?️
سچ خبریں:حزب اللہ کے رہنماؤں نے زور دیا ہے کہ مزاحمت اور اسلحہ کبھی تسلیم یا ترک نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ اسرائیلی جارحیتوں کے خلاف عرب سلامتی کی پہلی دفاعی دیوار ہیں۔
حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے نائب صدر اور لبنان کے سابق وزیر، محمود قماطی نے کہا ہے کہ مزاحمتی تحریک اور اس کا اسلحہ عرب دنیا کی مجموعی سلامتی کی فرنٹ لائن ہے اور کوئی بھی اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔
یہ بھی پڑھیں:شیخ نعیم قاسم: مزاحمت مکتب کربلا کا نتیجہ ہے/ مزاحمت کے ہتھیار قبضے کے خاتمے تک موجود رہیں گے
انہوں نے شہید سید حسن نصراللہ کے مزار پر ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ ہم سب ایک متحد اور مزاحمت کا پیکر ہیں، اسلحہ ہمارے پاس ہی رہے گا اور ہم اس پر فخر کرتے ہیں، کیونکہ یہ صرف لبنان ہی نہیں بلکہ پورے عالم عرب کے لیے طاقت اور تحفظ کی ضمانت ہے۔
قماطی کے مطابق، حزب اللہ کے اہداف بالکل واضح ہیں:
- لبنان کی آزادی اور اسرائیلی قبضہ کا خاتمہ
- لبنانی قیدیوں کی رہائی
- ملک کی تعمیرنو
انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی دباؤ حزب اللہ کو اسلحہ اور مزاحمت سے دستبردار نہیں کرسکتا۔
لبنان کی حکومت اور عرب دنیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نہ ہم تسلیم ہوں گے اور اسلحہ چھوڑین گے
لبنان کی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے سینئر رکن حسین الحاج حسن نے بھی کہا کہ شہید سید حسن نصراللہ اور دیگر شہداء کے ایک سال بعد بھی حزب اللہ پہلے سے زیادہ مضبوط، مستحکم اور پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ مزحمتی تحریک کو غیر مسلح کرنے کی بات کرتے ہیں، وہ اصل مسئلے کو بھول جاتے ہیں، مسئلہ صیہونی دشمن اور امریکی سامراج ہے، جو خطے کے وسائل اور زمین پر قبضے کے منصوبے بناتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور صیہونی ریاست کا ہدف لبنانی سرزمین پر قبضہ باقی رکھنا ہے اور امریکہ کی فوجی امداد کا مقصد لبنان کی فوج کو عوام اور مزاحمتی تحریک کے خلاف کھڑا کرنا ہے، نہ کہ صہیونی دشمن کے مقابلہ کرنا۔
مزید پڑھیں:مزاحمتی ہتھیاروں کے خلاف امریکی اور اسرائیلی مقاصد/لبنانی حکومت اور خودمختاری نامی ایک سراب!
الحاج حسن نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ:
- ٹرمپ نے انتخابی مہم میں کہا تھا کہ اسرائیل کی زمین کم ہے اور اسے مزید زمین چاہیے۔
- نیتن یاہو نے کھلے عام گریٹر اسرائیل منصوبے کے لیے دیگر عرب ممالک کی زمینوں پر قبضے کی خواہش ظاہر کی۔
حزب اللہ کے رہنماؤں نے زور دیا کہ صیہونی توسیع پسندی اور امریکی منصوبوں کے خلاف امت اسلامی اور عرب دنیا کو چھوٹے اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا چاہیے۔


مشہور خبریں۔
فلسطین کو تسلیم کرنا ایک اہم مسئلہ ہے:عمان
?️ 29 مارچ 2024سچ خبریں: بدر بن حمد البوسعیدی نے سلامتی کونسل کی غزہ کی پٹی
مارچ
آگ اور محاصرے کے اندر سے جواب کے لیے تیار رہو؛یمنی عہدہ دار کا سعودی حکام سے خطاب
?️ 27 جنوری 2021سچ خبریں:یمنی قومی نجات حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کا کہنا
جنوری
ایک ساتھ سب پابندیاں اٹھانا ہوں گی؛ایٹمی مذاکرات کے سلسلہ میں ایران کا مؤقف
?️ 3 دسمبر 2021سچ خبریں:ویانا میں ہونے والے ایٹمی مذکرات کے سلسلہ میں ایرانی مذاکراتی
دسمبر
جرمنی نے غزہ نسل کشی کیس میں اسرائیل کی حمایت واپس لے لی
?️ 22 مارچ 2026سچ خبریں: مؤقف میں واضح تبدیلی کرتے ہوئے، جرمنی بین الاقوامی عدالت
مارچ
امریکی طلباء کا غزہ میں اسرائیلی جرائم کے خلاف احتجاج
?️ 20 مئی 2024سچ خبریں: غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ اقدامات کے خلاف امریکی طلباء کے
مئی
فوج کی کمی پوری کرنے کے لیے صیہونیوں کا احمقانہ منصوبہ
?️ 17 ستمبر 2024سچ خبریں: اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں زمینی افواج کی کمی
ستمبر
امریکہ نیتن یاہو پر ہیگ کی عدالت کے فیصلے کو کیوں نہیں مانتا؟
?️ 26 مئی 2024سچ خبریں: بین الاقوامی فوجداری عدالت نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی
مئی
ایران اور اسرائیل کے درمیان سائبر جنگ پس پردہ جاری ہے: صیہونی اہلکار
?️ 12 جون 2022سچ خبریں: صیہونی حکومت کی داخلی سلامتی کونسل کے سابق سربراہ میر
جون