جرمنی میں اتحاد کی شاندار مثال، مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی مشترکہ عبادت کے لیئے نئی عمارت کی تعمیر

جرمنی میں اتحاد کی شاندار مثال، مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی مشترکہ عبادت کے لیئے نئی عمارت کی تعمیر

?️

برلن (سچ خبریں) ایک طرف جہاں دنیا بھر میں انتہاپسندوں کی جانب سے نفرتیں پھیلانے کا کام کیا جاتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف متعدد قسم کے پروپیگنڈے کیئے جارہے ہیں وہیں دوسری طرف جرمنی میں اتحاد کی ایک شاندار مثال قائم کی گئی ہے جہاں مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں نے مل کر مشترکہ عبادت کے لیئے نئی عمارت کی تعمیر کا کام شروع کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے ایک گروپ نے جرمن دارالحکومت میں بین المذاہب مکالمے کی علامت کے طور پر ایک عمارت کا سنگ بنیاد رکھا ہے جس میں تینوں مذاہب کے افراد عبادت کر سکیں گے اور آپسی اتحا و بھائی چارہ قائم کیا جائے گا۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اس منصوبے کے بانی غزہ میں اسرائیل کے حملوں پر برلن میں ہونے والے مظاہروں اور ایک ایسے وقت میں جب سیاستدان جرمنی میں یہودی مخالف جذبات کے فروغ کا انتباہ دے رہے ہیں، اس طرح کا اقدام مذاکرات کے لیے امید کی کرن ہے۔

برلن کے میئر مائیکل مولر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہم ہے کہ جرمنی کے دارالحکومت میں ڈرامائی عالمی تنازعات پر بات کی جا سکے اور لوگوں کے پاس اپنے ممالک میں موجود مسائل کو اجاگر اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کا ایک پلیٹ فارم موجود ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نفرت اور تشدد، یہود دشمنی اور اسلامو فوبیا، نسل پرستی اور اشتعال انگیزی کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے، ایک بلند چکور ٹاور کی حامل اس عمارت میں عبادات کے لیے لگ کمرے اور ملاقات کے لیے مشترکہ جگہ شامل ہو گی۔

جرمنی میں یہودیوں اور مسلمانوں کی مرکزی کونسل کے سربراہوں نے اس منصوبے اور مذہبی تبادلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق 10 سال کی منصوبہ بندی کے بعد شروع ہونے والے تعمیراتی کام کو مکمل ہونے میں چار سال لگیں گے اور اس کی لاگت 4 کروڑ 73 لاکھ یوروز لاگت آئے گی، جرمنی کی حکومت کروڑ یورو دے گی، برلن ایک کروڑ 21 لاکھ یورو عطیہ کرے گا جبکہ بقیہ رقم دیگر ممالک سے آنے والے عطیات سمیت دیگر ذرائع سے جمع کی جائے گی۔

یہ مرکز 13ویں صدی کے چرچ کی جگہ پر تعمیر کیا جائے گا جسے 1960 کی دہائی میں کمیونسٹ مشرقی جرمنی کی حکومت نے تباہ کردیا تھا، جرمنی میں پروٹسٹنٹ چرچ کے سربراہ ہینرک بیڈفورڈ اسٹروہم نے آر این ڈی میڈیا کو بتایا کہ ہاؤس آف ون پروجیکٹ اس وقت ایک اہم پیغام دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہودی مخالف جذبات اور اسلامو فوبیا میں اضافہ ہورہا ہے جو لوگوں کو غلط سمت پر لے جاتے ہیں، وہ نفرت کو ہوا دیتے ہیں اور ممکنہ طور پر تشدد کا باعث بنتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے امریکی میزائل سسٹم کی واپسی کا امکان

?️ 9 اکتوبر 2022سچ خبریں:تین امریکی ڈیموکریٹک نمائندوں نے اوپیک اور اس کے اتحادیوں کی

سعودی عرب کو بے مثال عدم تحفظ کا سامنا ہے:امریکی تحقیقاتی ادارہ

?️ 4 فروری 2022سچ خبریں:ایک امریکی ادارے نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو عدم

تل ابیب میں جنگ مخالف مظاہرے، پولیس کا مظاہرین پر حملہ 

?️ 12 اپریل 2026سچ خبریں:تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں ہزاروں صہیونی باشندوں نے

جولانی اور صدام کی بیٹی کی عراق کے خلاف خطرناک سازش

?️ 14 فروری 2026سچ خبریں:ایک شامی سیاسی کارکن نے دعویٰ کیا ہے کہ جولانی حکومت

سی ٹی ڈی نے دہشت گردی کے خلاف ناقابل فراموش خدمات انجام دیں: بزدار

?️ 27 جولائی 2021لاہور(سچ خبریں) وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ

امریکہ کو ایران کا دندان شکن جواب، کن اہداف کو نشانہ بنایا گیا؟

?️ 14 جولائی 2026سچ خبریں:ایران کی مسلح افواج نے امریکی حملوں کے جواب میں متعدد

ایرانی میزائلوں سے اسرائیل کا دفاعی نظام کو نقصان

?️ 7 اکتوبر 2024سچ خبریں: غزہ میں الاقصیٰ طوفان کی جنگ کے ایک سال بعد

الحشد الشعبی کی تأسیس کی سالگرہ پر بغداد کی عوام نے منایا جشن

?️ 11 جون 2022سچ خبریں:   عراق میں الحشد الشعبی کے قیام کی آٹھویں سالگرہ منانے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے