?️
سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن فی الحال ایران پر نئے فوجی حملے کے بجائے اقتصادی دباؤ اور پابندیوں میں اضافہ کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔
امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن موجودہ مرحلے میں ایران پر نئے فوجی حملے کے بجائے اقتصادی دباؤ اور پابندیوں میں اضافے کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔
الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ ان کی حکومت کئی ماہ کی پابندیوں اور محاصرے کے بعد ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور فی الحال نئے فوجی حملے کا ارادہ نہیں رکھتی۔
ٹرمپ نے خبر رساں ادارے اکسیوس سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہم اس معاملے کو سکون کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ محدود مذاکرات جاری ہیں اور ہم شدید مہنگائی اور ایران میں مالی وسائل کی کمی کے پیش نظر صرف اس ملک کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اقتصادی اعتبار سے انتہائی خراب صورتحال میں ہے اور اس کے پاس اپنی فوجی فورسز کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے بھی کافی وسائل موجود نہیں ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ ایک ہفتہ قبل ایران کے خلاف دشمنانہ اقدامات دوبارہ شروع کرنے اور ایرانی اہداف کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کا حکم دینے کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم اکسیوس کے ساتھ اپنے حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کسی نئے فوجی خطرے کی بات نہیں کی۔
امریکی صدر نے تہران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں بھی کہا: یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے، وہ ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں۔ مذاکرات شطرنج کے کھیل کی طرح ہیں۔
ٹرمپ نے صہیونی حکومت کے ایک ٹیلی ویژن چینل سے اسی نوعیت کی گفتگو میں دعویٰ کیا کہ امریکی حکومت موجودہ حالات میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کو مؤخر کر رہی ہے اور اپنی توجہ اقتصادی دباؤ میں اضافے اور تہران کے ساتھ معاملات میں صورتحال کو پُرسکون بنانے پر مرکوز کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت ایران کی بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتحال، عوامی عدم اطمینان میں اضافے اور ملک کے اندرونی اختلافات پر بتدریج زیادہ انحصار کر رہی ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے بحری محاصرہ بھی بدستور جاری ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ہفتے کے روز فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہم اس کھیل کے درمیان میں ہیں اور امریکی عوام کے لیے بہترین نتیجہ حاصل کرنے کے لیے سفارتی، اقتصادی اور فوجی ذرائع کے مکمل مجموعے کو استعمال کر رہے ہیں۔


مشہور خبریں۔
2023 میں بین الاقوامی سطح پر ہارنے والے کون ہیں؟
?️ 1 جنوری 2024سچ خبریں: ایک امریکی ویب سائٹ نے گزشتہ سال کی عالمی صورتحال
جنوری
نام نہاد انتخابات حق خود ارادیت کا ہرگز متبادل نہیں، حریت رہنما
?️ 11 ستمبر 2024سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں
ستمبر
فواد چوہدری کا پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے مذاکرات پر حیرانی کا اظہار
?️ 3 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما اور
جولائی
چین روس کو ہتھیار دے رہا ہے یا نہیں، امریکہ کیا کہتا ہے؟
?️ 13 جون 2023سچ خبریں:امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس چین سے
جون
روس یوکرائن کشیدگی نیٹو کی پیداوار ہے:ایران
?️ 25 فروری 2022سچ خبریں:ایران کا کہنا ہے کہ روس اوریوکرائن کے درمیان پیدا ہونے
فروری
یوکرین کی ملٹری امداد پر جرمنی کا کتنا خرچہ ہوا؟
?️ 23 ستمبر 2023سچ خبریں:یوکرین کو ملنے والی فوجی امداد پر اب تک جرمنی کو
ستمبر
اب ٹویٹر بھی آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے
?️ 10 مئی 2021نیویارک(سچ خبریں) سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر کی جانب سے ایک
مئی
18ویں ترمیم کی تبدیلی وقت کی ضرورت بن چکی۔ رانا تنویر حسین
?️ 27 اکتوبر 2025شیخوپورہ (سچ خبریں) وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی اور تحقیق رانا تنویر حسین
اکتوبر