?️
واشنگٹن (سچ خبریں) امریکا کے گلوپ انسٹی ٹیوٹ کے سروے کے مطابق 64٪ امریکیوں کا خیال ہے کہ امریکا میں سیاہ فام افراد کے خلاف نسل پرستی بڑے پیمانے پر پھیل رہی ہے۔
گلوپ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے کیئے گئے تازہ ترین سروے کے مطابق ، 64٪ امریکیوں کا خیال ہے کہ اس ملک میں سیاہ فاموں کے خلاف نسل پرستی بڑے پیمانے پر پھیل رہی ہے، گلوپ انسٹی ٹیوٹ کے سروے کے مطابق، یہ 2008 کے بعد کی سب سے زیادہ شرح ہے۔
چالیس فیصد سیاہ فام امریکی یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ سیاہ فاموں کے خلاف نسل پرستی بڑے پیمانے پر پھیل رہی ہے، سروے میں، 72 فیصد لاتینیوں نے بھی اس بات پر اتفاق کیا، اور 59 فیصد سفید فاموں کی بھی یہی رائے تھی۔
سروے میں ایک اور سوال اٹھایا گیا جس میں رہائش کے حالات میں بہتری کے بارے میں پوچھا گیا جس میں 69 فیصد امریکیوں نے کہا کہ ان کے شہریت کے حقوق میں بہتری آئی ہے، جو 2020 کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے لیکن پھر بھی یہ 2011 میں باراک اوباما کی حکومت کے مقابلے میں کہ جب 89 فیصد تھی ابھی بھی بہت کم ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکی پولیس، سیاہ فاموں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتی ہے تو ان میں سے 55 فیصد نے کہا کہ پولیس سیاہ فاموں کے ساتھ سفید فاموں کے مقابلے برا سلوک کرتی ہے جو نسل پرستی کی واضح دلیل ہے۔
واضح رہے کہ اس سروے میں، کُل 61 فیصد جواب دہندگان نے سیاہ فاموں کے ساتھ ہونے والے سلوک سے عدم اطمینان کا اظہار کیا اور صرف 38 فیصد نے اطمینان کا اظہار کیا۔
سیاہ فام شہریوں کے خلاف امریکی نسل پرستی کا انکشاف اس ملک کے ایک سیاہ فام شہری کے خلاف ایک سفید فام امریکی افسر کے مجرمانہ سلوک کے بعد ہوا ہے۔
واضح رپے کہ مئی 2020 میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری فارج فلائیڈ کی موت کے بعد امریکا بھر میں احتجاج ہوگیا تھا۔
ان احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب ایک پولیس افسر کی ویڈیو وائرل ہوئی جسے ایک سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی گردن پر گھٹنا رکھے دیکھا جاسکتا تھا۔
سفید فام پولیس افسر سے جارج فلائیڈ زندگی کی بھیک مانگتے رہے لیکن وہ پولیس افسر 9 منٹ تک ان کی گردن پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا رہا جس سے بالآخر اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔
یہ ویڈیو چند گھنٹوں میں ہی دنیا بھر میں وائرل ہوگئی تھی جس کے بعد امریکا بھر میں مظاہرے، پرتشدد واقعات اور توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع ہوگیا، جارج کی ہلاکت میں ملوث سفید فام پولیس اہلکار ڈیرک چوون پر دوسرے درجے کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔
سیاہ فام شہری کی موت کے بعد مینی ایپلس میں ہونے والے پرتشدد واقعات اور احتجاج کی گزشتہ 50 سال میں کوئی مثال نہیں ملتی، جہاں آخری مرتبہ اس طرح کے حالات 1968 میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قتل کے بعد پیدا ہوئے تھے۔


مشہور خبریں۔
امریکہ کی 2024 ماراتھن دوڑ : فاتح کون ہوگا، بائیڈن یا ٹرمپ؟
?️ 28 مئی 2024سچ خبریں: امریکی صدارتی انتخابات میں 6 ماہ سے بھی کم وقت
مئی
افغانستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران طالبا ن پر شدید حملے، سینکڑوں طالبان ہلاک ہوگئے
?️ 4 مئی 2021کابل (سچ خبریں) ایک طرف جہاں افغانستان میں امن کی کوششیں جاری
مئی
پیرس اولمپکس میں پاکستانی سوئمرز کی کارکردگی پر تنقید
?️ 29 جولائی 2024سچ خبریں: پیرس اولمپکس کے 200 میٹر فری اسٹائل ہیٹس میں پاکستانی
جولائی
چین نے مشرق وسطیٰ میں امریکی تسلط کے مفروضے کو تباہ کر دیا ہے: سی ان ان
?️ 19 مارچ 2023سچ خبریں:ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے
مارچ
بغداد سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے سعودی وفد کی آمد
?️ 29 اگست 2021سچ خبریں:تعاون اور شراکت کے عنوان سے بغداد میں منعقدہ ایک روزہ
اگست
سابق وفاقی مذہبی امور پیر حسنات شاہ ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی میں شامل
?️ 21 جنوری 2023سرگودھا: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ ن کو بڑا جھٹکا لگ گیا۔ پی ٹی آئی نے
جنوری
کورونا ویکسین لگوانے کے لئے 15 ستمبر تک کی مہلت ہے
?️ 4 ستمبر 2021لاہور (سچ خبریں) محکمہ صحت پنجاب نے ویکسین لگوانے کے لئے صرف
ستمبر
پاکستان نے بھارت میں زیرحراست کشمیری قائدین کی رہائی کا مطالبہ کیا
?️ 30 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں)ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے صحافیوں کو ہفتہ
اپریل