یہودی مفکر کی صیہونی جنگی جرائم پر تنقید: غزہ میں قتل عام، محاصرہ اور تباہی کا الزام

جنگی جرائم

?️

سچ خبریں:امریکی یہودی فلسفی مائیکل والزر نے اسرائیل کے غزہ میں جنگی جرائم کی چار وجوہات گنوائی ہیں جن میں غیر معمولی شہری ہلاکتیں، محاصرے سے بھوکا مارنا، تباہی کی ذمہ داری سے انکار اور ابتدائی مرحلے میں قیدیوں کی رہائی کے مواقع کو نظرانداز کرنا شامل ہے

ایک یہودی مفکر نے صیہونی اخبار ہارٹیز کے ساتھ گفتگو میں صہیونی ریاست کے غزہ میں کیے جانے والے جرائم کے پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

یہ بھی پڑھیں:غزہ جنگ بندی کے خلاف امریکی ویٹو صیہونیوں کے قتل اور نسل کشی کے لیے ایک بلینک چیک ہے

ہارٹیز نے اس گفتگو کے تعارف میں زور دے کر کہا کہ مائیکل والزر، ایک امریکی یہودی سیاسی فلسفی، اسرائیل کے غزہ پٹی کے خلاف جنگ پر تنقید کرنے والے گروپ میں شامل ہو گئے ہیں اور انہوں نے اپنے اس موقف کے لیے چار دلائل بیان کیے ہیں۔

اس یہودی فلسفی کے خیال میں، صیہونی فوج کی جانب سے غزہ پٹی میں بے گناہ شہریوں کی بے رحمانہ ہلاکتیں، غزہ کا مجرمانہ محاصرہ اور اس کے باشندوں کو بھوکا رکھنا، جنگ کے دوران مکانات کی تباہی کی ذمہ داری سے انکار، اور ان اقدامات کو نظر انداز کرنا جو جنگ کے ابتدائی مراحل ہی میں قیدیوں کی رہائی کو تیز کر سکتے تھے، اس موقف کی چار وجوہات ہیں۔

انہوں نے ان وجوہات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا:

بے گناہوں کی بے رحمانہ ہلاکتیں

والزر کہتے ہیں کہ فوجوں کے پاس عام طور پر ہلاکتوں کے ایسے تناسب کے بارے میں قوانین ہوتے ہیں جنہیں وہ جائز سمجھتی ہیں،غزہ میں پچھلی کارروائیوں میں، ایسا تناسب موجود تھا اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی اعلیٰ افسران نے کہا ہے کہ اسرائیل نے موجودہ جنگ میں اس تناسب کو تبدیل کر دیا ہے تاکہ زیادہ شہریوں کی ہلاکت کو جواز پیش کیا جا سکے… یہ حملے غیر متناسب لگتے تھے، گویا کہ غزہ کو رہنے کے قابل نہ رہنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

غزہ کا محاصرہ اور بھوک

والزر دلیل دیتے ہیں کہ غزہ پٹی کا محاصرہ اور بھوک سب سے سنگین اخلاقی مسئلہ کی نمائندگی کرتا ہے۔

غزہ پٹی کی تباہی کی ذمہ داری سے انکار

والزر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جو لوگ تباہی کا باعث بنتے ہیں انہیں مخالف فریق کے بے بس اور بے گناہ شکاروں کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔ جبکہ اسرائیل یہ کام نہیں کر رہا۔

مزید پڑھیں:غزہ میں قتل عام نسل کشی نہیں تو پھر کیا ہے: وانس

جنگ کے ابتدائی مرحلے میں قیدیوں کی رہائی کے امکان کو نظرانداز کرنا

والزر کے مطابق، جب جو بائیڈن اور ان کے مشیر بنجمن نیتن یاہو کے پاس آئے اور کہا کہ نم نے کافی نقصان پہنچایا ہے، اب تم حماس کے خلاف سفارتی طور پر لڑ سکتے ہو تو میں بطور جنگ اور اخلاقیات کا ماہر کہہ سکتا ہوں کہ جیسے ہی حماس کو شکست دینے اور قیدیوں کو آزاد کرانے کا کوئی سیاسی راستہ سامنے آیا، جنگ ناجائز ہو گئی۔

مشہور خبریں۔

صیہونی خفیہ تنظیموں میں بھی حماس موجود

?️ 18 مئی 2024سچ خبریں: صیہونی میڈیا کی رپورٹ میں قابض حکومت کے سیکورٹی اور

شہید نصراللہ اور صیہونیوں کے لیے مکڑی گھر کا نظریہ

?️ 7 نومبر 2024سچ خبریں: حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کی

یورپی رہنما امریکی سامراج کے سامنے جھکنا چھوڑ دیں:یورپی قانون ساز

?️ 25 اکتوبر 2022سچ خبریں:یورپی پارلیمنٹ میں جمہوریہ آئرلینڈ کے نمائندے نے یورپی یونین کے

صیہونی حکومت نے شام کے کن حساس مقامات کو نشانہ بنایا؟

?️ 11 دسمبر 2024سچ خبریں:صیہونی حکومت نے حالیہ دنوں میں اپنے سب سے بڑے میزائل

فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی دہشت گردی، امریکا کے سینکڑوں صحافیوں نے اہم اعلان کردیا

?️ 13 جون 2021واشنگٹن (سچ خبریں) فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی دہشت گردی کو دیکھتے ہوئے

الخدمت پاکستانیوں کے تعاون سے فلسطینیوں پر ایک ارب ڈالر خرچ کرے گی، نعیم الرحمٰن

?️ 9 اکتوبر 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن

غزہ میں جنگ بندی کے امریکی منصوبے کی حقیقیت ؛عطوان کی زبانی

?️ 1 جون 2025 سچ خبریں:عبدالباری عطوان نے جنگ بندی کے امریکی منصوبے کو غزہ

وزیراعظم آج ایف سی کے جوانوں سے خطاب کریں گے

?️ 8 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں)وزیراعظم عمران خان آج سانحہ نوشکی کے دوران شہید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے