ایرانی رہنما کو شہید کرنا سنگین غلطی تھی، اسرائیل کو بدترین اسٹریٹجک شکست ہوئی؛ موساد سابق سربراہ کا اعتراف

رہبر انقلاب کو شہید

?️

سچ خبریں:موساد کے سابق سربراہ تمیر پاردو نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے رہبر انقلاب کو شہید کرنا ایک سنگین غلطی تھی۔ ان کے مطابق، اسرائیل کو ایران کے مقابلے میں بڑی اسٹریٹجک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس کارروائی سے تل ابیب کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔

موساد کے سابق سربراہ تمیر پاردو نے آج صبح صیہونی سیاسی قیادت کی ایران سے متعلق پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے حالیہ اقدامات کو تل ابیب کی سنگین اسٹریٹجک شکست قرار دیا۔ یہ بات روزنامہ رائے الیوم نے خبر رساں ایجنسی مہر کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔

پاردو نے صیہونی چینل 12 کے صحافی گائے پیلیگ کے زیرِ میزبانی پوڈکاسٹ آل اِن میں گفتگو کرتے ہوئے 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی جارحیت کے آغاز میں اسلامی انقلابِ ایران کے شہید رہبر حضرت آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنائے جانے کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس اقدام کو سنگین غلطی قرار دیا اور کہا کہ اس سے فوجی کارروائی کے مقاصد کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ہدفی کارروائی اسرائیل کے طویل المدتی مفادات کی تکمیل نہیں کرتی۔ ان کے بقول، جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ کسی ملک کے رہنما کو ہٹا دینے سے وہ ملک بکھر جائے گا اور اس کی صلاحیتیں کمزور پڑ جائیں گی، وہ سراسر غلط فہمی کا شکار ہے۔

پاردو کے مطابق، ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے سے ایک خطرناک مثال قائم ہوئی ہے، جس نے آنے والی نسلوں کے لیے انتقام کی راہ ہموار کر دی ہے۔

موساد کے سابق سربراہ نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کے نظام کو گرانا تھا، لیکن تل ابیب اپنے کسی بھی ہدف میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی فوجی اور عملی کارروائی اپنے بنیادی مقصد تک نہیں پہنچی، جبکہ ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کو نشانہ بنانے کے باوجود نظام کا انہدام ممکن نہیں ہوا۔

پاردو نے مزید وضاحت کی کہ ایران میں کی جانے والی کارروائیوں کے نتائج منصوبہ بندی کے بالکل برعکس نکلے اور ان کے نتیجے میں ملک کے اندر طاقت کا توازن بھی تبدیل ہو گیا۔

انہوں نے کہا: ہم نے جو کچھ شروع کیا، اس کے نتیجے میں سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی طاقت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ گئی۔ ہم نے یہ جانے بغیر طاقت کا توازن بگاڑ دیا کہ اس سے کس کو زیادہ طاقت حاصل ہوگی، اور جس شخصیت نے طاقت حاصل کی، وہ [اسلامی انقلابِ ایران کے موجودہ رہبر حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای] پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہوئی۔

اس سے قبل صیہونی جماعت ڈیموکریٹس کے سربراہ یائیر گولان نے بھی اعتراف کیا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنا ایک غلطی تھی اور اس اقدام سے اسرائیل کے مفادات کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔

تمیر پاردو کی عمر 73 سال ہے۔ وہ 2011 سے 2016 تک موساد کے سربراہ رہے اور مجموعی طور پر 36 سال تک مسلسل اس خفیہ ادارے سے وابستہ رہے۔ موساد میں اپنی خدمات مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ایک ہائی ٹیک کمپنی کی سربراہی سنبھالی، جو سائبر دراندازیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دفاعی حل فراہم کرنے کے شعبے میں سرگرم ہے۔

مشہور خبریں۔

سرفرازبگٹی بلامقابلہ وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب، حلف اٹھا لیا

?️ 2 مارچ 2024کوئٹہ: (سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سرفراز بگٹی 41 ووٹ لے

حزب اللہ کیسے اسرائیل صفحۂ ہستی سے مٹا سکتی ہے؟

?️ 16 اگست 2023سچ خبریں: المیادین چینل نے حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کی حالیہ

غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات

?️ 29 اکتوبر 2025غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر واشنگٹن اور تل ابیب

جہاد اسلامی فلسطین تنظیم کی فوج وونگ سرایا القدس ہائی الرٹ

?️ 14 اکتوبر 2021سچ خبریں:فلسطینی جہاد اسلامی تحریک کے سکریٹری جنرل کے اعلان کے بعد

یمن میں فلسطین کی حمایت میں لاکھوں افراد کا تاریخی مارچ

?️ 6 فروری 2026 سچ خبریں: یمن کے عوامی تحریک انصاراللہ کے رہبر سید عبدالملک

پاک فوج سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں شہری انتظامیہ کےساتھ امدادی سرگرمیوں میں مصروف

?️ 26 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) آئی ایس پی آر  نے کہا ہے کہ

القسام کی صہیونی قیدیوں کی حفاظت کرنے والی ٹیم کی تعریف / مزاحمت کی "شیڈو یونٹ” کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

?️ 16 اکتوبر 2025سچ خبریں: القسام بریگیڈز نے ایک بیان میں مزاحمت کے "شیڈو یونٹ”

پاکستان ایک بار پھر گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے پر امید ہے

?️ 21 اکتوبر 2021اسلام اباد (سچ خبریں)  پاکستان منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے