آفریقہ میں ۶ دہائیوں میں ۲۰۰ فوجی بغاوتیں, مالی سے سوڈان تک تلخ داستان

افریقا

?️

آفریقہ میں ۶ دہائیوں میں ۲۰۰ فوجی بغاوتیں, مالی سے سوڈان تک تلخ داستان

گزشتہ چھ دہائیوں میں افریقہ میں تقریباً ۲۰۰ فوجی بغاوتیں ہوئی ہیں، اور سوڈان اس بحران کی سب سے نمایاں مثال ہے، جہاں فوجی اقتدار میں رہ کر شہری اصلاحات کو شدید محدود کرچکے ہیں۔ افریقہ میں حکومتیں بار بار تبدیل ہوئیں، مگر ادارہ جاتی ڈھانچے اکثر ناکام رہے اور نسلی و معاشرتی اختلافات نے بیرونی طاقتوں کو اثرورسوخ کے لیے میدان فراہم کیا۔

فوجی بغاوتوں نے افریقہ کی سیاسی صورتحال میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ افریقی ممالک میں فوج کی سیاسی مداخلت معمول بن گئی اور مسلح تصرف اقتدار ایک مستقل رجحان بن گیا ہے۔ حالیہ بغاوتیں مالی (۲۰۲۰)، چاڈ (۲۰۲۱)، گنی اور سودان (۲۰۲۱)، برکینا فاسو (۲۰۲۲)، نیجر اور گابون (۲۰۲۳) میں ہوئی ہیں، جن میں نصف سے زیادہ کامیاب رہیں۔ کامیاب بغاوتوں میں فوج نے موجودہ حکومت کو ختم کر کے نیا نظام قائم کیا۔

ماہرین کے مطابق افریقہ میں اس بحران کی جڑیں کمزور شہری اداروں، نسلی و سماجی فرق، اقتصادی بحران اور حکومت کی ناکامی میں ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور سروسز کی کمی نے عوام کی ناراضگی بڑھائی اور حکومتوں کو کمزور کیا۔ اس دوران، بیرونی طاقتیں بھی براہ راست یا بالواسطہ مداخلت کرتی ہیں، جس سے قومی خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔

سودان اس بحران کا واضح نمونہ ہے۔ آزادی کے بعد سے ۱۷ بغاوتیں ہوئیں جن میں ۷ کامیاب رہیں۔ فوج ملک کے ۸۰ فیصد سے زائد وسائل پر قابض ہے اور عمر البشیر کے سقوط کے بعد بھی شہری اصلاحات فوجی طاقت کے سامنے رک گئی ہیں۔ ۲۰۲۳ میں فوج اور "پشتیبانی سریع” کے درمیان جھڑپیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ملک میں مرکزی حکومت اور نیم سرکاری اداروں کے درمیان تنازع ایک ساختی مسئلہ بن چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجی اقتدار کی موجودگی نہ صرف قانونی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک ساختی مسئلہ بھی ہے، جو شہری اداروں کو مضبوط ہونے سے روکتا اور سیاسی استحکام میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ابتدائی عوامی حمایت کے باوجود، بغاوتیں اکثر جمہوری عمل کو روک کر مضبوط استبداد پیدا کرتی ہیں۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ افریقہ میں بحران کے چکر کو توڑنے کے لیے شہری اداروں کو مضبوط بنایا جائے، فوج پر نگرانی کے حقیقی مکینزم قائم کیے جائیں، اور سماجی و سیاسی نخبگان کے درمیان جامع مکالمہ ہو۔ سودان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی مشروعیت فوج کے ہاتھ میں ہی رہے گی یا شہری اور سماجی ادارے مستقبل کے نظام کی تشکیل میں باقاعدہ کردار ادا کر سکیں گے۔

مشہور خبریں۔

یوکرین روس کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبردار

?️ 27 اگست 2022سچ خبریں:    روس یوکرین جنگ کے درمیان کیف نے ہفتہ کے روز

اسرائیلی فوج نے دیگر محکموں کا بجٹ بھی کیا ہضم 

?️ 21 اگست 2025سچ خبریں: صیہونی رجیم کے ٹی وی چینل کے انکشاف کے مطابق،

پاکستان کا ایران کیساتھ گیس پائپ لائن کی تعمیر سے قبل سروے کی دوبارہ توثیق کا فیصلہ

?️ 7 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے 80 کلو میٹر ایران پاکستان گیس

کیف حکومت مقدمے سے بچنے کے لیے جنگ جاری رکھے ہوئے ہے : روس

?️ 27 فروری 2026 سچ خبریں:روسی ڈوما کے رکن امیر خامیتوف نے یوکرین کے صدر

عراق میں آئندہ وزیراعظم کے لیے ابتدائی سمجھوتہ

?️ 22 دسمبر 2025عراق میں آئندہ وزیراعظم کے لیے ابتدائی سمجھوتہ عراقی سیاسی ذرائع کے

عمران خان آنے والی نسلوں کے لئے  کام کر رہے ہیں: شہباز گل

?️ 18 جون 2021اسلام آباد( سچ خبریں) وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گِل کا کہنا

جوہر ٹاؤن دھماکے میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کر لیا گیا: بزدار

?️ 28 جون 2021لاہور(سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے کہا کہ جوہر ٹاؤن دھماکے

لبنان میں حالات خراب کرنے کی سازش

?️ 15 فروری 2025 سچ خبریں:بیروت ایئرپورٹ کے راستے میں پرامن احتجاجی مظاہروں کے دوران

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے