امریکی میڈیا کی عراقی عوامی رضاکار فورسز کے خلاف منفی مہم, پارلیمانی انتخابات کے دوران پروپیگنڈا تیز

عراق میں پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ہی بعض امریکی میڈیا اداروں نے ’عوامی رضاکار فورسز کے خلاف منظم اور شدت پسندانہ میڈیا مہم شروع کر دی ہے۔ یہ وہی فورسز

?️

امریکی میڈیا کی عراقی عوامی رضاکار فورسز کے خلاف منفی مہم, پارلیمانی انتخابات کے دوران پروپیگنڈا تیز

 عراق میں پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ہی بعض امریکی میڈیا اداروں نے ’عوامی رضاکار فورسز کے خلاف منظم اور شدت پسندانہ میڈیا مہم شروع کر دی ہے۔ یہ وہی فورسز ہیں جنہوں نے داعش کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔

نیویارک ٹائمز نے منگل کو شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں لکھا کہ امریکی حملے اور برسوں کی فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد عراق اب خطے میں نسبتاً پرسکون ملک کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ بغداد کی سڑکیں انتخابی بینرز سے بھری ہوئی ہیں اور امیدوار ’’طاقت‘‘ اور ’’خوشحالی‘‘ کے نعروں کے ساتھ مہم چلا رہے ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق انتخابات کے پس منظر میں سب سے حساس مسئلہ عراق میں ایران کے اثرورسوخ کو کم کرنے کا معاملہ ہے۔

امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ ایران کے اتحادی کچھ شیعہ مسلح گروہ، جو 2014 میں داعش کے خلاف لڑنے کے لیے ’’عوامی رضاکار فورس‘‘ کی شکل میں منظم ہوئے، اب ملک کی سیاسی ساخت میں بھی اثر رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، امریکی حکام عراق میں اپنے تقریباً 1,300 فوجیوں کی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں اور اسے داعش کے باقی ماندہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی مارک ساوایا نے حالیہ ہفتوں میں عراق کو واضح پیغام دیا ہے کہ واشنگٹن عوامی رضاکار فورسز کے ہتھیاروں کے کنٹرول اور ان کے سیاسی کردار کی محدودیت چاہتا ہے۔ امریکی دباؤ کے نتیجے میں، بعض مبصرین کا ماننا ہے کہ واشنگٹن ایک ایسی حکومت کے قیام کا خواہاں ہے جس میں عوامی رضاکار فورسز سے وابستہ پارٹیوں کی شمولیت محدود ہو۔

اسی دوران، امریکی جریدے فوربز نے انتخابات سے ایک روز قبل دعویٰ کیا کہ حشد الشعبی اسرائیل پر ممکنہ حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج اور انٹیلیجنس ادارے 7 اکتوبر 2023 کے جیسے حملے کا خطرہ محسوس کر رہے ہیں—البتہ یہ دعوے کسی آزاد ذریعہ سے تصدیق شدہ نہیں۔

عراق میں جاری پارلیمانی انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ 329 ارکانِ پارلیمان کے انتخاب کے ساتھ ساتھ نیا پارلیمان ملک کے صدر کا انتخاب بھی کرے گا۔ صدر منتخب ہونے کے بعد وہ سب سے بڑی پارلیمانی جماعت یا اتحاد سے وزیراعظم کا نامزد امیدوار طلب کرے گا، جو کابینہ تشکیل دے کر پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرے گا۔ نئی حکومت آئندہ چار سال کے لیے ملک کی باگ ڈور سنبھالے گی۔

مشہور خبریں۔

راہُل گاندھی کی آمد سے قبل جموں میں دو دھماکے، چھ افراد زخمی

?️ 29 جنوری 2023جموں و کشمیر: (سچ خبریں) انڈیا کے زِیرانتظام جموں و کشمیر میں

نور مقدم قتل کیس: سپریم کورٹ نے مجرم ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کردی، سزائے موت برقرار

?️ 20 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں

Government introduces new rules for public university admission

?️ 15 اگست 2021 When we get out of the glass bottle of our ego

اسلام آباد دھرنے کے شرکا کا کوئٹہ واپسی پر پرتپاک استقبال

?️ 26 جنوری 2024کوئٹہ: (سچ خبریں) اسلام آباد میں ایک ماہ طویل احتجاجی دھرنا دینے

اسرائیل ایک خطرناک بحران کا شکار: صیہونی حکومت

?️ 2 مارچ 2023سچ خبریں:نیتن یاہو کی انتہائی کابینہ کے قیام کے بعد صہیونی معاشرے

پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر منتقل کرنے میں پہلی بڑی رکاوٹ سامنے آگئی

?️ 21 ستمبر 2024کراچی: (سچ خبریں) حکومت کے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کو

برطانوی وزیر خارجہ کے روس کے دورہ پر ماسکو کا ردعمل

?️ 10 فروری 2022سچ خبریں:  روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے آج کہا

امریکہ میں فائرنگ سے 9 افراد زخمی

?️ 1 جولائی 2022سچ خبریں:  امریکی میڈیا نے بتایا ہے کہ ریاست نیو جرسی کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے