?️
سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی جنگ کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ نے اس تنازعے کے سیاسی، عسکری اور علاقائی اثرات کا جائزہ لیا۔ مغربی، عربی، روسی اور چینی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں جنگ کے نتائج، خطے کی صورتحال اور مستقبل کے امکانات پر مختلف تجزیے سامنے آئے ہیں۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد نہ صرف اس کارروائی کے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہ ہو سکے بلکہ مغربی حکام اور امریکی ذرائع ابلاغ کے اعتراف کے مطابق جارح قوتوں پر تزویراتی تعطل اور میدان و سیاست میں ناکامیاں بھی مسلط ہوئیں۔
یہ جنگ، جو وسیع حملوں اور معصوم شہریوں خصوصاً بے گناہ طلبہ کے قتل سے شروع ہوئی، جلد ہی انسانی، سلامتی اور اقتصادی پہلوؤں میں وسعت اختیار کر گئی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں مختلف ردعمل کا باعث بنی۔
دنیا کے ذرائع ابلاغ نے اپنے اپنے زاویۂ نگاہ کے مطابق اس جنگ کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور ان ردعمل کا جائزہ جنگ کی حقیقی صورتحال اور اس کے مستقبل کے امکانات کو بہتر انداز میں واضح کر سکتا ہے۔
انگریزی ذرائع ابلاغ
فرانسیسی اخبار لوموند نے اپنے ایک تجزیے میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ میں طاقت کے مظاہرے نے تزویراتی نتائج پیدا کرنے کے بجائے صرف امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
اخبار کے مطابق دسمبر 2025 میں شائع ہونے والی امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ واشنگٹن کی قابل اعتماد حیثیت اسے دنیا کا پہلا شراکت دار بناتی ہے، لیکن اس جنگ نے ثابت کیا کہ امریکہ کا دشمن ہونا خطرناک ہو سکتا ہے مگر امریکہ کا دوست ہونا جان لیوا ہے۔
لوموند نے ہنری کسنجر کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس میں واشنگٹن کے عرب اتحادی اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اپنی کمزوری کم کرنے کے لیے تہران کے ساتھ کم از کم تعلقات برقرار رکھنا زیادہ دانشمندانہ ہے۔
متحدہ عرب امارات، جو ابتدا میں جنگ میں فعال شرکت کا خواہاں تھا، ایران کے سب سے زیادہ حملوں کا نشانہ بنا۔ جنگ بندی کا معاہدہ بھی امریکہ کے مقابلے میں ایرانی حکومت کی ترجیحات کی زیادہ عکاسی کرتا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جنگ نے امریکی تزویراتی دستاویز کے اس بنیادی اصول کو کمزور کر دیا کہ طاقت امن کی ضمانت ہے۔ اس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ طاقت کے مظاہرے کے مقابلے میں طاقت کی دھمکی زیادہ مؤثر بازدار قوت ثابت ہوئی۔
اس کے علاوہ مہنگے دفاعی نظاموں اور سستے بغیر پائلٹ طیاروں کے درمیان لاگت کے بڑے فرق کو، جس کی نشاندہی قومی سلامتی کی دستاویز میں کی گئی تھی، شدید طور پر کم اندازہ لگایا گیا تھا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایران اور امریکہ کے درمیان نئے فوجی تناؤ کے بارے میں اپنی رپورٹ میں لکھا کہ امریکی مرکزی کمان نے ایران کے میزائل اور بغیر پائلٹ طیاروں کے ذخائر اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو جوابی حملوں کا نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی سنگاپور کے پرچم بردار تجارتی جہاز اور لاولی پر ایران کے بغیر پائلٹ طیارے کے حملے کے ایک روز بعد کی گئی، جس کے باعث خلیج فارس میں پھنسے گیارہ ہزار ملاحوں کے انخلا کا عمل رک گیا۔ تہران نے کہا کہ اس جہاز کو غیر مجاز راستہ استعمال کرنے کے باعث نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے امریکی افواج پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور امریکی افواج سے متعلق اہداف پر جوابی حملوں کی خبر دی۔
