ورلڈ کپ ختم، جنگ باقی؛ ایران کے خلاف جنگ پر عالمی ذرائع ابلاغ کا جائزہ

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:عالمی میڈیا نے ایران کے خلاف جاری جنگ، آبنائے ہرمز، مشرق وسطیٰ کی سلامتی، امریکہ، اسرائیل اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر مختلف زاویوں سے تجزیے پیش کیے ہیں۔

امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد نہ صرف اس کارروائی کے اعلان کردہ اہداف حاصل نہ ہو سکے بلکہ متعدد مغربی حکام اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس جنگ نے حملہ آور فریق کو سیاسی، عسکری اور تزویراتی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

 شہری علاقوں پر حملوں اور معصوم شہریوں کی ہلاکتوں سے شروع ہونے والی اس کشیدگی نے جلد ہی انسانی، سلامتی اور اقتصادی پہلو اختیار کر لیے، جن پر عالمی میڈیا نے مختلف زاویوں سے تبصرے کیے ہیں۔

 عرب ذرائع ابلاغ

الجزیرہ نے اپنے ایک تجزیے میں لکھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے نئے مرحلے میں اردن پہلے سے زیادہ خطرات سے دوچار ہو گیا ہے۔ تجزیہ کے مطابق، اس بار ایران نے صرف امریکی فوجی اہداف ہی نہیں بلکہ اردن کی اہم تنصیبات، جن میں عقبہ کی بندرگاہ اور ہوائی اڈہ بھی شامل ہیں، کو نشانہ بنایا ہے۔ تجزیہ نگار کے مطابق یہ اقدام ایران کی بازدارانہ صلاحیت برقرار رکھنے، امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ بڑھانے اور خطے میں نئی سلامتی کی مساوات قائم کرنے کی کوشش ہے۔

تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ اردن ایک طرف ایران کے دباؤ اور دوسری جانب امریکی پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان پھنسا ہوا ہے، جبکہ اس کے لیے خطرات کم کرنے کا بہترین راستہ سفارت کاری، قطر کی ثالثی کی حمایت اور مذاکرات کی بحالی ہے۔ تجزیہ میں نیتن یاہو حکومت کے کردار پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

رأی الیوم نے لکھا کہ مشرق وسطیٰ اپنی تاریخ کے ایک نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں بیک وقت کئی بحران اور جنگیں جاری ہیں۔

تجزیہ کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اب صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہی بلکہ علاقائی اثر و رسوخ، توانائی کی سلامتی، بازدارندگی اور طاقت کے توازن کی جنگ بن چکی ہے۔

تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اب صرف تیل کی گزرگاہ نہیں بلکہ ایران کے لیے عالمی معیشت اور علاقائی سلامتی پر دباؤ ڈالنے کا ایک اہم تزویراتی ذریعہ بن چکی ہے۔

تجزیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل براہ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر رہا ہے، جبکہ خطہ ایک نئے معاہدے یا بڑے بحران کے دو راستوں پر کھڑا ہے۔

المیادین نے اس سوال کا جائزہ لیا کہ آیا امریکہ جنوبی ایران میں زمینی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ امریکہ کو فضائی اور بحری برتری حاصل ہے، لیکن ایران کی جغرافیائی ساخت، خصوصاً زاگرس کے پہاڑی سلسلے اور وسیع رقبہ، کسی بھی زمینی پیش قدمی کو انتہائی مشکل بنا دیتے ہیں۔

تجزیے کے مطابق اگر امریکی افواج جنوبی ساحل پر اترنے میں کامیاب بھی ہو جائیں تو انہیں ایرانی میزائلوں، ڈرون حملوں اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے طویل اور مہنگی جنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

 چینی اور روسی ذرائع ابلاغ

رشیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ ’’ایران اور امریکہ پہلے ہی اپنی اگلی جنگ لڑ رہے ہیں‘‘ میں لکھا کہ خلیج فارس میں نئی کشیدگی اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریق فوجی ذرائع سے بحران حل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور خطہ عارضی جنگ بندیوں اور بار بار بڑھتی کشیدگی کے ایک نئے چکر میں داخل ہو چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ایران پر نئے فضائی حملے کیے جبکہ ایران نے امریکی فوجی مراکز، مواصلاتی اور دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا۔ اسی دوران یمن کی انصار اللہ تحریک نے بھی سعودی عرب کے خلاف کارروائیاں کر کے تنازع کا دائرہ وسیع کر دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ دونوں فریق مکمل جنگ نہیں چاہتے، لیکن چونکہ کوئی بھی دوسرے کو فیصلہ کن شکست نہیں دے سکا، اس لیے پائیدار معاہدے کے امکانات بھی کمزور دکھائی دیتے ہیں۔

گلوبل ٹائمز نے ’’ورلڈ کپ ختم ہو گیا، مگر جنگ نہیں‘‘ کے عنوان سے اپنے اداریے میں لکھا کہ فٹبال ورلڈ کپ کے اختتام کے فوراً بعد امریکی میڈیا کی توجہ دوبارہ ایران کے خلاف جنگ کی طرف منتقل ہو گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کسی کھیل کی طرح مقررہ وقت پر ختم نہیں ہوتی بلکہ ہر نئی ہلاکت یا زخمی ایک نئے بحران کو جنم دیتا ہے۔

اداریے کے مطابق شمالی عراق میں ایک اور امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد امریکی ہلاکتوں کی تعداد 17 اور زخمیوں کی تعداد 420 سے تجاوز کر گئی، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان حملوں کا تبادلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

تجزیہ نگار کے مطابق بڑھتے ہوئے جانی نقصانات نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سیاسی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی ڈیموکریٹ رہنما آئین کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان جنگ کا اختیار دوبارہ کانگریس کو دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اگرچہ وائٹ ہاؤس ان قراردادوں کو لازمی نہیں سمجھتا۔

گلوبل ٹائمز نے مزید لکھا کہ ٹرمپ نے حالیہ حملوں کو ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے نام منسوب کیا، تاہم اس قسم کی زبان انتقام اور مزید کشیدگی کے ایک نئے سلسلے کو جنم دے سکتی ہے۔

اداریے کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ورلڈ کپ کی وقتی خوشی کے برعکس جنگ کے اثرات، جن میں انسانی جانوں کا نقصان، بھاری مالی اخراجات اور حکومتی جوابدہی کے مطالبات شامل ہیں، آنے والے کئی برسوں تک امریکی سیاست اور معاشرے پر اثر انداز ہوتے رہیں گے۔

مشہور خبریں۔

اسرائیلی صدر نے ہنگری کے دورے کے دوران اپنا جھنڈا دکھانے سے کیا انکار 

?️ 21 اکتوبر 2026سچ خبریں: اسرائیلی صدر اسحاق ہرٹزوگ نے مجارستان کے دورے میں غزہ

کیا سعودی تل ابیب کے لئے خطرے بن رہا ہے ؟

?️ 13 اگست 2023سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے تل ابیب میں سعودی عرب کے ساتھ معمول

امید ہے اب افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی

?️ 17 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا

حلقہ بندیوں سے متعلق بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

?️ 18 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے عام انتخابات میں تاخیر کرنے

سام سنگ کا اے 16 پیش، 6 سال تک اپڈیٹ دینے کا اعلان

?️ 8 اکتوبر 2024سچ خبریں: جنوبی کوریا کی ملٹی نیشنل اسمارٹ فونز بنانے والی کمپنی

گوگل کا ورچوئل لباس آزمانے کا نیا اے آئی فیچر متعارف

?️ 25 جولائی 2025سچ خبریں: دنیا کے مقبول ترین سرچ انجن گوگل نے ایک نیا

مسجد اقصیٰ کے بارے میں بی بی سی کے جھوٹ

?️ 11 فروری 2022سچ خبریں:برطانوی سرکاری میڈیا ایک نئے دور میں یہ باور کرانے کی

نااہلی کی مدت سے متعلق کیس: سپریم کورٹ کا تمام درخواستیں ایک ساتھ سننے کا فیصلہ

?️ 13 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے میر بادشاہ قیصرانی نا اہلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے