آسٹریلیا میں ایران جنگ کے خلاف عوامی مظاہرے؛ حکومت دباؤ میں

آسٹریلیا میں ایران جنگ کے خلاف عوامی مظاہرے

?️

سچ خبریں:آسٹریلیا میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر عوامی مخالفت بڑھ گئی، ایندھن مہنگا، معیشت دباؤ میں اور حکومت سیاسی بحران کا شکار۔

آسٹریلیا میں عوام کی بڑی تعداد ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی مخالفت کر رہی ہے، جبکہ حکومت اس کے معاشی اور سیاسی اثرات کا سامنا کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اگرچہ آسٹریلوی حکومت نے اس جنگ کو دفاعی آپریشن قرار دیتے ہوئے بالواسطہ حمایت کی ہے، مگر عوام کی بڑی تعداد اس موقف سے متفق نہیں اور حکومت کو اس جنگ کے نتائج کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور شرحِ سود میں اضافہ، جو بڑی حد تک ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کا نتیجہ ہے، عوام کی روزمرہ زندگی پر بھاری بوجھ ڈال رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی رائے اس جنگ کے خلاف ہوتی جا رہی ہے۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف تقریباً ایک چوتھائی آسٹریلوی شہری امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ تقریباً نصف آبادی اس جنگ کی مخالف ہے۔

اس صورتحال میں وزیر اعظم انتھونی البانیز کی حکومت ایک مشکل دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف وہ امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی اتحاد، خصوصاً AUKUS، کے تحت قریبی تعلقات رکھتی ہے، جبکہ دوسری طرف وہ ایسے تنازع میں مزید الجھنے سے گریز کرنا چاہتی ہے جس کے اہداف واضح نہیں اور مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں۔ اس کیفیت کو ایک ایسے مسافر سے تشبیہ دی جا رہی ہے جو ایک غیر مستحکم ڈرائیور کے ساتھ تیز رفتار گاڑی میں بیٹھا ہو۔

سروے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد سفارتی حل کو ترجیح دیتی ہے اور چاہتی ہے کہ بین الاقوامی اداروں کے ذریعے کشیدگی کم کی جائے۔ حکومت نہ صرف معاشی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے بلکہ اسے ایسے فیصلوں کی سیاسی قیمت بھی ادا کرنا پڑ رہی ہے جن پر اس کا مکمل کنٹرول نہیں۔

اس جنگ کے خلاف ردعمل صرف عام عوام تک محدود نہیں بلکہ مزدور یونینز اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد میں بھی شدید غصہ پایا جاتا ہے۔

تحقیقی ادارے ناتیلوس کے سینئر محقق رچرڈ ٹینٹر نے کہا کہ آسٹریلیا درحقیقت اس جنگ کا حصہ بن چکا ہے، چاہے اسے دفاعی تعاون کا نام دیا جائے۔ ان کے مطابق آسٹریلیا خاص طور پر انٹیلیجنس تعاون کے ذریعے اس جنگ میں شریک ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے غلط اندازوں اور توانائی بحران کے باعث پیدا ہونے والے عالمی اثرات کے بعد۔ اگرچہ انہوں نے بعد میں توانائی تنصیبات پر حملوں کو مؤخر کرنے اور مذاکرات کا دعویٰ کیا، تاہم ایران نے جنگ کے دوران کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کر دی ہے۔

مشہور خبریں۔

تحقیق، کورونا پھیپڑوں کے علاوہ دل پر بھی کرتا ہے اٹیک

?️ 5 مارچ 2021سینٹ لوئی {سچ خبریں}  امریکی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کے متعلق اب

امریکی کانگریس نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیا

?️ 6 نومبر 2021سچ خبریں: سی این این نے اطلاع دی ہے کہ امریکی سینیٹ میں

آئینی عدالت کے قیام سے وفاق مضبوط ہوا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

?️ 1 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے

گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، گھریلو صارفین کیلئے 194 فیصد تک مہنگی

?️ 31 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وفاقی کابینہ نے گیس کی قیمتوں میں ہوشربا

فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھیں گے:ایران

?️ 13 جنوری 2022سچ خبریں:اسلامی جمہوریہ ایران نے فلسطینی مسلمانوں اور مزاحمتی تحریک کی حمایت

اتنی آسانی سے نہیں نکلیں گے

?️ 30 مارچ 2021سچ خبریں:لندن میں تعینات سعودی سفیر نے ایک تقریر میں کہا کہ

عرب اور اسلامی ممالک کا صہیونی ریاست کے خلاف مشترکہ اعلامیہ

?️ 17 فروری 2026سچ خبریں:آٹھ عرب اور اسلامی ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے

گٹر جماعت اور ذہنیت کے یو ٹیومر معاشرے کو ناسور کی طرح چمٹ گئے۔ عظمی بخاری

?️ 24 فروری 2026لاہور (سچ خبریں) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے غلیظ جماعت اور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے