?️
سچ خبریں:امریکی تجزیہ کار تھامس فریڈمین نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے قومی اتحاد کو نقصان پہنچایا، ذاتی مفادات کو ترجیح دی اور امریکہ کے عالمی اتحادیوں کا اعتماد کمزور کر دیا ہے۔
امریکہ کے معروف تجزیہ کار اور تجزیہ نگار تھامس فریڈمین نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ روایتی معنوں میں مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ان کا طرز عمل ایک قومی رہنما کے بجائے ڈاکوؤں کے سردار سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔
فریڈمین نے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے تجزیہ میں لکھا کہ ایسے وقت میں جب امریکہ ایران کے ساتھ فوجی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے اور مغربی ایشیا میں دسیوں ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، کسی بھی صدر کی پہلی اور اہم ترین ذمہ داری داخلی اتحاد اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھنا ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے نہ تو حزب اختلاف کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی امریکی عوام کو کسی مشترکہ قومی موقف پر متحد کرنے کا اقدام کیا۔ اس کے برعکس وہ داخلی سیاسی تنازعات اور متنازع منصوبوں میں مصروف رہے، جنہیں فریڈمین نے ذاتی اور سیاسی مفادات سے جوڑا۔
فریڈمین نے لکھا کہ ایک ایسا ملک جو اندرونی طور پر تقسیم ہو رہا ہو، اس کے فوجیوں کے حوصلے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق داخلی اختلافات امریکہ کے عالمی حریفوں کو بھی یہ امید دیتے ہیں کہ وہ جاری تنازعات میں بہتر شرائط حاصل کر سکتے ہیں۔
حامیوں کے لیے متنازع مالی فنڈ
فریڈمین نے اپنے تجزیہ کا بڑا حصہ ایک 1.7 ارب ڈالر کے متنازع فنڈ پر تنقید کے لیے مختص کیا، جس کا مقصد ان افراد کو معاوضہ دینا تھا جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سابق حکومت کے دور میں ان کے ساتھ سیاسی بنیادوں پر ناانصافی کی گئی۔
تجزیہ کار کے مطابق یہ منصوبہ دراصل ٹرمپ کے وفادار حامیوں کو فائدہ پہنچانے کے مترادف تھا، جن میں وہ افراد بھی شامل تھے جن کے نام 6 جنوری 2021 کو امریکی کانگریس کی عمارت پر حملے کے واقعات سے وابستہ رہے ہیں۔
فریڈمین نے سابق ریپبلکن سینیٹ رہنما Mitch McConnell کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے اس منصوبے کو مکمل طور پر احمقانہ اور اخلاقی طور پر غلط قرار دیا تھا۔
تجزیہ کے مطابق عدالت کی جانب سے اس منصوبے کو عارضی طور پر روکنا وائٹ ہاؤس کے لیے ایک بڑی ناکامی سمجھا گیا، اگرچہ بعد میں ٹرمپ نے اس سے پیچھے ہٹنے کے اشارے بھی دیے۔
فریڈمین کا کہنا تھا کہ یہ رقم ان افراد کو دینے کے بجائے یوکرین کی فوجی حمایت پر خرچ کی جانی چاہیے تھی، جو روسی افواج کے خلاف برسر پیکار ہے۔
انہوں نے ایک اور شق پر بھی اعتراض کیا، جس کے تحت بعض مالیاتی اور ٹیکس معاملات میں مستقبل کی قانونی کارروائیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ فریڈمین کے مطابق اس قسم کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سنگین سوالات پیدا کرتے ہیں۔
تاجر کمانڈر پر تنقید
فریڈمین نے اپنی تنقید کو صرف مذکورہ فنڈ تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے خبر رساں ادارے Associated Press کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے تاجر کمانڈر کی اصطلاح پر بھی گفتگو کی۔
ان کے مطابق ٹرمپ نے اپنی نئی صدارتی مدت کے ابتدائی مہینوں میں ہزاروں مرتبہ حصص کی خرید و فروخت کی، جن میں ایسی کمپنیوں کے حصص بھی شامل تھے جو براہ راست صدارتی فیصلوں سے متاثر ہو سکتی تھیں۔
انہوں نے سابق وائٹ ہاؤس مشیر Richard Painter کے بیان کا حوالہ دیا، جن کا کہنا تھا کہ اگر اسی نوعیت کا اقدام وزیر دفاع کی جانب سے کیا جاتا تو اسے جرم تصور کیا جاتا، اگرچہ صدر کے لیے قانونی طور پر مختلف قواعد موجود ہو سکتے ہیں۔
فریڈمین کے مطابق اس طرز عمل سے امریکی عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ صدر سرکاری اداروں اور اختیارات کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
امریکی اتحادیوں کی بڑھتی ہوئی تشویش
اپنے تجزیہ کے بین الاقوامی حصے میں فریڈمین نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کی پالیسیاں امریکہ کے روایتی اتحادیوں کو واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔
ان کے مطابق یورپی ممالک کی تشویش اب صرف روس تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکہ کے رویے کو بھی ایک اہم مسئلہ سمجھا جانے لگا ہے۔
انہوں نے ان بیانات اور پالیسیوں کا حوالہ دیا جن میں کینیڈا کو امریکہ کی اکیاون ویں ریاست بنانے کی بات، گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے خیالات، تجارتی شراکت داروں پر محصولات اور یوکرین کے لیے فوجی و مالی امداد میں کمی شامل ہیں۔
فریڈمین نے ماہر جغرافیائی سیاست Nader Mousavizadeh کے حوالے سے لکھا کہ ٹرمپ کے دور کے امریکہ کے مقابلے میں بازدار قوت پیدا کرنا اب یورپی اتحادیوں کے لیے اتنا ہی اہم ہوتا جا رہا ہے جتنا روس کے مقابلے میں دفاعی تیاری۔
ان کے مطابق نیٹو کے رکن ممالک اب ٹیکنالوجی، دفاع اور مالیات کے شعبوں میں امریکہ پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے خطرات کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔
فریڈمین نے مزید لکھا کہ جرمنی، سویڈن، فرانس، ناروے، نیدرلینڈز، فن لینڈ اور برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک نے گرین لینڈ میں محدود فوجی دستے بھیجنے کی آمادگی ظاہر کی ہے تاکہ ڈنمارک کی حمایت کی جا سکے، جسے انہوں نے امریکہ پر اعتماد میں کمی کی غیر معمولی علامت قرار دیا۔
نتیجے میں فریڈمین نے کہا کہ امریکی صدارت کے وقار کو نقصان پہنچانے کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ عالمی اتحادوں کے اس پورے نظام کو متاثر کرتے ہیں جس نے دو عالمی جنگوں اور سرد جنگ کے دوران اہم کردار ادا کیا تھا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ طرز عمل جاری رہا تو امریکہ اپنے عالمی اثر و رسوخ اور اتحادیوں کا اعتماد کھو سکتا ہے، جبکہ آنے والی نسلوں کو مزید پیچیدہ اور خطرناک عالمی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
ماہ رمضان کے احترام میں حریت رہنماؤں کو بلا قید و شرط رہا کیا جائے: کشمیری تنظیمیں
?️ 13 اپریل 2021سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر کی متعدد تنظیموں نے بھارتی حکومت سے
اپریل
پوتین سے رابطہ قائم ہے، 8 یوکرینی بچے اپنے خاندانوں سے مل گئے:میلانیا ٹرمپ
?️ 11 اکتوبر 2025پوتین سے رابطہ قائم ہے، 8 یوکرینی بچے اپنے خاندانوں سے مل
اکتوبر
الیکشن کمیشن کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست پر سماعت ہوئی
?️ 3 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی انتخابات میں
فروری
انصار اللہ یمن کا حزب اللہ کی حمایت میں صیہونیوں کے خلاف بیان
?️ 22 ستمبر 2024سچ خبریں: انصار اللہ یمن کے رہنما نے طوفان الاقصی کی سالگرہ
ستمبر
پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان
?️ 3 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے انٹراپارٹی الیکشن کے نتائج
مارچ
اسرائیلی کمانڈر کا غزہ میں گولانی بریگیڈ کی ہلاکتوں کا بے مثال اعتراف
?️ 17 دسمبر 2023سچ خبریں:صہیونی فوج کے جنرل اسٹاف کے سابق نائب موشہ کیبلنسکی نے
دسمبر
ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد نے فلسطینیوں کی حمایت میں اہم بیان جاری کردیا
?️ 19 جولائی 2021ملائیشیا (سچ خبریں) ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد نے فلسطینیوں کی
جولائی
صیہونیوں کے لیے برازیلی صدر کا بیان ناقابل برداشت
?️ 21 فروری 2024سچ خبریں: برازیل اور صیہونی حکومت کے درمیان سفارتی تنازع تیسرے روز
فروری