?️
سچ خبریں:جرمنی کے وزیرِ خارجہ یوہان وادفول خلیجِ فارس کے دورے پر ہیں؛ وہ علاقے کے رہنماؤں سے ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 شقوں پر مبنی غزہ منصوبے، اس کی عملی کامیابی اور یورپی-خلیجی تعاون پر مشاورت کریں گے۔ برلن سیاسی اور تعمیرِ نو دونوں شعبوں میں بین الاقوامی شراکت داری چاہتا ہے۔
جرمن وزیرِ خارجہ یوہان وادفول خلیجِ فارس کے حالیہ دورے کے دوران اعلان کیا ہے کہ وہ اس خطے کے رہنماؤں کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے نیز یورپی یونین اور خلیجِ فارس تعلقات کے فروغ پر تبادلۂ خیال کریں گے، اس دورے کا پس منظر اس وقت خاص طور پر اہم ہے جب غزہ میں جنگ بندی اور بحالی کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر گفت و شنید جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ جنگ بندی مذاکرات کی نئی تفصیلات؛ حماس کی جانب سے ٹرمپ پلان کی 2 شقوں کی مخالفت
جرمن خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وادفول نے اپنی یورپی اور خلیجی شراکت داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹرمپ کے منصوبے کی کامیابی کے لیے مربوط کوششیں کریں۔ روانگی سے قبل ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کو فوراً نافذ کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر فعال اور متحدہ تعاون درکار ہوگا۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وادفول نے حال ہی میں آزاد فلسطینی ریاست کو فوری طور پر تسلیم نہ کرنے کے اپنے موقف کو دہرایا تھا اور بتایا کہ برلن کے پاس اس سلسلے میں کوئی فوری منصوبہ موجود نہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ موجودہ لمحے میں اسرائیلی کابینہ اور حماس ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں مگر عمل درآمد کے لیے اثر رسوخ رکھنے والے فریقین کی شمولیت ضروری ہے۔
یاد رہے کہ پیر کے روز مصر میں بعض ثالث فریقین کے ذریعے ٹرمپ کے منصوبے پر مذاکرات طے پائے ہیں اور وزارتِ خارجہ مصر کے مطابق وہاں اسرائیلی اور حماس کے نمائندے اسرا (قیدیوں) کے تبادلے اور فلسطینی قیدیوں کے معاملے پر بات چیت کریں گے۔
وادفول کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ کا امن منصوبہ ایک منفرد موقع پیش کرتا ہے کیونکہ اس کی حمایت عرب ممالک بھی کر رہے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ جرمنی سیاسی عمل اور تعمیرِ نو کے تناظر میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
دورے کے ایجنڈے کے مطابق وادفول کا پہلا دورہ قطر میں محمد بن عبدالرحمن آل ثانی، وزیرِ خارجہ قطر، سے ہوگا۔ قطر اس بات میں کلیدی ثالث کی حیثیت رکھتا رہا ہے کہ وہ اسرائلی-فلسطینی تنازعہ کے حل کے لیے مذاکرات میں سہولت کار رہا ہے۔
وادفول نے کہا کہ وہ دوحہ میں اپنے قطری ہم منصب کے ساتھ حماس کی اس بات پر کارکردگی اور فوری رہائیِ اسرا کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
اس کے بعد وادفول کویت میں یورپی یونین اور خلیجی تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے — کویت اس وقت اس کونسل کی صدارت کر رہی ہے۔ جرمن وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ برلن بھی خلیجی ممالک کی طرح امن، سلامتی اور خوشحالی کی کوششوں کا شراکت دار ہے۔
مزید برآں، وادفول کے دورے کا ایک اور مقصد 2024 میں بروکسل میں یورپی یونین اور خلیجی ممالک کے سربراہی اجلاس کے دوران طے پائے تعاون کے عملی پہلوؤں کو مضبوط بنانا بھی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے مشترکہ پریس کانفرنس کے کچھ گھنٹوں بعد ٹرمپ کے 20 شقوں پر مشتمل غزہ امن منصوبے کا متن جاری کیا، اس میں دعویٰ کیا گیا کہ اگر متعلقہ فریقین نے اسے قبول کر لیا تو جنگ فوراً ختم ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں:حماس کے ٹرمپ کے منصوبے پر رضامندی کا اعلان کرنے کے بعد سے غزہ پر 230 حملے
وادفول نے ابتدائی ردعمل میں کہا کہ یہ منصوبہ غزہ کے سینکڑوں ہزاروں باشندوں کے لیے حقیقی امید فراہم کر سکتا ہے، کیونکہ اس کے تحت پہلے مرحلے میں شدید انسانی بحران سے نجات اور قیدیوں کی رہائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔


مشہور خبریں۔
ای سی سی کی ٹی سی پی کو چین اور آذربائیجان سے یوریا درآمد کرنے کی اجازت
?️ 19 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے
نومبر
صیہونی حکومت کے خلاف ہیگ کی عدالت کے فیصلے کا امکان
?️ 21 جنوری 2024سچ خبریں:جنوبی افریقہ کی مشاورتی ٹیم کے ایک رکن نے پیش گوئی
جنوری
وزیر کے بیان پر سوشل میڈیا صارفین کا غم و غصہ
?️ 6 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیر داخلہ سندھ بریگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نواز نے
ستمبر
غزہ میں جنگ روکنا کسی بھی مزید کارروائی کے لیے بنیادی شرط ہوگی
?️ 30 جنوری 2024سچ خبریں:طاہر النونو نے کہا کہ جنگ کے خاتمے اور جنگ بندی
جنوری
امریکی رکن کانگریس نے فلسطین پر جاری حملوں کو دہشت گردی قرار دے دیا
?️ 13 مئی 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکہ میں کانگریس کی مسلمان رکن خاتون الہان عمر
مئی
عید کے بعد وفاقی کابینہ میں بڑی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں
?️ 13 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کےمطابق عید کے بعد وفاقی کابینہ میں
جولائی
ہمیں سمجھ ہی نہیں آرہا ہے کہ کیا ہوا ہے؛ صیہونی میڈیا
?️ 16 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی میڈیا نے یمنی افواج کے میزائل حملے کے 24
ستمبر
فلسطینی قیدیوں پر صیہونی دباؤ میں اضافہ
?️ 21 دسمبر 2021سچ خبریں:فلسطینی ذرائع نے جہاں فلسطینی قیدیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے
دسمبر