اقوام متحدہ میں ایران کی کامیابی نے میدان جنگ کی کامیابیوں کو تقویت دی: عطوان

اقوام متحدہ

?️

سچ خبریں:معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایران کے مؤقف کو مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ایران کی میدان جنگ کی کامیابیوں کو تقویت ملی اور امریکہ و اسرائیل مزید الجھن کا شکار ہوئے۔

عرب خطے کے اسٹریٹجک امور کے تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران کی کامیابی نے اس کی میدان جنگ کی کامیابیوں کو مزید تقویت دی اور امریکہ و صیہونی حکومت کو مزید الجھن میں مبتلا کردیا۔

عبدالباری عطوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی تقاریر کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے ایک تجزیہ میں لکھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے افتتاحی اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر سے ظاہر ہوا کہ وہ ایران نامی ایک ذہنی اور جسمانی بیماری میں مبتلا ہیں، وہی بیماری جس کا سامنا صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو بھی ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ایران کے خلاف ناکام جنگ، جس کا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوسکا، ٹرمپ کی تقریر کا تقریباً واحد موضوع تھی، جبکہ دنیا کے دیگر اہم معاملات، جن میں یوکرین کی جنگ، عالمی معیشت کی صورتحال اور امریکہ کی اندرونی کشیدہ صورتحال شامل ہیں، کو تقریباً نظر انداز کردیا گیا۔

عطوان نے ٹرمپ کی جانب سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی خواہش، آخری لمحات میں ایرانی وفد کے لیے ویزا جاری کرنے یا افتتاحی اجلاس کی تقریر میں ایران کے خلاف شدید حملے کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی کیفیت ٹرمپ کے رویے میں الجھن اور عدم استحکام کا سبب بنی ہوئی ہے۔

عطوان نے ایرانی صدر کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات کے جواب کو دندان شکن قرار دیا اور کہا کہ پزشکیان نے امریکہ اور اسرائیل کے تمام مبینہ دہشت گردانہ جرائم کا جامع ذکر کیا، جن کا سلسلہ غزہ میں نسل کشی سے لے کر ایران میں قتل و جرائم، آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے خلاف کارروائی اور ایران کے جنوبی شہر میناب میں 150 سے زائد طالب علم لڑکوں اور لڑکیوں کی ہلاکت تک جاری رہا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے رویے اور ٹرمپ کی سیاسی و فوجی پالیسیوں کے جواب میں ایران کا عملی ردعمل آنے والے دنوں میں میدان جنگ میں سامنے آسکتا ہے۔ ان کے مطابق 2 اہم عوامل اس امکان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اول: ایرانی رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر سردار یحییٰ رحیم صفوی کے بیانات، جن میں انہوں نے خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں ایران پر امریکی حملہ جنگ کے جغرافیے کو وسیع کرسکتا ہے۔

 ان کے مطابق جنگ صرف آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف تک محدود نہیں رہے گی بلکہ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے، جیسا کہ یہ جنگ بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب، اس کے اطراف اور بحیرہ عرب تک پھیل چکی ہے۔

عطوان کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی فوجی اڈے، بحری جہاز اور طیارہ بردار بحری جہاز جدید اور جدید ترین بیلسٹک میزائلوں سے حملوں کے جائز اہداف بن سکتے ہیں۔

دوم: محسن رضائی کے بیانات، جنہیں عطوان نے ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کا سیکرٹری جنرل قرار دیا ہے۔ ان بیانات کا اہم ترین نکتہ ایران کی دفاعی اور سفارتی پالیسی میں اسٹریٹجک تبدیلیاں لانا اور یہ مؤقف تھا کہ جب تک امریکہ عملی طور پر کیے گئے معاہدوں پر عمل درآمد نہیں کرتا، کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی ملک ایرانی طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کرنے یا اقتصادی جنگ میں شامل ہوگا، اسے دشمن تصور کیا جائے گا اور اسی درجہ بندی کے مطابق اس کے ساتھ سلوک کیا جائے گا۔

عطوان نے اپنے تجزیہ میں مزید لکھا کہ فوجی لباس میں گفتگو کرنے والے میجر جنرل رضائی نے امریکہ اور اس کے صدر کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اس جنگ میں ایران کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، لیکن عملی طور پر ایران کو دنیا کی چوتھی بڑی طاقت بنا دیا۔

ان کے مطابق ایران تاریخ کا پہلا ملک بن گیا جس کے فضائی دفاعی نظام نے ایف-35 جیسے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھنے والے جنگی طیاروں اور جاسوسی و نگرانی کے لیے انتہائی جدید آواکس طیاروں کو مار گرایا۔

ان کے بقول اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اب پوری دنیا امریکہ کو ایسی عالمی طاقت کے طور پر نہیں دیکھتی جس پر اعتماد کیا جاسکے یا جس کی حمایت پر انحصار کیا جاسکے۔

عطوان نے مزید لکھا کہ سات ماہ کی امریکی اور صیہونی جارحیت نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ ایران اپنے وعدوں پر عمل کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ایران نے مزاحمت جاری رکھی اور حملہ آوروں کو مسلسل شکستیں دیں، جن کا اعتراف امریکی فوجی اور اسٹریٹجک ماہرین بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ، جسے سینٹ کام کہا جاتا ہے، کے اعلیٰ فوجی افسران اب صرف آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف سے نہیں بلکہ نقصانات کم کرنے کے لیے پورے خطے سے انخلا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

عطوان کے مطابق گزشتہ منگل سے شروع ہونے والا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس تاریخ میں اس حوالے سے یاد رکھا جائے گا کہ اس نے ٹرمپ کے غیر سنجیدہ رویے اور ان کی پالیسیوں کو بے نقاب کیا، صیہونی حکومت اور اس کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو مزید تنہا کیا اور غزہ میں جاری نسل کشی کے حوالے سے عالمی توجہ کو نمایاں کیا۔

مشہور خبریں۔

پنجاب، کشمیر اور بالائی خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

?️ 25 اگست 2025لاہور: (سچ خبریں) محکمہ موسمیات نے اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں

غزہ مظالم کی سنسر شپ کے خلاف احتجاج؛ لندن میں بی بی سی کی عمارت کے سامنے سینکڑوں افراد جمع ہیں

?️ 10 مئی 2025سچ خبریں: سیکڑوں فلسطینی حامیوں نے لندن میں بی بی سی کے

صیہونی ریاست اور 2025 کا فیصلہ کن ستمبر

?️ 6 ستمبر 2025سچ خبریں: سیاسی تاریخ میں ستمبر 2025 صیہونی ریاست کے لیے محض

کانگو کی حکومت اور 23 مارچ کی تحریک امن مذاکرات جاری رکھنے کے لیے روڈ میپ پر متفق 

?️ 23 اگست 2026سچ خبریں: جمہوریہ کانگو کی حکومت اور کانگو ریور الائنس (مارچ ۲۳

یوکرین کی طرف سے ہتھیاروں کی نیلامی

?️ 1 اگست 2022سچ خبریں:    یوکرین کے زاپوریزیا علاقے کی انتظامی کونسل کے رکن

اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے لیے کم سے کم ڈپازٹ شرح (ایم ڈی آر) کی شرط ختم کردی

?️ 27 نومبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک نے روایتی بینکوں کے لیے

یورپ میں روسی مخالف فوجی صلاحیتوں کی کمی، امریکی تجزیہ کار کا انکشاف

?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں: اسکاٹ رٹر، ایک امریکی فوجی تجزیہ کار اور سابق نیوی انٹیلی

ہند۔پاکستان جنگ میں اسرائیلی ہتھیاروں کا اہم رول

?️ 12 مئی 2025سچ خبریں: معاشی اخبار "کالکالیست” کی ایک رپورٹ کے مطابق، گزشتہ کئی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے