?️
سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات، آبنائے ہرمز، امریکی اقتصادی دباؤ اور جنگ کے عالمی اقتصادی و سیاسی اثرات پر دنیا کے ذرائع ابلاغ کی رپورٹس۔
امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد نہ صرف اس آپریشن کے اعلان کردہ اہداف کے حصول پر سوالات اٹھائے گئے بلکہ بعض مغربی عہدیداروں اور امریکی ذرائع ابلاغ نے بھی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تزویراتی مشکلات، میدان جنگ کی صورتحال اور سیاسی تعطل کا ذکر کیا ہے۔
اس جنگ کا آغاز وسیع پیمانے پر حملوں اور عام شہریوں، جن میں بے گناہ طلبہ بھی شامل تھے، کی ہلاکتوں کے ساتھ ہوا اور یہ تنازع تیزی سے انسانی، سکیورٹی اور اقتصادی اثرات کے وسیع دائرے میں پھیل گیا۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے اس جنگ کو مختلف زاویوں سے رپورٹ اور تجزیہ کیا ہے۔
ان رپورٹوں اور تجزیوں کا جائزہ جنگ کی موجودہ صورتحال اور اس کے ممکنہ اثرات کی ایک مختلف تصویر سامنے لاتا ہے۔
انگریزی ذرائع ابلاغ
یو ایس اے ٹوڈے: مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی
یو ایس اے ٹوڈے نے رپورٹ کیا کہ ایران جنگ شروع ہونے کے 7 ماہ بعد دونوں فریقوں کے مذاکرات کار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تنازع کے خاتمے کے لیے کسی حل کی تلاش میں دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے، تاہم قابل ذکر پیش رفت حاصل نہیں ہوسکی۔
رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے 26 ستمبر کو محاصرے کے خاتمے کے بدلے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کی تہران کی تجویز مسترد کردی اور اس کے بجائے جوہری معاملے میں رعایت کے بدلے پابندیوں میں کمی اور منجمد اثاثے آزاد کرنے کی تجویز پیش کی۔ تاہم ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے لکھا: میں نے انہیں کچھ بھی پیش نہیں کیا۔
رپورٹ میں ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا جو مذاکرات کاروں کے قریب ہے کہ مذاکرات میں تعطل کی وجہ واشنگٹن کی جانب سے جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کو قبول کرنے سے انکار ہے۔
14 نکاتی اس دستاویز کے مطابق امریکہ نے بحری محاصرے کے خاتمے، خطے میں نئی فوجی قوت تعینات نہ کرنے، ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متحرک کرنے اور منجمد اثاثے آزاد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
ایک اور ایرانی عہدیدار نے کہا کہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ٹرمپ کا اس بارے میں واضح اور مستقل مؤقف نہ ہونا ہے کہ وہ مذاکرات سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
یو ایس اے ٹوڈے نے ییل یونیورسٹی کے مورخ آرش عزیزی کے حوالے سے لکھا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور بحری محاصرے کو برقرار رکھنے کی بھاری لاگت خود امریکہ کے لیے جنگ ختم کرنے کی وجوہات پیدا کرسکتی ہے۔
کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے تریتا پارسی نے کہا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران مکمل طور پر تسلیم ہوجائے، جبکہ سفارت کاری، جنگ اور پابندیوں کے ذریعے یہ مقصد حاصل نہ ہونے پر وہ شدید مایوس ہیں۔
روئٹرز: ایران ممکنہ امریکی حملے کے جواب کی تیاری کر رہا ہے
روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ ایران امریکہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں زیادہ وسیع اور طاقتور جواب کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، اگرچہ ایرانی عہدیدار نجی طور پر ان کوششوں کو ناکامی سے دوچار سمجھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے زیر غور منصوبوں میں ممکنہ اہداف کا دائرہ صرف امریکی مفادات تک محدود رکھنے کے بجائے ان ممالک تک پھیلانے کی بات کی جارہی ہے جو واشنگٹن کی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ سے باہر موجود اہداف کو بھی زیر غور لایا جارہا ہے۔
روئٹرز کے مطابق مسعود پزشکیان کے نیویارک سے واپسی کے بعد ایرانی کمانڈروں اور اعلیٰ عہدیداروں نے امریکہ کی جانب سے دوبارہ حملے کی صورت میں ممکنہ جوابی کارروائی کے دائرے اور وقت پر توجہ مرکوز کردی ہے۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے حمیدرضا عزیزی کے مطابق تہران محض علامتی جواب دینے کے بجائے کشیدگی میں اضافہ کرکے اپنی بازدارندگی دوبارہ قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
2 ایرانی عہدیداروں نے روئٹرز کو بتایا کہ تہران نے لبنان، یمن اور عراق میں اپنے اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے لے کر خطے اور مشرق وسطیٰ سے باہر امریکی مفادات تک ایک مربوط جواب کے لیے تیار رہیں۔
تاہم روئٹرز کے مطابق تہران نے مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر قطر کے ذریعے ایک تجویز پیش کی گئی جس میں جنگ کے خاتمے، بحری محاصرے کے خاتمے، 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی رہائی اور ایرانی تیل پر عائد پابندی سے استثنیٰ شامل تھا۔
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ کا جواب منگل کے روز قطر کے ذریعے موصول ہوا اور اس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
امریکی ایندھن کی قیمتوں پر جنگ کے اثرات
تجزیاتی ویب سائٹ Other Words میں اقتصادی پالیسی اور ٹیکس کے ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمی ہانائر نے لکھا کہ ایران جنگ کے نتیجے میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی لاگت ستمبر کے اختتام تک 103 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔
ان کے مطابق اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو سال کے اختتام تک یہ رقم 180 ارب ڈالر کے قریب پہنچ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب تک ہر امریکی خاندان پر اس اضافی لاگت کا اوسط تقریباً 750 ڈالر بنتا ہے، جبکہ سال کے اختتام تک یہ رقم 1300 ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہے۔ 4 افراد پر مشتمل ایسے خاندان میں جہاں 2 افراد گاڑی چلاتے ہوں، موجودہ اضافی لاگت 1000 ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے اور 1700 ڈالر سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار ہتھیاروں اور فوجی اہلکاروں کے اخراجات سے الگ ہیں، جن کا پینٹاگون نے تقریباً 44 ارب ڈالر تخمینہ لگایا ہے۔
امریکہ میں پٹرول کی اوسط قومی قیمت 4.47 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے جبکہ متعدد ریاستوں میں یہ 5 ڈالر کی حد سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ ڈیزل کی قیمت بھی ریکارڈ 6.45 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی، جس سے اشیا کی پیداوار اور نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ ہوا اور پہلے سے موجود مہنگائی مزید بڑھی۔
ہانائر کے مطابق امریکی کاروباری اداروں نے رواں سال ایندھن کے لیے اضافی 48 ارب ڈالر ادا کیے ہیں، جبکہ مقامی حکومتوں کو اسکول بسوں، کچرا اٹھانے والے ٹرکوں اور پولیس و فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے اخراجات پورے کرنے میں بھی مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اخراجات بالآخر مقامی ٹیکس دہندگان پر منتقل ہوتے ہیں۔ تجزیے میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بلند شرح سود، وسیع پیمانے پر عائد محصولات اور حکومتی امداد میں کمی امریکی شہریوں کے لیے زندگی کے اخراجات میں اضافہ کررہی ہے۔
سی ایس آئی ایس: جنگ کے خاتمے کا راستہ اب بھی واضح نہیں
مرکز برائے تزویراتی و بین الاقوامی مطالعات (CSIS) نے ایران جنگ: یہ معاملہ کیسے ختم ہوگا؟ کے عنوان سے ایک آن لائن نشست کے انعقاد کا اعلان کیا۔
اعلامیے کے مطابق امریکہ کی جانب سے آپریشن ایپک فیوری کے آغاز کے 7 ماہ بعد بھی ایران کا جوہری پروگرام جنگ کے خاتمے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اس امریکی تھنک ٹینک کے مطابق ایران کے فوجی اور جوہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور ایرانی تیل کی برآمدات کے محاصرے کے باوجود ایرانی حکومت برقرار ہے، تہران نے آبنائے ہرمز میں امریکی موجودگی کو چیلنج کیا ہے اور پورے خطے میں امریکی اڈوں اور اتحادیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوسکتی ہے، تاہم دونوں فریق بظاہر اس تنازع کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔
اس نشست میں جوہری امور کے منصوبے کی ڈائریکٹر ہیدر ولیمز، ایرو اسپیس سکیورٹی منصوبے کے ڈائریکٹر کاری بنگن اور میزائل دفاعی منصوبے کے ڈائریکٹر ٹام کاراکو جنگ کے ابتدائی اہداف، امریکی فوجی قیادت اور پالیسی سازوں کے لیے اس تنازع سے حاصل ہونے والے اسباق اور ایران میں ممکنہ جنگی انجام سے متعلق سوالات پر گفتگو کریں گے۔
عرب ذرائع ابلاغ
العربی الجدید: جنگ نے کسی فریق کو فیصلہ کن برتری نہیں دی
العربی الجدید نے ایک تجزیے میں لکھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کئی ماہ سے جاری تنازع خطے کے سیاسی اور سکیورٹی نظام کو مکمل طور پر اس طرح تبدیل نہیں کرسکا جیسا کہ بعض حلقے توقع کررہے تھے۔
تجزیے کے مطابق جنگ نے زیادہ واضح طور پر دونوں فریقوں کی اس محدود صلاحیت کو ظاہر کیا ہے کہ وہ فیصلہ کن کامیابی حاصل کرکے دوسرے فریق کو پسپائی پر مجبور کرسکیں۔
مصنف نے جنگ کو ایک طویل اور تھکا دینے والی کشمکش قرار دیا ہے، جس میں اب تک کوئی بھی فریق اپنی مرضی مکمل طور پر دوسرے پر مسلط نہیں کرسکا۔
اس دوران جنگ کے اقتصادی اور توانائی سے متعلق اثرات، بالخصوص آبنائے ہرمز کے حوالے سے، خاص اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔ جاری تنازع اب صرف ایران اور امریکہ کے درمیان مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس نے خطے کی سلامتی اور عالمی توانائی کی منڈی کو بھی متاثر کیا ہے۔
تجزیے کے مطابق جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کسی فوری فوجی نتیجے کے حصول کو مزید مشکل بناسکتے ہیں۔
محمد قواص نے اپنے تجزیے میں جنگ کو امریکی اقتصادی دباؤ اور واشنگٹن کی جانب سے دیگر ممالک کو تہران کے خلاف دباؤ کی مہم میں شامل کرنے کی کوششوں کے زاویے سے دیکھا ہے۔
ان کے مطابق امریکہ ماضی کی پابندیوں کے تجربے اور فوجی آپشن کی مشکلات کے بعد بینکنگ، تجارت، تیل، نقل و حمل، سونے اور ڈیجیٹل اثاثوں کے ذریعے ایران کے اقتصادی راستوں کو محدود کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
تجزیہ میں مختلف ممالک پر امریکی دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ واشنگٹن برطانیہ، ترکی اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک کو ایران کے ساتھ اقتصادی روابط جاری رکھنے سے روکنے کی کوشش کررہا ہے۔
اسی دوران چین اور روس کی جانب سے ایران کے لیے متبادل راستے پیدا کرنے کے کردار کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق یہ صورتحال مزید ممالک کو ڈالر کے زیر اثر مالیاتی نظام سے باہر متبادل مالیاتی نظام تشکیل دینے کی طرف لے جاسکتی ہے۔
الجزیرہ: کیا ایران واقعی امریکی شرائط کے سامنے جھکنے کے قریب ہے؟
الجزیرہ نے ایک رپورٹ میں ایران کے امریکہ کی شرائط تسلیم کرنے کے قریب پہنچنے کے دعوے کا 2 مختلف زاویوں سے جائزہ لیا۔
ایک امریکی تجزیہ کار کے مطابق اقتصادی دباؤ، ایرانی ریال کی قدر میں کمی اور تیل کی آمدنی میں کمی سے پیدا ہونے والی مشکلات تہران پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔
اس کے برعکس ایک سابق ایرانی سفارت کار نے قریب الوقوع ایرانی پسپائی کی تعبیر پر شکوک کا اظہار کیا۔
رپورٹ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے حالیہ تجاویز پر امریکی جواب ایک ثالث کے ذریعے وصول کرلیا ہے جبکہ ثالث فریقین کے درمیان اختلافات کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اس عمل میں آبنائے ہرمز اور جنگ روکنے اور بحری راستہ دوبارہ کھولنے سے متعلق تجاویز بھی زیر بحث آئی ہیں، تاہم اب تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوسکا۔
روسی اور چینی ذرائع ابلاغ
شینہوا: عراق سے امریکی فوجی انخلا ایک نئے مرحلے کا آغاز
چین کے خبر رساں ادارے شین ہوا نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں عراق سے امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے انخلا کو واشنگٹن کی 2 دہائیوں پر محیط فوجی مداخلت کے ایک دور کے اختتام اور خطے کے جغرافیائی و سیاسی توازن میں ایک نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا۔
رپورٹ میں یاد دلایا گیا کہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے، 2011 میں امریکی فوج کے انخلا اور 2014 میں داعش کے ابھرنے کے بعد امریکی فوج کی دوبارہ واپسی نے خطے میں عدم استحکام اور فوجی مداخلت کا ایک سلسلہ پیدا کیا۔
شین ہوا کے حوالے کردہ ماہرین کے مطابق داعش کے خطرے میں کمی، ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے امریکی فوجیوں پر حملوں میں اضافہ اور واشنگٹن کا لامتناہی جنگوں میں کمی لانے کا عزم امریکی فوجی انخلا کی وجوہات میں شامل ہیں۔
رپورٹ میں تاہم زور دیا گیا ہے کہ فوجی انخلا کا لازماً یہ مطلب نہیں کہ عراق میں امریکی اثر و رسوخ بھی ختم ہوگیا ہے۔
چینی ماہرین کے مطابق واشنگٹن سکیورٹی معاہدوں، توانائی کے شعبے میں تعاون اور مالیاتی نظام کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کے ذرائع برقرار رکھ سکتا ہے۔ عراق کی تیل کی آمدنی کا امریکی مالیاتی نظام پر انحصار بھی ان ذرائع میں شامل ہے۔
شین ہوا نے ایک اور حصے میں امریکی فوجی انخلا کو ایران کے قریب امریکی فوجی موجودگی میں کمی اور تہران کے لیے اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو وسعت دینے کے لیے زیادہ گنجائش پیدا ہونے کا ایک سبب قرار دیا۔
اس کے مقابلے میں ایران کے قریب سمجھے جانے والے معاون راستوں کو محدود رکھنے کے لیے شام کے ساتھ امریکی سکیورٹی تعاون میں اضافے کے امکان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عراق کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ بغداد داخلی اختلافات پر قابو پانے، مسلح گروہوں کو ریاستی نظام میں ضم کرنے اور خطے میں توازن برقرار رکھنے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔
ودوموستی: ٹرمپ نے ایران جنگ کے جلد خاتمے کی بات کی
روسی اخبار ودوموستی نے ٹرمپ نے ایران جنگ کے جلد خاتمے کی خبر دی کے عنوان سے ایک رپورٹ میں امریکی صدر کے ان بیانات کا جائزہ لیا جن میں انہوں نے جنگ کے حوالے سے 2 ممکنہ راستوں، یعنی ایران کے ساتھ معاہدہ یا دوبارہ حملے شروع کرنے، کا ذکر کیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں جنگ بہت جلد ختم ہوجائے گی اور واشنگٹن یا تو تہران کے ساتھ معاہدہ کرسکتا ہے یا دوبارہ حملے شروع کرسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے ان بیانات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب تہران نے اعلان کیا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز میں سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے سے متعلق ایران کی تجویز پر امریکہ کا باضابطہ جواب موصول ہوگیا ہے اور ملک کے اعلیٰ عہدیدار واشنگٹن کی جوابی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ودوموستی کے مطابق قطر اور دیگر علاقائی ثالث ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کررہے ہیں، تاہم بنیادی معاملات پر دونوں فریقوں کے اختلافات اب بھی نمایاں ہیں۔
تہران چاہتا ہے کہ مذاکرات کا مرکز آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امریکہ کی جانب سے عائد بحری محاصرے کے خاتمے پر ہو، جبکہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مزید رعایتیں حاصل کرنا چاہتا ہے۔


مشہور خبریں۔
اوکراین کی جانب سے روس پر وسیع ڈرون حملے کی لہر
?️ 19 جون 2026 سچ خبریں: نیوز میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اوکرائن نے
جون
سی آئی اے ڈائریکٹر کے سعودی عرب خفیہ دورے کا راز کیا تھا؟
?️ 15 مئی 2022سچ خبریں: گزشتہ ماہ، علاقائی دورے کے ایک حصے کے طور پر،
مئی
غزہ کی تعمیرِ نو کے اخراجات میں شرکت سے صہیونی حکومت کا انکار
?️ 22 فروری 2026غزہ کی تعمیرِ نو کے اخراجات میںشرکت سے صہیونی حکومت کا انکار
فروری
برطانیہ کے کوویشیلڈ ویکسین کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے ہندوستانی عوام برہم
?️ 23 ستمبر 2021سچ خبریں: وا ٹوڈی کے مطابق ہندوستان نے یہ بھی نوٹ کیا کہ
ستمبر
عراق میں امریکی فوجی قافلہ پر حملہ
?️ 17 اپریل 2021سچ خبریں:عراقی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی عراق میں امریکی
اپریل
مہنگائی سے متعلق وزیر خزانہ شوکت ترین کا اہم بیان
?️ 16 اکتوبر 2021واشنگٹن(سچ خبریں) واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین
اکتوبر
شہریار منور کا صارف کے کمنٹ پر سوال، پاکستان کا قصور تو بتاؤ؟
?️ 21 اپریل 2021کراچی (سچ خبریں) اداکار شہریار منور نے ایک صارف کے پوسٹ پر
اپریل
قاتل اور شہید کے درمیان موازنہ انصاف نہیں:سید حسن نصراللہ
?️ 4 جنوری 2022سچ خبریں:حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے شہید قاسم سلیمانی
جنوری