?️
کابل (سچ خبریں) افغانستان سے یکم مئی کے بعد امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان اور سرکاری افواج کے مابین شدید جھڑپیں جاری ہیں جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق صوبہ کنڑ میں ایک ہسپتال پر راکٹ حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات ہیں۔
تفصیلات کے مطابق افغانستان کے ایک ہسپتال کو راکٹ سے نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے آگ بھڑکنے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عمارت اور کووڈ-19 ویکسین کو نقصان پہنچا ہے البتہ کسی کی ہلاکت کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق افغانستان کے شمالی علاقے میں طالبان نے تاجکستان کی سرحد پر ایک خشک بندرگاہ شیر خان بندر کے علاقے پر قبضہ کرلیا تھا جس کے باعث کسٹم اہلکار اور سیکیورٹی فورسز کے اراکین جان بچا کر سرحد پار فرار ہو گئے تھے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران افغان افواج اور شدت پسندوں کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے، عسکریت پسندوں نے مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے کیونکہ امریکا کی زیر اتحادی افواج دو دہائیوں کی لڑائی کے بعد وہاں سے نکلنے کے لیے تیار ہیں۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مشرقی صوبہ کنڑ کے ہسپتال پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی جبکہ صوبائی صحت کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ اس حملے کے نتیجے میں اہم سامان کا نقصان ہوا ہے۔
کنڑ کے محکمہ صحت کے عہدیدار عزیز صفائی نے بتایا کہ آگ لگنے کے باعث پولیس اور کووڈ-19 سمیت مختلف اقسام کی ویکسین ضائع ہو گئی، افغانستان میں کووڈ-19 سے اب تک 4 ہزار 366 افراد ہلاک جبکہ ایک لاکھ سے زائد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔
صحت کے حکام کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے انفیکشن کی اصل تعداد رپورٹ ہونے والی تعداد سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ محدود وسائل کے سبب بڑی تعداد میں لوگوں کی جانچ نہیں ہو سکی۔
یہ وائرس ایک ایسے وقت میں پھیل رہا ہے جب افغانستان کے عوام میں عدم تحفظ بڑھتا جارہا ہے کیونکہ یکم مئی کے بعد امریکی افواج کے انخلاف کا عمل آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور طالبان نے سرکاری افواج پر حملے تیز کردیے ہیں۔
تاجکستان کے سرحدی محافظوں کی سروس کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ قندوز شہر سے تقریباً 50 کلو میٹر کے فاصلے پر شیر خان بندر سے 134 افغان فوجیوں کو تاجکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔
افغان حکام نے بتایا کہ افغانستان فورسز کے اہلکاروں کی جانب سے ہتھیار ڈالے جانے کے بعد طالبان نے اس قصبے میں گولہ بارود اور بکتر بند گاڑیاں قبضے میں لے لی ہیں۔
تجارت کے لحاظ سے اہمیت کے حامل شہر کا نقصان امریکی حمایت یافتہ حکومت کے لیے ایک دھچکا ہوگا کیونکہ وہ ملک کے مختلف حصوں میں طالبان کی پیش قدمی روکنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
بدھ کے روز ایک بیان میں طالبان نے کہا کہ طالبان کے زیر قبضہ سرحدی تجارتی بندرگاہیں اپنا کام جاری رکھیں گی۔
انہوں نے کہا کہ تمام تجارتی درآمدات اور برآمدات کے ساتھ ساتھ تاجروں کے معمولات اور انتظامی امور بلاتعطل جاری رہیں گے۔
عسکریت پسند گروپ نے افغان سیکیورٹی فورسز اور افغانستان کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کے لیے کام کرنے والے افراد کو بھی طالبان کے اقتدار میں کھلے دل سے شامل ہونے کی دعوت دی۔
طالبان کا کہنا تھا کہ ہم ان کا خیرمقدم کریں گے اور ان کا احترام کریں گے اور انہیں مکمل یقین دہانی کے ساتھ ان کے گھر اور اہلخانہ کے پاس بھیجیں گے۔
طالبان نے اپنے جنگجوؤں کو بھی ہدایت کی کہ وہ جاری جھڑپوں میں عوامی مقامات، کاروباری اداروں اور عوام کی رہائش گاہوں کی حفاظت کریں اور انہیں نقصان نہ پہنچائیں۔


مشہور خبریں۔
مزاحمتی تحریک کے میزائلوں کے بارے میں ان کہی باتیں؛ حزب اللہ کے فیلڈ کمانڈر کی زبانی
?️ 27 فروری 2024سچ خبریں: حزب اللہ کے اینٹی آرمر میزائل یونٹ کے کمانڈر اور
فروری
غزہ اور مغربی کنارے کی معیشت ایک دہائی تک پسپا
?️ 10 نومبر 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے ایک ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے
نومبر
ایرانی صدر کا دورہ روس
?️ 20 جنوری 2022سچ خبریں:اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی اپنے ہم منصب
جنوری
کیا سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان نیا معاہدہ ہونے والا ہے؟نیوزویک کی رپورٹ
?️ 26 نومبر 2024سچ خبریں:نیوزویک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی حکومت آئندہ
نومبر
ونزوئلا پر امریکی دباؤ، ڈریگز کی جنگ یا سیاسی نظام کی تبدیلی؟
?️ 12 اکتوبر 2025ونزوئلا پر امریکی دباؤ،ڈریگز کی جنگ یا سیاسی نظام کی تبدیلی؟ امریکہ
اکتوبر
پیجر کیا ہے، اسے کیوں اور کیسے استعمال کیا جاتا ہے؟
?️ 18 ستمبر 2024سچ خبریں: پیجر ایک الیکٹرانک ڈیوائس ہے جو اکثر ممالک میں سیکیورٹی
ستمبر
جنگ بندی؛ یمنی دلدل سے نکلنے کا راستہ
?️ 9 اپریل 2022سچ خبریں:یمن میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام صنعا حکومت اور جارح اتحاد
اپریل
فلسطینی مزاحمت کی فتح کا نعرہ کس نے چنا؟
?️ 18 جنوری 2025سچ خبریں: غزہ جنگ بندی معاہدے اور فلسطینی عوام کی شاندار فتح
جنوری