امریکا کی سمت اور پالیسیوں کے حوالے سے عوامی بداعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے

امریکہ

?️

امریکا کی سمت اور پالیسیوں کے حوالے سے عوامی بداعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے
 ایک تازہ سروے کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکا کی سمت اور پالیسیوں کے حوالے سے عوامی بداعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور یہ رجحان خاص طور پر ریپبلکن جماعت کے اندر بڑھتا جا رہا ہے۔
ایسوسی‌ایٹڈ پریس اور نورک انسٹی ٹیوٹ کے سروے کے مطابق جون کے بعد سے اُن امریکیوں کی تعداد، جو کہتے ہیں کہ ملک غلط راستے پر چل رہا ہے، 62 فیصد سے بڑھ کر 75 فیصد ہو گئی ہے۔ حیران کن طور پر اس تبدیلی کا بڑا حصہ خود ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن میں سامنے آیا ہے۔ جون میں صرف 29 فیصد ریپبلکنز اس سوچ کے حامی تھے، لیکن اب یہ شرح 51 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
سروے سے پتا چلا کہ نوجوان ریپبلکنز (45 سال سے کم عمر) زیادہ بدبین ہیں اور ان میں سے 61 فیصد سمجھتے ہیں کہ امریکا غلط سمت میں بڑھ رہا ہے، جبکہ یہ شرح بڑی عمر کے ریپبلکنز میں 43 فیصد ہے۔ اسی طرح ریپبلکن خواتین (60 فیصد) مردوں (43 فیصد) کی نسبت زیادہ تشویش ظاہر کر رہی ہیں۔
کارکردگی کے حوالے سے عوامی رائے سخت منقسم ہے۔ ٹرمپ کو سرحدی سکیورٹی (55 فیصد) اور جرائم پر قابو پانے (46 فیصد) کے معاملات میں کچھ حمایت ملی ہے، لیکن معیشت، تجارت، صحت عامہ، خارجہ پالیسی اور فلسطین–اسرائیل تنازع جیسے مسائل میں صرف 40 فیصد لوگ اُن کے اقدامات کو درست سمجھتے ہیں۔ مجموعی طور پر صرف 39 فیصد امریکی ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں جبکہ 60 فیصد ناخوش ہیں۔
سروے کے مطابق تقریباً 60 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ نے نئے محصولات لگانے، صدارتی اختیارات کے استعمال اور فوج یا فیڈرل فورسز کو شہروں میں تعینات کرنے میں حد سے زیادہ رویہ اپنایا۔ ڈیموکریٹس تقریباً متفق ہیں کہ ٹرمپ نے ہر معاملے میں حد پار کی ہے، جبکہ ریپبلکنز کی اکثریت ان اقدامات کی حمایت کرتی ہے، اگرچہ ایک چوتھائی نے گارڈ نیشنل کے استعمال کو حد سے زیادہ کہا اور ایک تہائی نے محصولات میں اضافے پر تحفظات ظاہر کیے۔
امریکی عوام صرف ٹرمپ ہی نہیں بلکہ بڑی جماعتوں سے بھی مطمئن نہیں ہیں۔ 54 فیصد نے ٹرمپ کے بارے میں منفی رائے دی، تقریباً اتنی ہی شرح (53 فیصد) نے ڈیموکریٹک پارٹی کو ناپسند کیا، اور 51 فیصد نے ریپبلکن پارٹی کے بارے میں بھی منفی تاثر ظاہر کیا۔
یہ سروے 11 تا 15 ستمبر 2025 کو 1,183 بالغ امریکیوں سے ٹیلی فونک انٹرویو کے ذریعے کیا گیا، جس میں ±3.8 فیصد کی خطائے امکان رکھی گئی۔
حالیہ دنوں میں یوگاو اور اکانومسٹ کے ایک دوسرے سروے نے بھی ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی ظاہر کی ہے، جس کے مطابق صرف 39 فیصد لوگ اُن سے مطمئن ہیں جبکہ 57 فیصد ناخوش ہیں۔ اسی طرح سوموس وتانتے نامی گروپ کے ایک مطالعے نے لاطینی نژاد امریکیوں میں بھی ٹرمپ کی مقبولیت میں واضح کمی کی نشاندہی کی ہے۔

مشہور خبریں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ، ہمارے نقصان میں ہے: صیہونی میڈیا 

?️ 24 مئی 2026سچ خبریں:صیہونی ذرائع کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے

سعودی اتحاد کی باردوی سرنگوں کی زد میں آکر مزید چار یمنی بچے شہید

?️ 24 جولائی 2022سچ خبریں:یمنی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی اتحاد کی بھچائی ہوئی

حکومت پریشر میں نہیں آئے گی، کسی کو بدمعاشی نہیں کرنے دے گی۔ شرجیل میمن

?️ 11 اگست 2025کراچی (سچ خبریں) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا

صیہونی حکومت نے غزہ میں بھاری قیمت چکائی

?️ 6 دسمبر 2023سچ خبریں:صیہونی جنگی کابینہ کی مشترکہ پریس کانفرنس نیتن یاہو اور موجودہ

حمیرا اصغر کی پراسرار موت، ڈی آئی جی جنوبی نے اہم حقائق بتادیے

?️ 23 جولائی 2025کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی نو ماہ پرانی

لاہور میں 3 دن تک اسکول بند رہیں گے

?️ 22 نومبر 2021لاہور(سچ خبریں) پنجاب میں اسموگ اور بڑھتی ہوئی آلودگی کے پیش نظر

ایران امریکہ معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے: امریکہ

?️ 13 جون 2026سچ خبریں: پیرس نیوز ایجنسی کے مطابق، ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا

اسلام آباد اور ریاض کا دفاعی معاہدہ تل ابیب کے لیے بڑا دھچکا

?️ 21 ستمبر 2025اسلام آباد اور ریاض کا دفاعی معاہدہ تل ابیب کے لیے بڑا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے