یحیی السنوار؛ نوجوانوں کے لیے الہام بخش مجاہد

یحیی السنوار؛ نوجوانوں کے لیے الہام بخش مجاہد

?️

سچ خبریں:فلسطینی مزاحمت کے قائدین، خصوصاً یحیی السنوار کی شہادت سے مزاحمتی تحریک میں کوئی خلل نہیں آیا، یہ شہداء نوجوان نسل کے لیے الہام بن چکے ہیں اور آج ہزاروں نوجوان ان کے نقشِ قدم پر چلنے کے عزم کے ساتھ فلسطینی تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای نے شہید مجاہد یحیی السنوار کی شہادت پر اپنے پیغام میں مسلم امہ اور خطے کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ایسے شخص کی شہادت، جس نے دشمنانِ غاصب اور ظالم کے خلاف زندگی گزاری، اس کے لیے بہترین انجام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اتنی مشکلات کے باوجود حماس کیسے اتنی طاقتور ہو گئی؟

اس کی جدائی بلاشبہ مزاحمتی محاذ کے لیے دردناک ہے، مگر شیخ احمد یاسین، فتحی شقاقی، رنتیسی، اسماعیل ہنیہ جیسے شہداء کے بعد بھی فلسطینی مزاحمتی تحریک کا سفر جاری رہا، اور سنوار کی شہادت سے بھی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی، حماس زندہ تھی اور زندہ رہے گی۔”

آیت اللہ خامنہ ای کا حماس کی زندگی پر زور ان الزامات اور خیالات کا رد ہے جو حماس کے تین اہم قائدین کی شہادت کے بعد اس کی طاقت میں کمی سے متعلق کیے جا رہے ہیں۔

غزہ کی مزاحمتی تحریک کے اس مجاہد کی شہادت کے بعد بعض حلقوں نے حماس کو کمزور کرنے کا دعویٰ کیا، مگر فلسطینی صورتحال کا تجزیہ ان دعوؤں کو بے بنیاد ثابت کرتا ہے۔

انسانِ توحیدی: الہام کا سرچشمہ

بڑے لوگ اپنی زندگی اور شہادت سے انقلابی الہام چھوڑ جاتے ہیں۔ اسلامی مزاحمت میں یہ شخصیات خود کو مکتب کا پیروکار سمجھتی ہیں اور موت سے خوفزدہ نہیں ہوتیں، شہید یحیی السنوار نے کہا: یہ مکتب کی سوچ ہےنہ کہ شخص کی۔

صیہونی میڈیا نے یحیی السنوار کی تصویر نشر کی، جس میں وہ چفیہ پہنے اسرائیلی ڈرون کی طرف لکڑی پھینک رہے ہیں، مگر صیہونی میڈیا اس شخصیت کی الہام بخشی کو سمجھنے سے قاصر رہا۔ بصورت دیگر، وہ سنوار کی موت کو یوں نشر نہ کرتے۔

یحیی السنوار: مزاحمتی تحریک میں ایک علامت

تصاویر کے بعد اسرائیلی میڈیا نے تسلیم کیا کہ سنوار ایک علامت بن چکے ہیں۔ ایک عبری رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حلقے حیران ہیں کہ حماس کا سربراہ اس جگہ موجود تھا جہاں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ ہو رہی تھی۔

رفح کی طرف سنوار کا رخ سیاسی و سکیورٹی حلقوں کے لیے حیرانی کا باعث بنا، جو مزاحمتی مکتب اور اس کی الہام بخشی کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔

اگر ایک لیڈر چلا جاتا ہے تو دوسرہ اس کی جگہ لے لیتا ہے

فلسطینی مزاحمتی تحریک کے رہنماؤں کا قتل، جیسے یحیی السنوار، حزب اللہ اور حماس کی تحریک میں خلل ڈالنے میں ناکام رہا ہے، شہداء نوجوان نسل کے لیے الہام ہیں، جو ان کے نقش قدم پر چلنے کے لیے تیار ہیں۔

شہید اسماعیل ہنیہ نے اپنی آخری ملاقات میں آیت اللہ خامنہ ای کے سامنے ایک شعر پڑھا کہ اگر ہم میں سے کوئی بڑا رخصت ہوتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا لے لیتا ہے۔

یہ شعر مزاحمتی تجربے کی نمائندگی کرتا ہے، جو مزاحمتی رہنماؤں کے حقیقی ایمان اور اسلامی مزاحمتی مکتب کی عکاسی ہے۔

ابوعبیدہ اور طوفان الاقصی کی سالگرہ

عزالدین قسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ نے طوفان الاقصی کی سالگرہ کے موقع پر کہا کہ اگر قتل سے مزاحمتی تحریک ختم ہوتی تو عزالدین القسام کی شہادت کے 90 سال بعد اس تحریک کا وجود نہ ہوتا۔

تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو ابوعبیدہ کا بیان محض نعرہ نہیں بلکہ ناقابل تردید حقیقت ہے،آیت اللہ خامنہ ای نے شہید یحیی السنوار کی شہادت پر کہا کہ ان کی شہادت سے نہ صرف مزاحمت میں کمی نہیں آئی بلکہ فلسطینی جدوجہد میں ہمیشہ اضافہ ہوا ہے۔

2000 سے 2005 کا دور: خونریز ترین مزاحمت

سال 2000 میں شارون کے مسجد اقصیٰ میں داخلے کے ساتھ نئی انتفاضہ شروع ہوئی، جس نے پانچ سال کی مزاحمت کو جنم دیا۔ 2004 میں مزاحمتی قائدین کا قتل ہوا، شیخ احمد یاسین، حماس کے بانی، کو مسجد سے واپسی پر شہید کیا گیا۔

شیخ یاسین کی شہادت کے بعد رنتیسی کی قیادت

شیخ یاسین کے بعد عبدالعزیز رنتیسی کو قیادت سونپی گئی، مگر وہ بھی تین ہفتے بعد شہید ہو گئے، 2004 فلسطینی مزاحمت کے لیے خونیں سال رہا، تاہم 2005 میں غزہ کی آزادی نے فلسطینی قوم کو مزید تقویت دی۔

غزہ کی مزاحمت اور اسرائیلی جارحیت

2008 میں صیہونی فوج نے غزہ پر حملہ کیا، لیکن فلسطینی مزاحمت کامیاب رہی۔ 2011 میں شالیت کا تبادلہ 1027 فلسطینی قیدیوں سے ہوا۔ 2014 میں دوبارہ حملے کے باوجود اسرائیل ناکام رہا۔

7 اکتوبر 2023 کا طوفانی آپریشن

غزہ کے مزاحمتی قائدین نے 7 اکتوبر 2023 کو "طوفان” نامی جرات مندانہ آپریشن کیا، جس نے فلسطینی تحریک کو ختم کرنے کی صیہونی منصوبہ بندی کو ناکام بنا دیا۔

مزاحمت کی روح اور نوجوانوں کے لیے الہام

تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا رہی ہے اور حماس و حزب اللہ کے رہنما مسلسل شہید ہو رہے ہیں، مگر دشمن کے تصور کے برعکس یہ قتل مزاحمت کے سفر میں کوئی خلل نہیں ڈال رہے۔

مزید پڑھیں: کیا سید حسن نصراللہ کی شہادت سے حقیقت کا چراغ بجھ جائے گا؟لبنانی اخبار

ہزاروں نوجوان، شہداء کی راہ پر چلنے کو تیار ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مزاحمت کے شہداء آج بھی نوجوان نسل کے لیے الہام کا سرچشمہ ہیں۔

مشہور خبریں۔

اٹلی کی اسرائیل پر شدید تنقید

?️ 7 جون 2025 سچ خبریں:اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے اسرائیل کے غزہ

ماسٹرکارڈ میں فنگر پرنٹ اسکینرسہولت کا اعلان

?️ 8 مارچ 2021لاہور {سچ خبریں} سیول ماسٹرکارڈ میں فنگر پرنٹ اسکینرسہولت کا اعلان کر دیا گیا

صیہونیوں کی لبنان جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش

?️ 19 دسمبر 2024سچ خبریں:لبنانی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی فوج نے لبنان کے مختلف علاقوں

بائیڈن نے اس بار اپنے کوٹ پر پرندے کو سبوتاژ کرنے کے بعد طنز کیا

?️ 13 اپریل 2022سچ خبریں:  امریکی صدر جو بائیڈن نے سائبر اسپیس صارفین، میڈیا اور

ترکی اور ایمنسٹی کا چیلنج

?️ 31 دسمبر 2025سچ خبریں: ترکی ان ممالک میں سے ایک ہے جو جیلوں کی

اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ نے اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف بڑا بیان جاری کردیا

?️ 17 مئی 2021تل ابیب (سچ خبریں) اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے

اسرائیل ایسی صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں میں مزید زندہ نہیں رہے گا: موساد

?️ 15 فروری 2023سچ خبریں:ٹائمز آف اسرائیل نے صیہونی حکومت کی غیر ملکی انٹیلی جنس

یمنی قیدیوں کے تبادلے کی تازہ ترین صورتحال

?️ 18 مئی 2023سچ خبریں:یمن کی انصاراللہ نے قیدیوں کے تبادلے کے لیے نئے مذاکرات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے