فرانسیسی عدالت نے منفی اثرات رکھنے والی دوا بنانے کے جرم میں کمپنی پر 50 ارب روپے جرمانہ عائد کردیا

فرانسیسی عدالت نے منفی اثرات رکھنے والی دوا بنانے کے جرم میں کمپنی پر 50 ارب روپے جرمانہ عائد کردیا

?️

فرانس (سچ خبریں) فرانسیسی عدالت نے دواساز کمپنی کی ناقص کارکردگی اور منفی اثرات رکھنے والی دوا بنانے کے جرم میں اس پر 50 ارب روپے جرمانہ عائد کردیا ہے اور ساتھ ہی کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی قید کی سزا سنائی ہے۔

تفصیلات کے مطابق فرانس کی عدالت نے دوا ساز کمپنی کا خطرناک منفی اثرات رکھنے والی دوا تیار کرنے اور اس دوا کے استعمال سے درجنوں افراد کے ہلاک ہوجانے پر کمپنی پر جرمانہ عائد کردیا۔

خبر رساں ادارے یورو نیوز کے مطابق فرانسیسی عدالت نے دوا ساز کمپنی کو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بنائی گئی دوا کے ناقص اور موتمار ہونے کے جرائم ثابت ہونے پر جرمانہ عائد کیا جبکہ کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی قید کی سزا سنائی۔

عدالت نے فرانسیسی ملٹی نیشنل کمپنی (سرویئر) پر 32 کروڑ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 50 ارب روپے کے قریب جرمانہ سنایا جب کہ کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی قید کی سزا سنائی، تاہم عہدیداروں کی سزا غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔

عدالت نے کمپنی کے دو اعلیٰ عہدیداروں کو 3 اور 4 سال کی سزا سمیت بھاری جرمانے کی سزا بھی سنائی، تاہم فوری طور پر ان کی سزا غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔

فرانسیسی عدالت نے ناقص دوا کی سرعام مارکیٹ میں کئی سال تک فروخت ہونے پر فرانس کی حکومتی ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی پر بھی تقریبا 36 لاکھ امریکی ڈالر جرمانہ عائد کیا۔

29 مارچ کو ہونے والی سماعت کے دوران فرانسیسی دوا ساز کمپنی نے ذیابیطس کی دوائی پر لگائے جانے والے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کو دوا کے اتنے شدید منفی اثرات کا علم نہیں تھا۔

عدالت نے کمپنی کو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بنائی گئی گولیوں (Mediator) کے ناقص اور اس کے شدید منفی اثرات پر جرمانے کی سزا سنائی۔

فرانسیسی کمپنی نے (Mediator) کو 33 سال تک 2009 تک فروخت کرتی رہی تھی، مذکورہ گولیوں کے شدید منفی اثرات پر ماہرین صحت نے 1997 میں ہی آوازیں اٹھانا شروع کی تھیں۔

فرانسیسی کمپنی کی جانب سے تیار کی گئی (Mediator) گولیوں کو ذیابیطس کے مریضوں کو دیا جاتا تھا، تاکہ ان کا وزن کم ہو مگر بعد ازاں ماہرین صحت نے گولیوں کے شدید منفی اثرات میں دیکھا کہ گولیاں دل کے دورے اور پھیپھڑوں کے ختم ہونے سمیت دیگر موضی بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں۔

اندازے کے مطابق 33 سال کے دوران مذکورہ گولیوں کو یورپ سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے 50 لاکھ مریضوں نے استعمال کیا اور ان گولیوں کے شدید منفی اثرات سے 500 سے 2 ہزار اموات ہوئیں۔

مذکورہ گولیوں کو کمپنی نے 2009 میں اس وقت بند کردیا تھا جب گولیوں کے منفی اثرات سے فرانس میں ہلاکتوں میں اضافہ ہوا اور زیادہ تر ہلاکتوں کی نشاندہی ایک خاتون ڈاکٹر نے کی تھی۔

واضح رہے کہ علاج کے بجائے لوگوں کو موت میں دھکیلنے والی گولیاں بنانے پر فرانسیسی کمپنی کے خلاف 2019 میں ٹرائل شروع کیا گیا جس کا فیصلہ 29 مارچ 2021 کو سنایا گیا۔

مشہور خبریں۔

پوٹن نے یوکرین کے معاملے میں مغرب کی کمزوریوں کو کیا بے نقاب

?️ 17 فروری 2022سچ خبریں: روسی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے اپنے ایک مضمون میں لکھا

اسرائیل میں سیاسی تعطل برقرار؛انتخابات کے ابتدائی نتائج

?️ 24 مارچ 2021سچ خبریں:مقبوضہ فلسطین میں عام انتخابات میں 89 فیصد ووٹوں کی گنتی

بھارتی حکام نے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیئے ایک اور ظالمانہ قدم اٹھالیا

?️ 2 اگست 2021سرینگر (سچ خبریں)  بھارتی حکومت کی جانب سے آئے دن کشمیریوں کی

پنجاب میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں پھر تیزی آگئی

?️ 18 مئی 2021لاہور(سچ خبریں) صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں پھر تیزی

پاکستان کا ابابیل ویپن سسٹم کا کامیاب تجربہ

?️ 18 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے ہتھیاروں کے نظام ابابیل ویپن سسٹم

فرانس کا ایک اور اسلام مخالف اقدام؛مذہبی آزادی کے خلاف بل پاس

?️ 24 جولائی 2021سچ خبریں:فرانسیسی قومی اسمبلی نے سات ماہ کی کشمکش کے بعد پیرس

یمن میں اقوام متحدہ کے انسپکٹر نے اسرائیلی جاسوس سافٹ ویئر کو نشانہ بنایا

?️ 20 دسمبر 2021سچ خبریں:   اقوام متحدہ کے انسپکٹر جنرل برائے یمن کمال الجندوبی کے

اربوں کے ڈکیتوں کو نہیں چھوڑوں گا:وزیر اعظم

?️ 18 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ شہباز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے