?️
سچ خبریں: مائیکل میرو نے نیوز وان ویب سائٹ پر شائع ایک یادداشت میں ماہرین کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل معاشی زوال کے گرداب میں پھنس گیا ہے۔
جنگی اخراجات نے اسرائیلی معاشرے کی کمر توڑ دی ہے، جبکہ معکوس ہجرتِ دماغ (Reverse Brain Drain) نے مقبوضہ علاقوں میں خدمات کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
اسرائیلی تجزیہ نگار نے اپنی تحریر میں اعتراف کیا ہے کہ حالیہ برسوں میں سیاستدانوں اور حکومتی ترجمانوں کی طرف سے پیش کی جانے والی سب سے عام دلیل اسرائیلی معیشت کی غیر معمولی لچک کے گرد گھومتی ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ نجی شعبہ قابلِ تعریف لچک رکھتا ہے، اور کاروباری افراد و مزدور ہمیشہ جانتے ہیں کہ بحران کے بعد معمول پر کیسے لوٹنا ہے، اور جب جنگ تھم جائے گی تو ترقی خود بخود واپس آ جائے گی۔
تاہم، مصنف نے اسرائیلی ماہرِ معاشیات پروفیسر عمیر موآو کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگرچہ یہ دعویٰ جزوی طور پر درست ہے، لیکن اس کی بڑی مقدار ایک خطرناک فریب پر مبنی ہے۔ اسرائیلی ماہر تسلیم کرتے ہیں کہ یہ دعویٰ ہمیں پرسکون کرنے، گمراہ کرنے اور تلخ حقیقت دیکھنے سے روکنے کے لیے بنایا گیا ہے کہ ہم ایک عارضی بحران سے نہیں گزر رہے، بلکہ یہ ایک مستقل ساختی تبدیلی ہے جو اسرائیل کو مکمل شعور کے ساتھ اس چیز کی طرف لے جا رہی ہے جسے وہ نیچے کی طرف بڑھنے والا چکر کہتے ہیں۔
پروفیسر موآو، جو ریشمان یونیورسٹیوں میں پڑھاتے ہیں، مزید کہتے ہیں کہ عارضی فریب اور حسابات جو اسرائیل کے ہر خاندان کو درپیش ہوں گے، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہمیں وہ کام کرنا چاہیے جو حکومت کرنے سے انکارکرتی ہے — دراصل تجریدی معاشی تصورات کو ہر خاندال کی سمجھ میں آنے والی زبان میں ڈھالنا ہے۔
سیکورٹی اخراجات کا مجموعی بوجھ، خواہ وہ براہِ راست ہو یا بالواسطہ، سینکڑوں ارب شیکل تک جا پہنچا ہے۔ حکومت اس اضافے کو ذمہ دارانہ پالیسیوں سے پورا نہیں کر رہی، بلکہ بنیادی طور پر قرضوں میں اضافہ اور بڑی بڑی قرضے لے کر اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
موآو کے حسابات کے مطابق، اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ اسرائیل میں ہر خاندان مستقل طور پر اوسطاً تقریباً ایک لاکھ شیکل کے قرضے میں جکڑا ہوا ہے۔ ہم نے بہت بڑا قرضہ لیا ہے، لیکن ہمارے پاس گروی رکھنے کے لیے کوئی نئی اثاثہ نہیں ہے — ہمارے پاس صرف قرضے اور سود ہیں، جو مستقبل میں ہر ایک کو ملنے والی خدمات کی لاگت میں اضافہ کریں گے۔
لیکن مالی قرضہ سب سے مشکل مسئلہ نہیں ہے جس کا موآو ذکر کرتے ہیں۔ اصل خطرہ معیشت کے بنیادی انجنوں کا بکھرنا ہے جن پر اسرائیل اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیلی معیشت ماہرین، سائنسدانوں، کاروباری افراد اور ڈاکٹروں کے ایک چھوٹے سے گروپ پر منحصر ہے۔ کئی دہائیوں میں پہلی بار، ہجرت کے اعداد و شمار دماغی ہجرت اور ان کی معکوس ہجرت کا ایک پریشان کن رجحان ظاہر کر رہے ہیں۔
پروفیسر موآو خبردار کرتے ہیں کہ یہ بڑھتا ہوا عمل اسرائیل کے لیے تباہ کن ہے: دماغی ہجرت ٹیکس اور بچت کا بوجھ ان لوگوں پر بڑھا دیتی ہے جو رہ جاتے ہیں، اور مزید لوگوں کو اسرائیل سے باہر متبادل تلاش کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس عمل کے نتائج کسی بڑے دھماکے کی طرح ظاہر نہیں ہوتے، بلکہ آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں، جیسے مینڈک کا آہستہ آہستہ ابلتے پانی میں پکنے والا قصہ۔
ہم اسے ماہر ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی طویل اور بے ترتیب قطاروں، عوامی نظاموں کے کٹاؤ، اور ان لوگوں کی زندگی کے معیار کو شدید نقصان پہنچنے کی صورت میں محسوس کریں گے جن کے پاس باہر جانے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
معکوس ہجرت اور دماغی ہجرت کے مسئلے، غیر پورے کیے گئے وعدوں، اور ان موروثی خطرات سے نمٹنے کے بجائے ادھورے اور سطحی حل تجویز کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، پروفیسر موآو ایک ایسے ڈھانچے کی تصویر پیش کرتے ہیں جو ہر شعبے میں — تعلیم اور صحت سے لے کر نقل و حمل تک — ناکام ہو چکا ہے، اور جو صرف پاپولسٹ آرائشی حل تیار کرنے کا ماہر ہے۔
اس اصلاحات کی سب سے نمایاں مثال وزارتِ نقل و حمل میں دیکھی جا سکتی ہے، جہاں پاپولسٹ اقدامات جیسے کہ ریٹائرڈ افراد کے لیے مفت سفر کی اسکیم کے ذریعے ان مسائل کو تشہیری انداز میں نظرانداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس ماہر کے مطابق، یہ اقدام بظاہر ایک اچھی سماجی اسکیم لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک غلط طرزِ عمل ہے اور اس سے بڑا معاشی نقصان ہوتا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
نسل پرستی کے بارے میں برطانوی عوام سڑکوں پر
?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں: انگلینڈ میں 24 سالہ سیاہ فام نوجوان کرس کابا کے
ستمبر
امریکہ نے اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے تائیوان کا سہارا لیا ہے:چینی سفیر
?️ 13 اگست 2022سچ خبریں:ماسکو میں چین کے سفیر کا کہنا ہے کہ امریکہ سرد
اگست
غزہ کی پٹی بچوں کے لیے دنیا کا خطرناک ترین مقام
?️ 23 نومبر 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ کے ڈائریکٹر جنرل نے اقوام
نومبر
حزب اللہ 40 سال سے امام حسین کے راستے پر چل رہی ہے:نصراللہ
?️ 9 اگست 2022سچ خبریں:لبنان کی حزب اللہ تحریک کے جنرل سکریٹری نے تاکید کی
اگست
کابینہ اراکین کفایت شعاری کی پالیسی پر مکمل عملدرآمد سے تاحال گریزاں
?️ 14 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے گزشتہ ماہ
مارچ
اسرائیل کے جرائم کے خلاف دنیا کی بے توجہی پر غزہ حکومت کی شدید تنقید
?️ 27 اکتوبر 2024سچ خبریں:اسرائیلی فوج گزشتہ 23 دنوں سے غزہ کی پٹی کے شمال
اکتوبر
وفاقی حکومت کا 28 مئی کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان
?️ 20 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے 28 مئی کو یوم تکبیر
مئی
تیران اور صنافیر جزائر کی ملکیت سعودی عرب کو منتقل کرنے کا عمل معطل
?️ 24 دسمبر 2022سچ خبریں:امریکی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مصری حکام نے بحیرہ
دسمبر