?️
سچ خبریں:عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف جنگ نے امریکہ میں عوامی مخالفت، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور فوجی نقصانات کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جبکہ چین اور روس کے میڈیا نے بھی خطے کی صورتحال پر تبصرہ کیا ہے۔
امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد نہ صرف اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں ہوئے بلکہ مغربی عہدیداروں اور امریکی میڈیا کے بعض حلقوں کے مطابق حملہ آوروں کو اسٹریٹجک تعطل اور میدانِ جنگ کے ساتھ سیاسی محاذ پر بھی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ جنگ بڑے پیمانے پر حملوں اور بے گناہ شہریوں، جن میں معصوم طلبہ بھی شامل تھے، کی ہلاکتوں کے ساتھ شروع ہوئی اور جلد ہی اس کے انسانی، سکیورٹی اور معاشی اثرات وسیع ہو گئے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی میڈیا میں مختلف ردعمل کو جنم دیا۔
دنیا کے مختلف ذرائع ابلاغ نے اپنے اپنے نقطۂ نظر سے اس جنگ کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان رپورٹوں اور تبصروں کا جائزہ جنگ کی موجودہ صورتحال اور اس کے ممکنہ مستقبل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
انگریزی زبان کے ذرائع ابلاغ
پیو ریسرچ سینٹر: 65 فیصد امریکی ٹرمپ کی ایران پالیسی سے ناخوش
پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق، 28 ستمبر سے 4 اکتوبر 2026 کے درمیان 5,062 امریکی بالغ افراد پر کیے گئے ایک تازہ سروے میں تقریباً دو تہائی امریکیوں، یعنی 65 فیصد نے ایران میں امریکی فوجی کارروائیوں سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طرزِ عمل کی مخالفت کی، جبکہ صرف 33 فیصد نے اس کی حمایت کی۔
رپورٹ کے مطابق، یہ تنازع شروع ہی سے امریکی عوام میں غیر مقبول تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ مخالفت میں اضافہ ہوا ہے۔ مارچ میں جنگ شروع ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد 61 فیصد امریکی اس کے مخالف اور 37 فیصد حامی تھے۔
ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کے ابتدائی فیصلے کے بارے میں بھی اسی طرح کا رجحان سامنے آیا ہے۔ اب صرف 34 فیصد امریکی اسے درست فیصلہ سمجھتے ہیں، جو مارچ کے مقابلے میں 4 فیصد پوائنٹس کم ہے۔
دونوں پیمانوں پر ریپبلکن پارٹی اور اس کی جانب مائل آزاد ووٹرز کے خیالات بھی پہلے سے زیادہ منفی ہوئے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس کی اکثریت بدستور جنگ کی شدید مخالف ہے۔
سروے کے مطابق، زیادہ تر امریکیوں کا خیال ہے کہ یہ جنگ کم از کم مزید 6 ماہ جاری رہے گی۔ 47 فیصد کے نزدیک تنازع ایک سال سے زیادہ جاری رہ سکتا ہے، جبکہ 30 فیصد کا خیال ہے کہ یہ مزید 6 ماہ سے ایک سال کے اندر جاری رہے گا۔
اس کے برعکس، مارچ میں 43 فیصد امریکیوں کو توقع تھی کہ فوجی کارروائیاں 6 ماہ یا اس سے کم عرصے میں ختم ہو جائیں گی۔
سروے میں مزید بتایا گیا کہ 73 فیصد امریکیوں کو پٹرول اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور 71 فیصد کو امریکی فوجیوں کے زخمی یا ہلاک ہونے کے بارے میں شدید تشویش ہے۔ اس کے علاوہ 58 فیصد امریکی ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے امکان پر بھی فکرمند ہیں۔
امریکہ میں دہشت گردانہ حملوں اور امریکی فوج کے لیے ہتھیاروں کی کمی کے خدشات نسبتاً کم سطح پر ہیں۔
یو ایس اے ٹوڈے: جنگ کے معاشی اخراجات امریکی عوام پر بھاری
امریکی اخبار یو ایس اے ٹوڈے نے ریکس ہوپکے کے ایک تجزیہ میں لکھا ہے کہ پٹرول پمپ پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ جنگ کے درمیان براہِ راست تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔ تجزیہ کار نے اس جنگ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کانگریس میں ریپبلکن ارکان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جن کے بقول انہوں نے اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔
تجزیہ کے مطابق، امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل ذرائع ابلاغ ٹرانسپورٹ کے شعبے کو درپیش مشکلات کی رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرک ڈرائیوروں کے لیے کام کرنا مشکل ہو گیا ہے، کیلیفورنیا میں ڈیزل کی قیمت 8 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے، زرعی شعبے میں ڈیزل کی طلب کے وقت قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں اور ریاست مین میں گھروں کو گرم کرنے والے ایندھن کی قیمت میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
گیس بڈی (GasBuddy) کے اعداد و شمار کے مطابق، 7 اکتوبر کو امریکہ میں ایک گیلن پٹرول کی اوسط قیمت 4.34 ڈالر اور ایک گیلن ڈیزل کی قیمت 6.26 ڈالر تھی۔
تجزیہ کار نے گیس بڈی کے شعبۂ تیل کے سربراہ کے تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ مارچ سے اب تک کاروباری اداروں اور صارفین نے ڈیزل پر 50 ارب ڈالر اضافی خرچ کیے ہیں۔ پٹرول سمیت مجموعی طور پر گزشتہ سال کے مقابلے میں ایندھن پر اضافی اخراجات 128.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
تجزیہ کے مطابق، 28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکہ میں پٹرول کی قیمت 3 ڈالر فی گیلن سے کم اور ڈیزل کی قیمت 4 ڈالر فی گیلن سے کم تھی۔
تجزیہ کار نے مزید لکھا کہ ڈیزل کی قیمتوں اور آپریشنل اخراجات میں اضافے کے باعث اگست کے اواخر سے 21 ستمبر کے درمیان کم از کم 16 امریکی ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے دیوالیہ پن کے لیے درخواستیں دائر کیں۔
ان کے مطابق، یہ تمام دباؤ مشرق وسطیٰ میں ایک ایسی جنگ کا نتیجہ ہے جس نے تیل کی عالمی رسد میں بڑے پیمانے پر خلل پیدا کیا اور جس سے بچا جا سکتا تھا۔
تجزیہ کے اختتام پر تجزیہ کار نے ایسوسی ایٹڈ پریس اور NORC کے مرکز برائے عوامی امور کے سروے کا حوالہ دیا، جس کے مطابق صرف 28 فیصد امریکی ٹرمپ کے ایران جنگ سے متعلق طرزِ عمل کی حمایت کرتے ہیں۔ تجزیہ کار نے لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس صورتحال کے ذمہ داروں کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑے۔
سی این بی سی: ٹرمپ کا انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
امریکی نیوز نیٹ ورک سی این بی سی نے لیوک فونٹین کی رپورٹ میں بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ اس طرح انہوں نے ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت کو امریکی داخلی سیاسی کیلنڈر سے جوڑ دیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا:ہم وسط مدتی انتخابات سے پہلے کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعمیری مذاکرات جاری ہیں۔
سی این بی سی کے مطابق، یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اس سے صرف ایک روز قبل ٹرمپ نے انتخابی جلسے میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا درحقیقت وہ کام نہیں تھا جو وہ کرنا چاہتے تھے۔ اس دوران انتخابات سے پہلے ایران پر ممکنہ حملوں کی تیاریوں سے متعلق خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور یہ 104 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق، جنگ کے لیے عوامی حمایت میں بھی کمی آئی ہے۔ اگست میں روئٹرز اور ایپسوس کے سروے میں صرف 31 فیصد امریکیوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کی تھی۔
اسی دوران امریکہ میں پٹرول کی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد بڑھ کر 4.36 ڈالر فی گیلن ہو گئی۔
ٹرمپ نے زور دیا کہ ایران کی بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی اور تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب، امریکہ تقریباً 9,000 ملاحوں اور میرینز کے علاوہ اپنا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی خطے میں بھیج رہا ہے۔ اس تعیناتی کے نتیجے میں اکتوبر کے اواخر تک مشرق وسطیٰ میں 3 امریکی طیارہ بردار بحری جہاز موجود ہو سکتے ہیں۔
چین اور روس کے ذرائع ابلاغ
رشیا ٹوڈے: غزہ کی جنگ نے عالمی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچایا
روسی نشریاتی ادارے رشیا ٹوڈے (RT) نے تاریخ دان طارق سیریل عمار کا ایک تجزیہ شائع کیا، جس کا عنوان تھا: غزہ کی 3 سالہ جنگ اسرائیل اور دنیا کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟
تجزیہ میں لکھا گیا کہ غزہ پر صیہونی حملوں کا مسلسل جاری رہنا اور ان حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف مؤثر بازدار اقدامات کا نہ ہونا، بین الاقوامی قانون اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
تجزیہ کار نے 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والی طوفان الاقصیٰ کارروائی کے بارے میں صیہونی اور مغربی میڈیا کے بیانیے پر تنقید کرتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے صیہونی فوج کے خلاف فوجی کارروائیوں کے ساتھ ایسے جرائم بھی کیے جن میں شہریوں کا قتل اور لوگوں کو یرغمال بنانا شامل تھا۔
تاہم، تجزیہ کار کے مطابق، ان اقدامات سے فلسطینیوں پر قبضے، ان کی جبری بے دخلی اور ان کے خلاف تشدد کی تاریخی حقیقت ختم نہیں ہو جاتی۔
چائنا ڈیلی: یمن کی انصاراللہ کے حملوں سے سعودی ہوائی اڈے نشانہ بنے
چینی اخبار چائنا ڈیلی نے سعودی عرب کے ہوائی اڈے یمن کی انصاراللہ کے حملوں کا نشانہ بنے کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی۔
رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں متعدد محاذوں پر بحران شدت اختیار کرنے کے دوران یمن کی انصاراللہ نے میزائل حملے کے ذریعے ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔
یہ حملہ اس اعلان کے ایک روز بعد ہوا کہ ابہا اور ریاض کے ہوائی اڈوں پر حملوں میں 3 افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق، انصاراللہ کے فوجی ترجمان نے فضائی کمپنیوں کو سعودی عرب کی فضائی حدود میں پروازوں کے حوالے سے خبردار بھی کیا۔
چائنا ڈیلی نے لکھا کہ حالیہ حملوں کے جواب میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن کے متعدد صوبوں میں انصاراللہ کے 82 فوجی اہداف پر حملے کرنے کا اعلان کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یمنی فورسز کی ساحلی علاقوں میں پیش قدمی نے آبنائے باب المندب میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ یہ اہم بحری گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تجارت کا تقریباً 12 فیصد گزرتا ہے۔


مشہور خبریں۔
اسرائیلی صحافی نے ٹرمپ سے بھیک مانگنے پر نیتن یاہو پر کڑی تنقید کی
?️ 14 فروری 2026اسرائیلی صحافی نے ٹرمپ سے بھیک مانگنے پر نیتن یاہو پر کڑی
فروری
قاتل اور شہید کے درمیان موازنہ انصاف نہیں:سید حسن نصراللہ
?️ 4 جنوری 2022سچ خبریں:حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے شہید قاسم سلیمانی
جنوری
پیپلز پارٹی کا سینیٹر اسحٰق ڈار کو قائد ایوان بنانے پر تحفظات کا اظہار
?️ 26 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی نے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ
نومبر
صیہونی فوج کے ہاتھوں صیہونی شہری بھی بچ سکے
?️ 13 دسمبر 2023سچ خبریں: ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر کو
دسمبر
ہیروشیما کے 80 سال بعد؛ امریکہ اب بھی دنیا کا نمبر ایک جوہری خطرہ ہے
?️ 7 اگست 2025سچ خبریں: ہیروشیما اور ناگاساکی کے بم دھماکوں کی 80 ویں برسی
اگست
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کردیا
?️ 16 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے
اپریل
تل ابیب نے 132,000 امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے سے روک دیا: غزہ حکومت
?️ 1 جنوری 2026 سچ خبریں: غزہ پٹی میں سرکاری اطلاعات کے دفتر کے سربراہ اسماعیل
سابق اسرائیلی فوج کی ٹرینر یہودی خاتون ٹک ٹاک میں نفرت انگیز مواد کی نگرانی پر تعینات
?️ 4 اگست 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوج کی سابق ٹرینر امریکی یہودی خاتون ایریکا منڈیل
اگست