غزہ اور جنگ کا بل: وہ مطالبہ جسے یورپ نظرانداز نہیں کر سکتا

غزہ

?️

سچ خبریں: خبر رساں ویب سائٹ “ای یو آبزرور” نے اپنی ایک رپورٹ میں غزہ جنگ کے حوالے سے یورپی یونین کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ برسلز کو جس طرح یوکرین کے معاملے میں روس سے جنگی نقصان کی ادائیگی کا مطالبہ کرتا ہے، اسی طرح اسرائیل کو بھی بین الاقوامی قانون کے تحت غزہ میں ہونے والے نقصانات اور یورپی فنڈ سے چلنے والے منصوبوں کے ازالے کا پابند بنانا چاہیے۔

 یورپی یونین غزہ کی تعمیرِ نو کو ایک اخلاقی ذمہ داری سمجھتی ہے، لیکن وہ اب تک اسرائیل کو جنگ سے ہونے والی تباہی اور وسیع نقصانات کی ذمہ داری میں شامل کرنے سے گریز کر رہی ہے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی عرفی قانون کے بنیادی اصول کے مطابق جو ملک بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرے، وہ اپنے اقدامات سے ہونے والے نقصانات کی تلافی کا پابند ہوتا ہے۔ یورپی یونین نے 2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد اسی اصول کی بھرپور حمایت کی تھی اور روس سے مکمل معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

برسلز نے اس سلسلے میں یورپی کونسل کے تحت نقصانات کے اندراج، بین الاقوامی کمیشن کے قیام اور روسی جنگی جرائم پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تحقیقات کی بھی حمایت کی۔

“ای یو آبزرور” کے مطابق سوال یہ ہے کہ یورپی یونین غزہ کی تباہی کے معاملے میں ایسا ہی رویہ کیوں نہیں اپناتی؟ رپورٹ میں اسے برسلز کی “دوہری پالیسی” قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کی خاموشی اور عدم اقدام نے غزہ کی تعمیرِ نو کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

تجزیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے میں یورپی یونین کے مالی تعاون سے چلنے والے متعدد منصوبے تباہ ہو چکے ہیں۔ تازہ اندازوں کے مطابق کم از کم 150 ملین یورو مالیت کے یورپی منصوبے، جن میں اسپتال، اسکول، پانی صاف کرنے کے پلانٹ اور بجلی گھر شامل ہیں، اسرائیلی کارروائیوں میں تباہ ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک کے دو طرفہ منصوبوں کو شامل کیا جائے تو مجموعی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ یورپی کمیشن نے بھی تسلیم کیا ہے کہ 2020 سے اب تک کم از کم 12 بار اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان یورپی فنڈ سے چلنے والے منصوبوں کے نقصانات کی تلافی کرے۔

تاہم اب تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ اسرائیل نے ان نقصانات کا کوئی معاوضہ ادا کیا ہو۔

تجزیے میں یورپی کمیشن اور یورپی خارجہ سروس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں تباہ ہونے والے یورپی منصوبوں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائیں اور کھل کر ان نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کریں۔

رپورٹ میں فلسطینی محصولات اور کسٹمز آمدن کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جنہیں اسرائیل 1994 کے پیرس پروٹوکول کے تحت فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جمع کرتا ہے، لیکن اس میں سے کچھ حصہ روک لیتا ہے یا یکطرفہ طور پر کاٹ لیتا ہے۔

یورپی یونین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو پابند کرے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کو یہ آمدن بغیر کسی شرط کے مکمل طور پر منتقل کرے، کیونکہ اس عمل کے جاری رہنے سے فلسطینی مالی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے اور غزہ کی تعمیرِ نو مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

تجزیے کے مطابق جنگی نقصانات کی تلافی اور جواب دہی امن عمل کا لازمی حصہ ہے اور یہ انصاف کے قیام اور جنگی جرائم کے خاتمے کی طرف پہلا قدم ہو سکتا ہے۔

آخر میں “ای یو آبزرور” نے خبردار کیا ہے کہ غزہ جنگ پر یورپی یونین کی خاموشی عالمی جنوب میں اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، تاہم برسلز کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ اسرائیل سے معاوضے کا مطالبہ کر کے اور آئندہ بجٹ میں غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے وسائل مختص کر کے دو ریاستی حل کی حمایت کرے اور اپنی اخلاقی ساکھ بحال کرے۔

مشہور خبریں۔

گوٹریس اور اردنی وزیر خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بارے میں خبردار کیا

?️ 26 فروری 2026سچ خبریں: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور اردن کے

اپنی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے امریکہ نے ایک بار پھر کیوبا کو دھمکی دی 

?️ 12 جولائی 2026سچ خبریں: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیوبا کے حکام سے خطاب

فلسطینی عوام کو اپنے ملک سے محروم ہونے پر کیوں مجبور کیا جاتا ہے؟ : اسپین

?️ 25 ستمبر 2025سچ خبریں: اسپین کے وزیر خارجہ خوسی مانوئل الباریس نے الجزیرہ کے

صیہونی نجی سکیورٹی کیمروں تک ایران کی رسائی؛بلومبرگ کا انکشاف

?️ 20 جون 2025 سچ خبریں:بلومبرگ نے رپورٹ دی ہے کہ ایران نے مقبوضہ فلسطینی

بلوچستان اسمبلی: عبدالخالق اچکزئی بلا مقابلہ اسپیکر، غزالہ گولہ ڈپٹی اسپیکر منتخب

?️ 29 فروری 2024کوئٹہ: (سچ خبریں) مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن ریٹائرڈ عبد الخالق

اگر جنگ جاری رہی تو اسرائیل معاشی تباہی کا شکار ہوگا

?️ 19 نومبر 2023سچ خبریں: امریکی میڈیا کے مطابق بعض ریزرو فوجیوں کے انخلا کے وقت

کشیدگی پیدا کرنے پر عرب پارلیمنٹ کی صیہونیوں کی تنقید

?️ 6 دسمبر 2022سچ خبریں:عرب پارلیمنٹ نے صیہونی حکومت کی طرف سے مغربی کنارے میں

وینس نے انتخابات کے بعد ایران کے خلاف جنگ ختم ہونے کے ٹرمپ کے دعوے کو دہرایا

?️ 16 ستمبر 2026سچ خبریں: امریکی دہشت گرد حکومت کے سربراہ ڈونلڈ ٹرمپ کے معاون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے