?️
سچ خبریں:صیہونی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ اور کشیدگی نے خلیجی عرب ممالک کے سکیورٹی تصورات کو شدید جھٹکا دیا ہے۔
صیہونی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی نے خلیجی ممالک کے سکیورٹی تصورات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی سکیورٹی چھتری پر اعتماد کمزور ہوا ہے اور دبئی ماڈل بھی عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے۔
صیہونی چینل 12 کی ویب سائٹ نے ایک تجزیاتی مضمون میں اس خیال کے خاتمے پر بات کی ہے جس پر خلیجی ممالک نے طویل عرصے سے انحصار کیا ہوا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مفاہمت نے اگرچہ جنگ کے شعلوں کو وقتی طور پر خاموش کر دیا ہے، لیکن خلیجی ممالک میں تناؤ کی ہوائیں اب بھی جاری ہیں۔
سالوں کی کوششوں اور اربوں ڈالر کے اسلحہ جاتی اخراجات کے باوجود یہ ممالک خود کو زیادہ غیر محفوظ اور تنہا محسوس کر رہے ہیں۔
اس پوڈکاسٹ اور تجزیاتی پروگرام میں خلیج فارس کے جنوبی ممالک کے نقطہ نظر کا جائزہ لیا گیا اور خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف اقدامات اور اس کے سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔
رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک نے دہائیوں تک یہ سمجھا کہ وہ امریکہ کی سکیورٹی چھتری کے تحت محفوظ ہیں، لیکن حالیہ جنگ نے اس تصور کو شدید چیلنج کیا ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک نے اپنی سکیورٹی حکمت عملی کو امریکہ پر انحصار اور ایران کے ساتھ محتاط توازن پر قائم کیا تھا، لیکن اب انہیں ایک مختلف حقیقت کا سامنا ہے کہ واشنگٹن ہر صورتحال میں مکمل دفاعی اخراجات اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔
اس صورتحال کے نتیجے میں خلیجی ممالک میں یہ احساس بڑھا ہے کہ وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ ہیں اور پرانی سکیورٹی ضمانتوں پر اعتماد کمزور ہو چکا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خلیجی ریاستیں اقتصادی استحکام کو اپنی ترقیاتی حکمت عملی کا بنیادی ستون سمجھتی ہیں۔ گزشتہ دہائیوں میں انہوں نے انفراسٹرکچر، سیاحت، مالیاتی شعبے اور سرمایہ کاری کے فروغ میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
ان کے مطابق کسی بھی بڑے پیمانے کی جنگ یا کشیدگی سے ان معاشی کامیابیوں کو براہ راست خطرہ لاحق ہو جاتا ہے، کیونکہ اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوتا ہے، انشورنس اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں اور مجموعی معاشی سرگرمی متاثر ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد سے یہ یقین موجود تھا کہ امریکہ کی فوجی موجودگی اور اسلحہ جاتی معاہدے خلیجی ممالک کی سلامتی کی ضمانت ہیں، لیکن حالیہ صورتحال نے اس یقین کو کمزور کر دیا ہے۔
شہری سطح پر یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اتنے بڑے دفاعی اخراجات اور امریکی اڈوں کے باوجود یہ ممالک خود کو غیر محفوظ کیوں محسوس کر رہے ہیں۔
تجزیے میں خلیجی ممالک کے اس پیچیدہ توازن کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ وہ ایک طرف امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف کسی بھی براہ راست فوجی تصادم سے بچنا چاہتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے بڑا جھٹکا متحدہ عرب امارات اور خصوصاً دبئی کے ماڈل کو لگا ہے، جسے طویل عرصے سے استحکام اور ترقی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
دبئی نے خود کو عالمی سرمایہ کاری اور سیاحت کے مرکز کے طور پر پیش کیا تھا، لیکن حالیہ جنگ نے اس تصور کی کمزوری کو ظاہر کر دیا ہے، کیونکہ سرمایہ کار اور سیاح اب خطے کی مجموعی غیر یقینی صورتحال کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
رپورٹ کے مطابق اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ جغرافیائی مقام اور معاشی ترقی کے منصوبے خطے کی وسیع سکیورٹی صورتحال سے الگ نہیں رہ سکتے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک اب ایک محتاط پالیسی پر عمل کر رہے ہیں، جس میں امریکہ کے ساتھ تعلقات اور علاقائی استحکام کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آخر میں رپورٹ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ حالیہ جنگ نے خلیجی ممالک کے دہائیوں پرانے سکیورٹی ماڈل کو گہرے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
امریکی سکیورٹی چھتری پر اعتماد کمزور ہو چکا ہے اور دبئی ماڈل بھی ایک سخت آزمائش سے گزر رہا ہے، جبکہ کوئی واضح متبادل سکیورٹی ڈھانچہ فی الحال موجود نہیں۔


مشہور خبریں۔
ایف آئی اے کو سابق وزیر عمر ایوب خان کے خلاف کارروائی سے روک دیاگیا
?️ 12 اکتوبر 2022اسلام آباد (سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی
اکتوبر
کورونا انفیکشن کی شدت اور انسانی جینز کے حوالے سے اہم تحقیق
?️ 13 جولائی 2021ہلسنکی(سچ خبریں) مارچ 2020 میں اکھٹے ہونے والے سائنس دانوں نے ایک
جولائی
چین سے کورونا ویکسین کی چوتھی کھیپ آج اسلام آباد پہنچے گی
?️ 30 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) چین سے کورونا ویکسین کی 60 ہزار خوراکوں پر
مارچ
اسرائیلی قیدیوں کا تابوت 7 اکتوبر کی شکست کی نشانی
?️ 21 فروری 2025سچ خبریں: اسرائیلی مصنف ایلون عیدان نے عبرانی اخبار Haaretz کے اداریے میں
فروری
یوکرین کے 190 طیارے اور 1399 ڈرون تباہ ہوچکے ہیں: روسی وزارت دفاع
?️ 7 جون 2022سچ خبریں: وسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے آج منگل
جون
شام میں فوجی بس پر دہشت گردوں کا حملہ
?️ 3 جنوری 2022سچ خبریں:شامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق داعشی دہشت گرد عناصر نے
جنوری
سندھ ہائی کورٹ کا سائبر کرائم کی جانچ پڑتال سے متعلق اہم فیصلہ
?️ 1 جولائی 2021کراچی (سچ خبریں) سندھ ہائی کورٹ نے سائبر کرائم کی جانچ پڑتال
جولائی
صیہونیوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ سعودی حکام کے زیر غور
?️ 26 مئی 2022سچ خبریں:سعودی عرب نے کہا کہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو
مئی