جو بائیڈن کا آرمینیائی قوم کے قتل عام کے حوالے سے اہم اعلان، ترکی نے امریکا پر بڑا الزام عائد کردیا

جو بائیڈن کا آرمینیائی قوم کے قتل عام کے حوالے سے اہم اعلان، ترکی نے امریکا پر بڑا الزام عائد کردیا

?️

واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی صدر جو بائیڈن نے سلطنت عثمانیہ کی افواج کے ہاتھوں آرمینیائی قوم کے قتل عام کو نسل کشی قرار دے دیا جس کے ردعمل میں ترکی نے امریکا پر اس مسئلے کو سیاسی رنگ دینے اور تاریخ کو دوبارہ تحریر کرنے کا الزام عائد کردیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق جو بائیڈن وہ پہلے امریکی صدر بن گئے جنہوں نے برسی کے موقع پر ایک روایتی بیان میں نسل کشی کا لفظ استعمال کیا، اس سے ایک روز قبل انہوں نے نیٹو اتحادی کی جانب سے متوقع غصے کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان کو یہ قدم اٹھانے کے بارے میں بتایا تھا۔

جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ہم ان تمام کی زندگیوں کو یاد رکھتے ہیں جو دورِ عثمانیہ میں آرمینیائی نسل کشی کے دوران ہلاک ہوئے اور اور اس طرح کے مظالم کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے اپنے آپ سے دوبارہ وعدہ کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اور ہم یاد رکھیں گے تاکہ اس کی تمام صورتوں میں نفرت کے مضر اثر کے خلاف ہمیشہ چوکس رہیں، یہ بیان آرمینیا اور اس کے تارکین وطن کے لیے ایک بہت بڑی فتح ہے۔

1965 میں یوراگوئے سے آغاز کے بعد فرانس، جرمنی، کینیڈا اور روس نسل کشی کو تسلیم کرچکے تھے لیکن امریکی بیان زیادہ اہمیت والا تھا۔

جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ اس بیان کا مقصد ‘الزام عائد کرنا نہیں بلکہ اس بات کی یقین دہانی کرنا ہے کہ جو ہوگیا وہ دوبارہ کبھی نہیں دہرایا جائے گا۔

دوسری جانب ترکی نے امریکی صدر کی جانب سے آرمینیائی نسل کشی کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا اور الزام عائد کیا کہ امریکا تاریخ کو دوبارہ تحریر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

ترک وزیر خارجہ مولود جاویش نے جوبائیڈن کے فیصلے کے چند لمحوں بعد ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ہم کسی سے اپنی تاریخ کا سبق نہیں لیں گے۔

علاوہ ازیں استنبول میں آرمینیائی آبا و اجداد کے لیے ایک پیغام میں رجب طیب اردوان نے تیسرے فریقین پر ایک صدی پرانی بحث کو سیاست کا رنگ دینے کا الزام عائد کیا۔

ترک صد نے ایک پیغام میں لکھا کہ ان بحثوں سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا جو تاریخ دانوں کو کرنی چاہیے لیکن تیسرے فریقین اسے سیاسی رنگ دے کر ہمارے ملک میں مداخلت کا آلہ کار بن رہے ہیں۔

سلطنت عثمانیہ کے آخری دنوں میں سال 1915 سے 1917 کے دوران تقریباً 15 لاکھ آرمینیائی افراد مارے گئے جس میں عیسائی اقلیت پر پہلی جنگ عظیم میں روس کے ساتھ مل کر سازش کرنے کا شبہ کیا گیا تھا۔

غیر ملکی سفارتکاروں کے مطابق آرمینیائی آبادی کا گھیراؤ کر کے انہیں موت کے سفر پر شام کے صحرا میں جلاوطن کیا گیا جہاں متعدد افراد کو گولی مار دی گئی، کچھ کو زہر دیا گیا تو کچھ بیماری سے مر گئے۔

چنانچہ جب ترکی سلطنت عثمانیہ سے سیکولر ملک بن کر ابھرا تو تسلیم کیا کہ 3 لاکھ آرمینیائی باشندے مارے گئے لیکن اس بات کا سختی سے انکار کیا کہ یہ نسل کشی تھی۔

مشہور خبریں۔

یمن کی خراب اقتصادی صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟

?️ 17 جولائی 2023سچ خبریں:یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے اقتصادی کمیشن نے اس بات

دیگر ممالک کے خلاف امریکی پابندیوں میں دس گنا اضافہ

?️ 23 اکتوبر 2021سچ خبریں:امریکی خارجہ پالیسی کے آلے کے طور پر افراد اور دیگر

دن رات لیکچرز دینے والے ان مسائل کا حل نکالیں جو سیلاب کی وجہ بنے، وزیر اعظم

?️ 6 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دن

سی ٹی ڈی پنجاب کی مختلف شہروں میں کارروائی،12 دہشت گرد گرفتار

?️ 2 نومبر 2024لاہور: (سچ خبریں) محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے پنجاب

ایران اور دیگر فریقین کے خیالات کو قریب لانے کی کوشش

?️ 2 فروری 2023سچ خبریں:قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اعلان کیا

بائیڈن نے اس بار امریکہ کے ساتھ کیا کیا؟

?️ 19 جون 2024سچ خبریں: ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بائیڈن نے گروپ آف سیون

تخت شاہی پر بیٹھنے کے بعد بن سلمان کو درپیش خطرات

?️ 15 فروری 2022سچ خبریں:سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اس ملک

قومی ترانے کی بے ادبی کا معاملہ، دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامورکو طلب کرلیا

?️ 18 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پشاورمیں تقریب کے دوران افغان قونصل جنرل کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے