قطر میں ایک بار پھر افغان امن عمل مذاکرات شروع ہوگئے

قطر میں ایک بار پھر افغان امن عمل مذاکرات شروع ہوگئے

?️

دوحہ (سچ خبریں) افغانستان میں جہاں ایک طرف طالبان کی جانب سے ملک میں قبضہ کیا جارہا ہے اور ملک بھر میں آئے دن سینکڑوں افراد ہلاک ہورہے ہیں وہیں دوسری طرف ایک بار پھر قطر کے شہر دوحہ میں افغان اور طالبان رہنماؤں کے مابین افغان امن عمل مزاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں افغان امن عمل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے آغاز میں کہا کہ آئیے! امن کے عمل کو جاری رکھنے اور لوگوں کے قتل کو روکنے کے لیے اہم اقدامات کریں۔

عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ کیونکہ ہم خون سے اس کی قیمت ادا نہیں کرسکتے اور ہم اس ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے، اس موقع پر طالبان کے نائب رہنما اور مذاکرات کار ملا عبد الغنی برادر نے پیشرفت نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ لیکن پھر بھی اُمید پیدا ہونی چاہیے اور طالبان مذاکرات کے مثبت نتائج کے لیے کوششیں کریں گے۔

ایک ذرائع کے مطابق سابق افغان صدر حامد کرزئی بھی دوحہ کا سفر کرنے والے تھے لیکن وہ روانہ نہ ہوسکے، ایک نمائندے نے بتایا کہ مذاکرات کے وقت افغانستان کے امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد موجود تھے۔

دوحہ میں افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم کی ترجمان ناجیہ انوری نے بتایا کہ اعلیٰ سطح کا وفد یہاں دونوں فریقین سے بات چیت کرنے، ان کی رہنمائی کرنے اور (حکومت کی) مذاکراتی ٹیم کی مدد کرنے کے لیے یہاں موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ مذاکرات تیزی سے مکمل ہوں اور تھوڑے ہی عرصے میں دونوں فریق کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے اور ہم افغانستان میں پائیدار امن کا دور دکھیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے بتایا تھا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور ہماری ترجیح یہ ہے کہ بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کیا جائے۔

انہوں نے کہا تھا کہ دوسری جانب سے مسائل کے خاتمے کے لیے ایک حقیقی اور مخلصانہ خواہش ہونی چاہیے۔

محمد نعیم نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔

ملا عبد الغنی برادر نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ جب ہم اپنے بڑے اہداف کو حاصل کرتے ہیں تو ہمیں تفصیلات سے غور کرنا ہوگا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد مسلسل پیش قدمی کرنے والے افغان طالبان نے ملک کے 85 فیصد حصے پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔

طالبان کے اس دعوے کی تصدیق یا تردید کرنا ناممکن ہے لیکن مذکورہ بیان سابقہ دعوؤں کی نسبت کہیں زیادہ مصدقہ معلوم ہوتا ہے جہاں ان کا کہنا تھا کہ ملک کے 421 اضلاع اور ضلعی مراکز میں سے ایک تہائی پر وہ قبضہ کر چکے ہیں۔

مشہور خبریں۔

ابھی واضح نہیں آزادکشمیر کا وزیراعظم کون ہوگا۔ نیئر حسین بخاری

?️ 26 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سابق چیئرمین سینیٹ و سیکرٹری جنرل پیپلزپارٹی نیئرحسین

اسلام آباد پولیس نے 4 مقدمات کی تفتیش کے سلسلے میں عمران خان کو طلب کرلیا

?️ 6 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد پولیس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی

گڈو بیراج پر اونچے، سکھر پر درمیانے درجے کا سیلاب، پنجاب میں پھر بارش کا الرٹ جاری

?️ 14 ستمبر 2025سکھر: (سچ خبریں) پنجاب کے دریاؤں سے آنے والا سیلاب سندھ میں

ڈسکہ الیکشن میں دھاندلی رپورٹ کو حقائق کے منافی ہے

?️ 6 نومبر 2021لاہور(سچ خبریں) سابق معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ڈسکہ الیکشن

ٹیکنالوجی کی دنیا میں کون سا انقلاب آنے والا ہے؟

?️ 20 ستمبر 2023سچ خبریں: کمپیوٹنگ کی دنیا میں ڈی این اے کمپیوٹر ایک ایسی

اسرائیلی جیلوں میں موت کی کوٹھریاں

?️ 3 مئی 2025سچ خبریں: فلسطینی قیدیوں کے خلاف صہیونیستوں کے تشدد میں گزشتہ کئی ماہ

صیہونیوں کے لیے فضائی حدود کھولنا دوستی کی علامت نہیں:سعودی عرب

?️ 28 جولائی 2022سچ خبریں:ریاض کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات

مغربی ایشیا کے ماہر: اسرائیل لبنان پر جنگی علاقے پر حکومت کرنا چاہتا ہے

?️ 4 دسمبر 2025سچ خبریں: مغربی ایشیا میں پیشرفت کے ماہر کا خیال ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے