?️
سچ خبریں:امریکی صحت کے اداروں اور ماہرین نے ملک میں ڈاکٹروں کی بڑھتی قلت کو صحت کے بنیادی ڈھانچے اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 10 برس میں امریکہ کو تقریباً 187000 ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
امریکہ میں صحت کے اداروں اور تجزیہ کاروں نے ملک میں ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی قلت کے سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے اسے صحت کے نظام کے بنیادی ڈھانچے اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈاکٹروں کی بڑھتی قلت نہ صرف طبی خدمات کی فراہمی کو متاثر کررہی ہے بلکہ وباؤں اور دیگر صحت کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے امریکی نظام کی تیاری اور صلاحیت کو بھی کمزور کرسکتی ہے۔
امریکن ایسوسی ایشن آف میڈیکل کالجز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کو آنے والے برسوں میں بنیادی طبی نگہداشت اور تخصصی شعبوں میں دسیوں ہزار ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ 10 برس کے دوران امریکہ میں تقریباً 187000 ڈاکٹروں کی کمی ہوسکتی ہے۔ اس کمی کا تقریباً نصف حصہ بنیادی طبی نگہداشت کے شعبے میں ہوگا، جہاں مریضوں کو زندگی بچانے والی ضروری طبی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔
ماہرین نے ڈاکٹروں میں پیشہ ورانہ تھکن، معمر آبادی میں اضافے اور تخصصی طبی تربیت کی محدود گنجائش کو اس بحران کی بنیادی وجوہات قرار دیا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو وباؤں اور صحت عامہ کے بحرانوں سے نمٹنے کی امریکی طبی نظام کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ معاشرے کی مجموعی لچک اور ہنگامی امدادی اداروں کی تیاری بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔
یہ صورتحال ایسے ملک میں سامنے آئی ہے جو طبی شعبے میں اپنی جدت اور جدید تحقیق پر فخر کرتا ہے۔ موجودہ بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک معمول کے طبی معائنے کے لیے ڈاکٹر سے وقت لینا بھی بعض مریضوں کے لیے لاٹری جیتنے کے مترادف بنتا جارہا ہے۔
امریکہ اس وقت دیگر ممالک سے ڈاکٹروں اور طبی صلاحیتوں کو راغب کرنے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا ہے۔ امریکی صحت کا نظام کئی دہائیوں سے غیر ملکی میڈیکل اسکولوں کو اپنی افرادی قوت کی بیرونی سپلائی چین کے طور پر استعمال کرتا آیا ہے اور ترقی پذیر ممالک سے ڈاکٹروں کو بھرتی کرکے شہری اور دیہی علاقوں، بالخصوص کنساس کی کلینکس میں ڈاکٹروں کی کمی پوری کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ تاہم تجزیے کے مطابق یہ پالیسی دانش مندانہ حل نہیں ہے۔
گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو امریکی اسپتالوں کے لیے طبی افرادی قوت کے فارم کے طور پر استعمال کرنا اخلاقی اعتبار سے ناقابل دفاع اور اسٹریٹجک اعتبار سے دور اندیشی سے عاری پالیسی ہے۔
غیر ملکی میڈیکل اسکول اکثر ایسے طبی معیارات کے تحت کام کرتے ہیں جو امریکی تربیتی مراکز سے مختلف ہوتے ہیں، جبکہ انہیں نسبتاً کم بجٹ اور بعض اوقات قابل اعتراض منظوری کے نظام کا سامنا بھی ہوتا ہے۔
تجزیے کے مطابق محض غیر مشروط انتظامی منظوریوں کے ذریعے ڈاکٹروں کی کمی پوری کرنے کی کوشش پورے امریکی صحت کے نظام میں معیارِ نگہداشت کے کنٹرول کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
یہ بحران تشویش ناک ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک مصنوعی بھی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد 1997 میں کیے گئے ایک وفاقی پالیسی فیصلے میں رکھی گئی تھی، جس کے تحت طبی تعلیم و تربیت کے لیے میڈیکیئر کی مالی معاونت محدود کردی گئی۔
1997 کے متوازن بجٹ قانون نے وفاقی حکومت کی جانب سے سبسڈی حاصل کرنے والی میڈیکل ریزیڈنسی کی نشستوں کی تعداد پر حد مقرر کردی۔ اس کے نتیجے میں امریکہ کی آبادی میں اضافے اور عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھنے کے باوجود ڈاکٹروں کی تربیت کی گنجائش تقریباً اسی سطح پر برقرار رہی۔
ہر سال ہزاروں باصلاحیت اور ذہین امریکی گریجویٹس میڈیکل اسکولوں میں داخلے کے لیے درخواست دیتے ہیں، لیکن انہیں داخلہ نہیں ملتا۔ ان کے پاس مطلوبہ نمبر، جذبہ اور پیشہ ورانہ صلاحیت موجود ہوتی ہے، تاہم وہ ایک ایسی رکاوٹ سے ٹکرا جاتے ہیں جو 25 سال قبل وفاقی بجٹ کے حساب کتاب سے پیدا ہوئی تھی۔
یوں امریکہ نے ایسا نظام قائم کرلیا ہے جو اپنی ہی باصلاحیت افرادی قوت کو مسترد کرتا ہے اور پھر جب طبی عملے کی کمی پیدا ہوتی ہے تو حیرت کا اظہار کرتا ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ ڈاکٹروں کی تربیت کو حقیقی معنوں میں زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھا جائے۔ جس طرح امریکہ مائیکرو چپس، اسٹیل اور ایرو اسپیس انجینئرنگ کو اہم داخلی بنیادی ڈھانچے کے طور پر دیکھتا ہے اور ان شعبوں کو بیرونی ذرائع پر منتقل کرنا قومی سلامتی کے لیے خطرناک سمجھتا ہے، اسی طرح انسانی جسم بھی بنیادی ترین قومی اثاثہ ہے۔
جو ملک اپنی آبادی کو مناسب طبی سہولت فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، وہ بنیادی طور پر کمزور ہوتا ہے۔
جب کوئی حیاتیاتی وائرس یا جرثومہ تبدیل ہوتا ہے یا کوئی نظامی بحران پیدا ہوتا ہے تو بیرونی سپلائی چینز فوری طور پر متاثر ہوسکتی ہیں۔ ایسے ملک کے لیے جو اپنی بنیادی طبی ضروریات پوری کرنے کے لیے غیر ملکی طبی افرادی قوت پر انحصار کرتا ہو، یہ ایک بڑا ساختی خطرہ ہے۔
اس بحران کا حل 1997 میں میڈیکیئر ریزیڈنسی پروگرام کے لیے مقرر کردہ نشستوں کی حد فوری طور پر ختم کرنے اور ریاستی حکومتوں کی معاونت سے میڈیکل اسکولوں کی تعداد اور گنجائش بڑھانے سے ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ملک کے اندر تعلیم حاصل کرنے والے ان طلبہ کو مکمل اور براہ راست ٹیوشن فیس فراہم کی جاسکتی ہے جو امریکہ کے محروم اضلاع میں 10 برس تک بنیادی طبی خدمات فراہم کرنے کا عہد کریں۔
تجزیے کے مطابق امریکہ ہر سال دفاعی سازوسامان کے لیے دفاعی ٹھیکیداروں پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے، جبکہ میڈیکل ریزیڈنسی کی 20000 نئی نشستوں کی مالی معاونت ایک اسٹیلتھ بمبار تیار کرنے کے منصوبے کی لاگت کے مقابلے میں معمولی رقم ہوگی۔
امریکی منتخب رہنماؤں کو ملک کے اندر تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی تیاری کو اسی عجلت اور اہمیت کے ساتھ دیکھنا چاہیے جس طرح تاریخ میں پالیسی سازوں نے مین ہٹن پروجیکٹ یا اپولو پروگرام کو دیکھا تھا۔
20ویں صدی کے وسط میں شروع کیے گئے یہ بڑے قومی منصوبے اس لیے کامیاب ہوئے کیونکہ پالیسی سازوں نے تسلیم کیا تھا کہ ملک کی بقا کا انحصار داخلی صلاحیتوں کی تربیت اور قومی استعداد پیدا کرنے پر ہے۔
آخر میں، ایک ایسی سپر پاور جو ایٹم کو توڑنے اور انسان کو چاند پر بھیجنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اسے اپنے شہریوں کی دیکھ بھال کے لیے مطلوبہ تعداد میں ڈاکٹروں کی تربیت کے سادہ کام میں ناکام نہیں ہونا چاہیے۔
انتخاب واضح ہے: امریکہ کو ابھی اقدام کرنا ہوگا، ورنہ ایک قابلِ پیشگیری کمی صحت کے ایسے ہمہ گیر بحران میں تبدیل ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کو شدید ضرورت کے وقت طبی نگہداشت کے لیے طویل انتظار کرنا پڑے گا۔


مشہور خبریں۔
مغربی ممالک جان لیں کہ ہم جہاد اور شہادت کے علمبردار ہیں: سعودی شہزادے
?️ 19 اکتوبر 2022سچ خبریں: امریکہ کی جانب سے تیل کی پیداوار کو کم کرنے
اکتوبر
پاکستان نے بھارت سے تجارت کرنے کا فیصلہ منسوخ کر دیا
?️ 2 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں)حکومت نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مشترکہ طور پر
اپریل
The Sacred Balinese "Fire Horse” Dance: Sanghyang Jaran Dance
?️ 23 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such
اگست
28 فروری کے اسرائیلی حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے والے میزائل کا انکشاف
?️ 1 جون 2026 سچ خبریں: ایک دیرینہ اور اہم اعتراف میں، عبرانی زبان کی
جون
چین کی نظر میں امریکہ کی اصلی مشکل
?️ 20 مئی 2021سچ خبریں:چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ آج امریکی معاشرے
مئی
امریکی سینیٹ نے 768 ارب ڈالر کے فوجی بجٹ کی منظوری دی
?️ 16 دسمبر 2021سچ خبریں: بدھ کو سینیٹ میں سینیٹرز نے 768 بلین ڈالر کے
دسمبر
خطیب عرفہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی علامت تھے: انصار اللہ
?️ 18 جولائی 2022سچ خبریں: یمن کی تحریک انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالمالک
جولائی
امریکی میڈیا: ایران کے رہنما کی شاندار الوداعی تقریب اسلامی جمہوریہ کے سیاسی نظام کے استحکام کی علامت ہے
?️ 5 جولائی 2026سچ خبریں: ایران کے شہید رہنما آیت اللہ سید علی خامنہای کی
جولائی