?️
اسرائیل میں بڑھتا ہوا معاشی زوال اور سماجی بحران
صہیونی حکومت کے ایک مطالعاتی مرکز نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کے خلاف جاری جنگ کے اثرات محض فوجی میدان تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ ایک گہرے معاشی اور سماجی بحران میں تبدیل ہو چکے ہیں، جس نے ’’اسرائیل‘‘ کے ریاستی ڈھانچوں اور عوامی بجٹ پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔
سماجی پالیسیوں کے صہیونی تحقیقی مرکز تاوب کی جانب سے شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ فوج کے بحالی (ری ہیبلیٹیشن) شعبے سے مستفید ہونے والے صہیونی فوجیوں کی تعداد 1 لاکھ 32 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
یہ تعداد غزہ جنگ کے آغاز کے بعد تقریباً 16 ہزار کے اضافے کو ظاہر کرتی ہے، جو صہیونی فوج میں جانی نقصانات اور بالخصوص جسمانی و نفسیاتی صدمات کے پھیلاؤ کی سنگینی کی عکاسی کرتی ہے۔ بحالی خدمات کے لیے بڑھتی ہوئی درخواستیں صہیونی صحت اور فلاحی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں، جو پہلے ہی وسائل اور افرادی قوت کی کمی کا شکار تھا۔
اسی تناظر میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی وزارتِ فلاح و بہبود کو جنگ کے سماجی اثرات سے نمٹنے میں بے مثال چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگرچہ 2024 میں اس وزارت کا بجٹ تقریباً 400 ارب شیکل (تقریباً 111 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گیا ہے، جو 2023 کے مقابلے میں 38 ارب شیکل (تقریباً 10.3 تا 10.6 ارب ڈالر) کا اضافہ ہے، تاہم اس اضافے کا بڑا حصہ 7 اکتوبر 2023 کے واقعات اور دو سال سے زائد جاری جنگ کے نقصانات پورے کرنے پر خرچ ہو رہا ہے، نہ کہ فلاحی خدمات کی توسیع پر۔
مطالعے کے مطابق، اس دباؤ کی سب سے نمایاں علامت 2024 میں سماجی تحفظ کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق یہ اخراجات تقریباً 26 ارب شیکل (تقریباً 7 ارب ڈالر) تک پہنچ گئے، جبکہ جنگ سے ایک سال قبل یہ محض 1.7 ارب شیکل (تقریباً 465 ملین ڈالر) تھے۔
اس اضافے کی بنیادی وجہ ریزرو فوجیوں کو دی جانے والی تنخواہیں اور مراعات ہیں، جنہیں طویل عرصے کے لیے فوجی خدمت پر بلایا گیا۔ اس عمل نے ایک جانب لیبر مارکیٹ کو متاثر کیا اور دوسری جانب کابینہ پر بھاری مالی بوجھ ڈال دیا۔
رپورٹ کے مطابق، جنگ کا بوجھ صرف فوجیوں تک محدود نہیں۔ سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں صہیونی آبادکار مہینوں سے سرکاری خرچ پر ہوٹلوں اور عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔ اس کے علاوہ جسمانی اور نفسیاتی طور پر متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر تقریباً 32 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جبکہ جنگ سے پہلے یہ تعداد لگ بھگ 5 ہزار تھی۔ اس اضافے نے علاج، نفسیاتی معاونت اور سماجی سہولیات پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔
مرکز تاوب کی تحقیق میں افرادی قوت کے بحران کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اندازوں کے مطابق، جنگ کے نفسیاتی و سماجی اثرات سے نمٹنے کے لیے صہیونی وزارتِ فلاح کو کم از کم 1300 اضافی سماجی کارکنوں کی ضرورت ہے، جو صہیونی معاشرے میں گہرے ساختی بحران کی علامت ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق، یہ تمام اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ غزہ کے خلاف جنگ نے نہ صرف فلسطینی عوام پر تباہ کن اثرات ڈالے ہیں بلکہ اس کے نتائج بڑھتے ہوئے ’’اسرائیل‘‘ کے اندر بھی لوٹ رہے ہیں، جہاں معیشت، فلاحی نظام اور سماجی ڈھانچہ شدید دباؤ میں ہے۔ یوں جنگی جرائم کی قیمت صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ریاستی خزانے اور معاشرتی استحکام سے بھی ادا کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ مرکز تاوب برائے سماجی پالیسی تحقیق، صہیونی حکومت کے اہم مطالعاتی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس مرکز کی رپورٹ “اسٹیٹ آف دی نیشن 2025” میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر معاشی نمو ناکافی رہی تو ’’اسرائیل‘‘ ایک ایسے دائرۂ باطل میں پھنس سکتا ہے جو عوامی خدمات کے اخراجات محدود کر دے گا اور مستقبل میں اس کی سلامتی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت کو بھی کمزور کر دے گا۔


مشہور خبریں۔
ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دے دیا
?️ 16 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تحریک لبیک پاکستان کو حکومتِ پاکستان نے کالعدم
اپریل
امریکی عوام ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے قابل نہیں سمجھتے
?️ 24 ستمبر 2025امریکی عوام ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے قابل نہیں سمجھتے ایک
ستمبر
کینیڈین وزیر اعظم سیاسی عہدوں کو کس لقب سے نوازا؟
?️ 17 مارچ 2024سچ خبریں: کینیڈا کے وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ وہ اگلے
مارچ
میئر کراچی الیکشن، سندھ ہائیکورٹ کا تمام منتخب نمائندوں کی شرکت یقینی بنانے کا حکم
?️ 9 جون 2023کراچی: (سچ خبریں) سندھ ہائیکورٹ نے حکومتِ سندھ کو پاکستان تحریک انصاف
جون
پی ٹی اے نے وی پی این سروس فراہم کنندگان کو کلاس لائسنس کے اجرا کا آغاز کر دیا
?️ 24 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں ڈیٹا سروسز کی فراہمی کے لیے
فروری
ضلع کرم میں جنگ بندی کے بعد عارضی طور پر امن قائم
?️ 2 دسمبر 2024ضلع کرم: (سچ خبریں) ضلع کرم میں گزشتہ ہفتے ضلعی انتظامیہ کی
دسمبر
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے قسط کے اجرا کے لیے آخری شرط پوری کرلی ہے۔
?️ 2 اگست 2022اسلام آباد(سچ خبریں)اسلام آباد میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی
اگست
صیہونیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے فلسطینی طلباء کی تعداد
?️ 15 دسمبر 2023سچ خبریں: فلسطینی وزارت تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ 7 اکتوبر
دسمبر