بحرین نے بھی ہفتے کے ابتدائی گھنٹوں میں کئی ایرانی بغیر پائلٹ طیاروں کے حملے کی اطلاع دیتے ہوئے اسے اپنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اگر ایران مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کے بارے میں اختلاف رکھتا ہے تو وہ رابطہ کر سکتا ہے، لیکن تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔
عربی ذرائع ابلاغ
الجزیرہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے سرکاری متن کا جائزہ لیتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ حالیہ جنگ تنازعات کا حتمی خاتمہ نہیں بلکہ ساٹھ روزہ مذاکراتی مرحلے کا آغاز ہے۔ تجزیہ نگار کے مطابق معاہدے کی تفصیلات سے زیادہ اہم جنگ کے بعد سیاسی نتائج اور خطے میں طاقت کے توازن میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ ہے۔
تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ اپنے بنیادی مقاصد، یعنی ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کی تباہی، تہران کے اتحادیوں کو کمزور کرنے اور ایران کے سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔
اس کے برعکس ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے ایک حصے کو برقرار رکھنے، پرامن افزودگی کے حق کی قبولیت، بعض پابندیوں کی عارضی منسوخی اور تیل کی برآمدات کی بحالی جیسے فوائد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
تجزیہ نگار کے مطابق اسرائیل، جو ایک نئے مشرق وسطیٰ کے نعرے کے ساتھ جنگ میں داخل ہوا تھا، آخرکار بھاری اخراجات اور سیاسی حیثیت میں کمی کا سامنا کرنے پر مجبور ہوا۔ امریکہ نے بھی اپنے بعض علاقائی اتحادیوں کا اعتماد کھو دیا۔ اس کے مقابلے میں ایران انسانی اور بنیادی ڈھانچے کے نقصانات کے باوجود جنگی دباؤ سے نکلنے اور مذاکرات میں اپنی حیثیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔
تجزیہ میں زور دیا گیا ہے کہ خطے کے ممالک خصوصاً خلیج فارس کے ممالک، ترکی، پاکستان، مصر اور قطر نے جنگ کو پھیلنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا اور خطے کے مستقبل کے لیے ایک زیادہ خودمختار علاقائی سلامتی نظام کی ضرورت ہے۔
آخر میں تجزیہ نگار نے نتیجہ اخذ کیا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے بغیر مشرق وسطیٰ میں حقیقی امن اور استحکام ممکن نہیں۔
المیادین نے اپنے ایک تجزیہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کے بعد لبنان اور صہیونی حکومت کے مذاکرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات اسرائیل کی توقعات کے برعکس حزب اللہ کے اسلحے یا لبنان میں ایران کے اثر و رسوخ کے خاتمے پر مرکوز نہیں بلکہ واشنگٹن اور تہران کے معاہدے کے نتائج کے نفاذ پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
تجزیہ نگار کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی سے اسرائیل مطمئن نہیں ہے کیونکہ اس سے جنوبی لبنان سے صیہونی افواج کے مکمل انخلا کے مطالبات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
صیہونی مذاکراتی وفد کے سربراہ یحییٰ ایل لایٹر کے وہ بیانات، جن میں انہوں نے مذاکرات کو پٹری سے اترنے والی ٹرین قرار دیا، امریکی ترجیحات میں تبدیلی کے حوالے سے تل ابیب کی تشویش کو ظاہر کرتے ہیں۔
تجزیہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے بعض علاقوں سے محدود انخلا اور آزمائشی علاقوں کے قیام کے ذریعے ایک طرف امریکی دباؤ کم کرنے اور دوسری طرف صیہونی شرائط کے نفاذ کی ذمہ داری، خصوصاً حزب اللہ کے حوالے سے، لبنانی حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
تجزیہ نگار کا خیال ہے کہ یہ عمل صرف لبنان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ غزہ اور شام کے معاملات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل اپنی سرخ لکیروں کو مستحکم کرنا چاہتا ہے تاکہ ممکنہ امریکی دباؤ کے مقابلے میں مزید رعایتیں نہ دینی پڑیں۔
تجزیہ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ان مذاکرات کے حقیقی نتائج ابھی واضح نہیں کیونکہ لبنان میں طاقت کے اہم فریق حزب اللہ نے ابھی تک اس عمل کے بارے میں اپنا حتمی مؤقف ظاہر نہیں کیا۔
رأی الیوم نے وجودی جنگ، اسرائیل عظیم منصوبے کو شکست دینے کی لڑائی لبنان سے شروع ہوتی ہے کے عنوان سے اپنے تجزیہ میں خطے کی حالیہ صورتحال کو ایران اور امریکہ۔اسرائیل محور کے درمیان وسیع تزویراتی مقابلے کا حصہ قرار دیا ہے۔
تجزیہ نگار کے مطابق بارہ روزہ اور چالیس روزہ جنگیں صرف ایران کے ایٹمی پروگرام پر محدود فوجی تنازع نہیں تھیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے اور خطے کی سیاسی تشکیل نو کی کوشش تھیں۔
تجزیہ نگار کے مطابق اس جنگ کا بنیادی مقصد ایران کے اندرونی ڈھانچے کو کمزور کرنا، علاقائی اتحادوں کو تبدیل کرنا اور محور مزاحمت کو نقصان پہنچانا تھا، تاہم ایران اپنی داخلی یکجہتی اور سیاسی مقام کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا۔
جنگ کے خاتمے اور ایران و امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد امریکہ نے خطے خصوصاً لبنان میں اپنے اتحادوں کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں میں اضافہ کیا ہے۔ تجزیہ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا اور علاقائی توازن کو تبدیل کرنا ہے۔
تجزیہ نگار کا خیال ہے کہ اس مقابلے کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ایران خطے میں امریکی اتحادیوں کے درمیان کس حد تک اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
ایران کی تعمیر نو، خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون، عراق کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا، سماجی اثر و رسوخ کا استعمال اور بازدار قوت کو برقرار رکھنا ان ذرائع میں شامل ہیں جن کے ذریعے ایران علاقائی معادلات کو تبدیل کر سکتا ہے۔
تجزیہ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا اتحاد برقرار رہنے کا مطلب سیاسی اور اقتصادی شکلوں میں تنازع کا جاری رہنا ہوگا، تاہم اگر اس اتحاد میں دراڑ پیدا ہوتی ہے تو خطے میں ایک نئے نظام کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
چینی اور روسی ذرائع ابلاغ
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ امریکہ نے واشنگٹن کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک فریم ورک معاہدے تک پہنچنے کی خبر دی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ معاہدہ دونوں فریقوں کے درمیان پائیدار امن اور سلامتی کی بنیاد بن سکتا ہے، اگرچہ اس کی تفصیلات ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آئیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ یہ سابقہ جنگ بندی معاہدوں سے کس طرح مختلف ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ واشنگٹن میں سفیروں کی سطح پر ہونے والے نئے مذاکراتی دور کے اختتام پر طے پایا اور دونوں فریقوں کے درمیان نازک جنگ بندی پر عمل درآمد پر زور دیا گیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس معاہدے کو پائیدار امن کے لیے ایک فریم ورک کی تشکیل کی سمت پہلا قدم قرار دیا۔
امریکی وزارت خارجہ کے مطابق اس فریم ورک کے تحت واشنگٹن کی نگرانی میں آزمائشی علاقوں کے قیام پر تیزی سے عمل کیا جائے گا، جہاں لبنانی فوج کو سلامتی کی مکمل ذمہ داری سونپی جائے گی اور کسی بھی غیر سرکاری مسلح گروہ کی موجودگی ختم کی جائے گی۔ وزارت کے مطابق ان اقدامات سے امن اور سلامتی کے جامع معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے،یہ معاہدہ امریکہ میں اسرائیل اور لبنان کے سفیروں نے دستخط کیا۔
لبنان کے سفیر نے اسے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بحالی اور تنازعات کے مستقل خاتمے کی جانب پہلا قدم قرار دیا، جبکہ صیہونی سفیر نے دعویٰ کیا کہ اس فریم ورک کے تحت ایران اور حزب اللہ کو معادلات سے خارج کر دیا گیا ہے اور اسرائیل و لبنان کے درمیان امن کا راستہ کھل گیا ہے۔
تاہم حزب اللہ مذاکرات میں شریک نہیں تھی اور اپریل سے نافذ جنگ بندی کے بعد دونوں فریق متعدد مرتبہ ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر چکے ہیں۔
روسی اخبار ایزوستیا نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان پائیدار جنگ بندی کی راہ میں حزب اللہ کے مستقبل کا مسئلہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور واشنگٹن میں امریکی ثالثی میں ہونے والے تین روزہ مذاکرات نے بھی ظاہر کر دیا کہ دونوں فریق بنیادی مسائل پر اب بھی اختلاف رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بیروت لبنانی سرزمین سے صیہونی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ تل ابیب حزب اللہ کے اسلحے کے خاتمے اور جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں کے حق پر زور دیتا ہے۔
ایزوستیا کے مطابق یہ مذاکرات ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی مفاہمت کے ساتھ ساتھ جاری ہیں، جس میں لبنان کی سرحدوں پر کشیدگی کم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے، لہٰذا لبنان کے محاذ کی صورتحال تہران اور واشنگٹن کے مذاکرات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ نگار الیگزینڈر کارگین کے مطابق یہ مذاکرات کسی واضح اور قابل حصول مقصد کے حامل نہیں کیونکہ اسرائیل خود کو لبنان کی حکومت کے بجائے حزب اللہ کے ساتھ جنگ کی حالت میں سمجھتا ہے۔
ان کے مطابق لبنانی حکومت کو بھی حزب اللہ کے کردار اور کارکردگی پر تحفظات ہیں اور یہی مسئلہ دونوں ریاستوں کے درمیان مذاکرات کو مؤثر نتائج سے محروم کر رہا ہے۔
رپورٹ میں روسی علوم اکیڈمی سے وابستہ عربی اور اسلامی مطالعاتی مرکز کے محقق گریگوری لوکیانوف نے کہا کہ اسرائیل کی حکمت عملی لبنان کی حکومت کو حزب اللہ سے الگ کرنا ہے۔
ان کے مطابق تل ابیب لبنان کی حکومت کے ساتھ جنگ بندی چاہتا ہے، حزب اللہ کے ساتھ نہیں، اور جب تک اس جماعت کا مسئلہ صیہونی سیاسی اور فوجی قیادت کی خواہشات کے مطابق حل نہیں ہوتا، اسرائیل کی بااثر شخصیات لبنان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے پر آمادہ نہیں ہوں گی۔
ایزوستیا کے مطابق صیہونی فیصلہ ساز حلقوں میں حزب اللہ کے سرحدی ڈھانچے کو ختم کرنے اور ایک حائل علاقے کے قیام پر اتفاق پایا جاتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تل ابیب موجودہ حالات میں لبنان کے ساتھ طویل المدت جنگ بندی حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ یہ رپورٹ صرف تجزیہ نگار اور اخبار ایزوستیا کے نقطۂ نظر کی عکاسی کرتی ہے۔


مشہور خبریں۔
صیہونی وزارت جنگ مظاہرین کے چنگل میں
?️ 18 دسمبر 2023سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں کے ہزاروں باشندوں نے قیدیوں کے اہل خانہ
دسمبر
ملک بھر میں جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت، انسولین سمیت 79 اہم ادویات غائب
?️ 29 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک بھر میں جان بچانے والی ادویات کی
اگست
ہم روس کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے: نیٹو
?️ 5 مارچ 2022سچ خبریں:نیٹو کے سکریٹری جنرل نے ایک بیان میں کہا کہ فوج
مارچ
عمران خان 2 سے 3 سال تک جیل سے باہر آتے نظر نہیں آرہے، رانا ثناءاللہ
?️ 31 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) مسلم لیگ ن کے رہنماء اور وزیراعظم کے
مئی
جموں کشمیر کے تنازع پر پاکستان کے اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے
?️ 3 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ
اپریل
بھارت سے 1971 کی شکست کا بدلہ لے لیا، وزیراعظم
?️ 22 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان
مئی
جنت مرزا نے ٹک ٹاک کی وجہ سے مرنے والی تمام خبروں کو جھوٹ قرار دے دیا
?️ 26 مئی 2021کراچی (سچ خبریں)پاکستان کی نمبر ون ٹک ٹاک اسٹار اور پاکستان فلم
مئی
ہمیں روس سے نمٹنے کے لیے دور تک مار کرنے والے ہتھیار کی ضرورت ہے: زیلینسکی
?️ 14 جون 2022سچ خبریں: یوکرین کے صدر نے منگل کو کہا کہ یوکرین
جون