
بریک نے روزنامہ معاریو میں شائع اپنے نوٹ میں لکھا کہ حماس نے منصوبے کے بنیادی اصولوں کو قبول کیا ہے لیکن اسلحہ کی واپسی یا بین الاقوامی فورس کی تعیناتی پر راضی نہیں ہے اور فوری طور پر تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی بھی نہیں چاہتی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل مذاکرات میں لچک نہ دکھائے تو کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور جنگ جاری رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں ناکامی کے نتیجے میں اسرائیل کو سنگین نتائج کا سامنا ہوگا: قیدی رہیں گے، فوجی مزید ہلاک یا زخمی ہوں گے، سیاسی اور اقتصادی تنہائی بڑھ جائے گی، عرب ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے، اور فوجی و معاشرتی ڈھانچے متاثر ہوں گے۔
بریک نے کہا کہ حماس نے محدود فوجی صلاحیتوں کے باوجود اسرائیلی فوج کی کمزوریوں کا اچھی طرح جائزہ لے رکھا ہے اور ہر جھوٹے دعوے اور فوجی فتح کے بیانات سے آگاہ ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف معاہدہ اور جنگ کا خاتمہ اسرائیل کو بچا سکتا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر دباؤ اور خطرات بڑھ رہے ہیں، جیسے امریکہ، قطر اور ترکی کے تعلقات، جن سے اسرائیل آئندہ شدید چیلنجز کا سامنا کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے حال ہی میں 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے جس میں فوری آتش بس، اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی، اسرائیلی فوج کی واپسی اور غزہ کی بین الاقوامی نگرانی میں بازسازی شامل ہے۔
حماس نے کہا ہے کہ وہ اس منصوبے کے تحت مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن غزہ کا مستقبل اور فلسطینی حقوق صرف ایک قومی، قانونی اور بین الاقوامی فریم ورک میں ہی طے کیے جا سکتے ہیں، جس میں حماس کو فعال اور ذمہ دارانہ حصہ ملے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا منصوبہ نہ صرف فلسطینیوں کے جائز حقوق کو نظر انداز کرتا ہے بلکہ اسرائیل کے مفادات کو مضبوط کرنے اور بحران کو عارضی طور پر قابو میں رکھنے کی کوشش ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ کے ایک ہوٹل میں سعودی وفد اور تل ابیب وزیر جنگ کی بیک وقت موجودگی

?️ 20 مئی 2022سچ خبریں: آج جمعہ کو اطلاع ملی کہ سعودی عرب کے نائب

شام میں صیہونی ربی کا نیا مشن کیا ہے ؟

?️ 8 جنوری 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ہافٹ ٹی وی چینل کے رپورٹر دیویر

امریکہ نے کئی ممالک پر شام کی مدد نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے:بشار الاسد

?️ 9 فروری 2023سچ خبریں:شام کے صدر بشار اسد نے دمشق کا سفر کرنے والے

جرائم کرنا اور انکار کردینا؛صیہونیوں کا وطیرہ

?️ 17 دسمبر 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت نے ایک بار پھر فلسطینی صحافی شیرین ابو عاقلہ

سعودی عرب کو اچانک ایران سے دوستی کا خیال کیسے آگیا؟؟؟

?️ 2 مئی 2021(سچ خبریں) کچھ ہی دن پہلے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

کیا جانسن اقتدار کے بحران سے بچ پائیں گے؟

?️ 6 فروری 2022سچ خبریں:   بورس کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اندرونی احتجاج کا

عمران خان پر الزام لگانے والوں کو شہباز گل کا سخت جواب

?️ 14 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز

ریکوڈک ریفرنس میں سپریم کورٹ کا منصوبے پر باقاعدہ اتھارٹی اور حکومتی پالیسی بنانے کا مشورہ

?️ 10 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کو ریکوڈک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے