?️
سچ خبریں:لبنان میں اچانک جنگ بندی کے بعد صہیونی ذرائع ابلاغ اور سیاست دانوں نے ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، بعض صہیونی تجزیہ کاروں نے اس صورت حال کو ایران کے سامنے ٹرمپ کی پسپائی قرار دیا ہے۔
صہیونی ذرائع ابلاغ نے لبنان میں اچانک جنگ بندی کے قیام کو ایران کے سامنے ڈونلڈ ٹرمپ کی پسپائی قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر اپنی برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے ٹرمپ کو نہ نہ کہہ سکنے پر بھی شدید تنقید کی ہے۔
جنوبی بیروت اور ضاحیہ پر صہیونی فوج کے حملوں کے عزائم کو روک دیا گیا، جو ان حملوں کے خلاف ایران کے سخت مؤقف کے نتیجے میں ممکن ہوا، اس صورتحال نے صہیونی ذرائع ابلاغ میں غم و غصے کی لہر پیدا کر دی ہے۔
صہیونی اخبار معاریو نے اس حوالے سے ایک سینئر فوجی عہدیدار کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ تل ابیب کو اس جنگ بندی کی تفصیلات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں، جسے ان کے بقول ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مسلط کیا اور بعد ازاں ٹرمپ نے اسے اسرائیل پر نافذ کیا۔
صہیونی صحافی باراک راوید نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں کشیدگی کی نشاندہی کی ہے۔
عبرانی زبان کی ویب سائٹ مفزاکی راعم نے لکھا کہ اسے اس بات پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ صہیونی حکومت بنیامین نیتن یاہو کے اختیار میں ہے۔
اسی تناظر میں صہیونی حکومت کے انتہا پسند وزیر ایتامار بن گویر نے نیتن یاہو سے مخاطب ہو کر کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ٹرمپ کو نہ کہیں۔
صہیونی فوج کے ریڈیو کے نامہ نگار دورون کادوش نے لبنان میں صہیونی حکومت کی کارروائیوں اور لبنانی دیہات کے خلاف اس کی تباہ کن پالیسیوں کا ذکر کیے بغیر دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی کارروائیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی سرخ لکیر صرف شمالی اسرائیل میں صہیونی بستیوں پر حملے ہیں۔
معاریو کے ایک اور صہیونی تجزیہ کار بن کاسبیت نے لکھا کہ نیتن یاہو کو کم از کم ایک کام کرنے کی ہمت دکھانی چاہیے اور وہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ کو نہ کہنا۔ اگر وہ ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیتن یاہو میں نہ تو ٹرمپ کو نہ کہنے کی طاقت ہے اور نہ ہی اسرائیل کو درپیش خطرات کا درست تعین کرنے کی صلاحیت۔ ان کے بقول نیتن یاہو مختلف محاذوں پر کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکے اور نہ ہی وہ اسرائیل کے ٹکڑے ہونے کے عمل کو روکنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
بن کاسبیت نے مزید کہا کہ فضول باتیں، کھوکھلی تقاریر، جھوٹے وعدے اور عوامی رائے کو گمراہ کرنا ہی وہ کام ہیں جو نیتن یاہو گزشتہ تیس برسوں سے بخوبی انجام دیتے آئے ہیں۔


مشہور خبریں۔
اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار، انڈیکس میں 676 پوائنٹس کا اضافہ
?️ 27 نومبر 2023کراچی: (سچ خبریں) پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تیزی کا
نومبر
قیدیوں کی رہائی کا واحد طریقہ مذاکرات اور جنگ کا خاتمہ
?️ 3 مارچ 2025سچ خبریں: قابض حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی رکاوٹوں
مارچ
اراضی کیس: سابق ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کی ضمانت منظور
?️ 10 نومبر 2022لاہور: (سچ خبریں) اینٹی کرپشن عدالت نے اراضی کیس میں پنجاب اسمبلی
نومبر
انسداد دہشتگردی مخالفین کو کچلنے کا سعودی حکومت کا بہانہ:اقوام متحدہ
?️ 27 مارچ 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدہ دار نے سعودی حکام کی
مارچ
اوپیک تیل کی پیداوار میں کمی غیر عاقلانہ
?️ 9 اکتوبر 2022سچ خبریں: امریکی وزیر خزانہ جینٹ ییلن نے دعویٰ کیا کہ تیل
اکتوبر
امریکہ ایران کے مقابلے میں معلوماتی جنگ میں بھی ناکام؛ مغربی تھنک ٹینک کی رپورٹ
?️ 16 مئی 2026سچ خبریں:سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق ایران
مئی
’بھارت سمجھتا ہے ایک کانفرنس رکھ کر وہ کشمیر ی عوام کی آواز دبا سکتا ہے، ہم اس کو غلط ثابت کریں گے‘
?️ 21 مئی 2023مظفر آباد: (سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے
مئی
دنیا کی آبادی 8 ارب سے تجاوز کر گئی
?️ 19 نومبر 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے سرکاری تخمینہ کے مطابق15 نومبر 2022 کو دنیا
نومبر