200 امریکی افغانستان چھوڑنے کے خواہاں

افغانستان

?️

سچ خبریں:بائیڈن انتظامیہ نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ 300 سے زائد امریکی اب بھی افغانستان میں موجود ہیں جن میں سے 176 اس کوملک چھوڑنے کے خواہاں ہیں۔
امریکی کانگریس انفارمیشن سروس کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے قانون سازوں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں 363 امریکیوں کے ساتھ رابطے میں ہے جن میں سے 176 افغانستان چھوڑنے کے خواہاں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ، افغانستان میں اب بھی امریکی شہریوں کی ایک تعداد موجود ہے جو یہ ملک چھوڑنے کے خواہاں ہیں جبکہ یہ تعداد امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے پہلے اعلان کے مقابلے میں زیادہ ہے،بلنکن پہلے کہہ چکے ہیں کہ 200 سے کم یا تقریبا 100 امریکی افغانستان میں ہیں جو اس ملک کو چھوڑنا چاہتے ہیں۔

یادرہے کہ 5 ستمبر کو وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف رون کلین نے افغانستان چھوڑنے کے منتظر امریکی شہریوں کی تعداد 100 کے قریب بتائی جبکہ بائیڈن انتظامیہ نے اگست کے آخر سے 234 امریکیوں کو افغانستان سے نکال لیا ہے۔

 

مشہور خبریں۔

الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں آج بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے معذرت کرلی

?️ 31 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے برعکس الیکشن

تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات: امریکی میڈیا

?️ 22 جنوری 2024سچ خبریں: امریکی ذرائع ابلاغ نے مقبوضہ فلسطین میں موجود داخلی بحرانوں

ٹرمپ کی دھواں دار واپسی:امریکی داخلی سیاست میں دو ماہ کے اندر متنازعہ اقدامات

?️ 27 مارچ 2025 سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ وائٹ ہاؤس واپسی نے امریکی داخلی

غزہ میں حملہ آوروں کے لیے مزاحمت تیار

?️ 1 نومبر 2023سچ خبریں:حماس کے سرکردہ رہنما خالد مشعل نے ترک ٹی وی چینل

ایلات کی مقبوضہ بندرگاہ کی ناکہ بندی کو کم کرنے کے لیے یمن کی پیشگی شرط

?️ 18 جولائی 2024سچ خبریں: یمن اور عراق کی مزاحمتی قوتوں کی طرف سے وقتاً

صیہونیوں کی مشرقی یروشلم میں ایک مسجد کو شہید کرنے کی کوشش

?️ 13 جنوری 2022سچ خبریں:مقبوضہ بیت المقدس کی بلدیہ کاکہنا ہے کہ صیہونیوں کی جانب

افغانستان سے آخری برطانوی فوجی کی روانگی کے ساتھ ہی 20 سال کے ناجائز قبضے کا خاتمہ

?️ 29 اگست 2021کابل (سچ خبریں) برطانیہ کی جانب سے کابل سے آخری فوجی طیارے

حاج قاسم نے خطے کے لوگوں کو متحد کرنے میں کیا کردار ادا کیا؟

?️ 2 جنوری 2023سچ خبریں:    بین الاقوامی امور کے ماہر ابوالفضل ظہرہ وند پیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے