?️
سچ خبریں: صیہونی حکومت کے سابق وزیر اعظم نے حالیہ جنگ میں اسٹریٹجک ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے زور دیا کہ اعلان کردہ اہداف حاصل نہیں ہوئے، حزب اللہ کو تباہ کرنے کا تصور عملی نہیں ہے، اور امریکہ خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت پر انحصار پائیدار نہیں ہوگا۔
ارنا کی منگل کی رپورٹ کے مطابق، رائے الیوم کے حوالے سے، صیہونی حکومت کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے اعتراف کیا کہ اس جعلی حکومت کی تاریخ کی سب سے طویل جنگ اس حال میں ختم ہو رہی ہے کہ اس کے اعلان کردہ اہداف میں سے کوئی بھی حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس صورتحال کا جاری رہنا آنے والے ہفتوں میں اس حکومت کو مزید پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
باراک نے اخبار "ہارتص” میں ایک مضمون میں زور دیا کہ غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ اب بھی میدان میں فعال اور مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران امریکہ اور صیہونی حکومت کے مشترکہ حملوں سے بچ کر نکل گیا ہے اور جوہری اور میزائل پروگرام سے متعلق خطرات اب بھی برقرار ہیں اور کسی بھی معاہدے کے تحت ان کا خاتمہ ہونا مشکل ہے۔
صیہونی حکومت کے امریکہ پر بڑھتے ہوئے انحصار کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حکومت اس جنگ کے دوران "ایک زیرِ حمایت فریق” میں تبدیل ہو رہی ہے جس کے آپریشنل اور سفارتی فیصلے ریاستہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے طے کیے جا رہے ہیں۔
باراک نے غیر متناسب جنگوں کی نوعیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ایسی صورت حال میں، امریکہ اور صیہونی حکومت کو فیصلہ کن فتح کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ مخالف فریق محض بقا کے ذریعے بھی اپنا مقصد حاصل کر لیتا ہے۔ یہ معاملہ دشمن کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے کہ وہ اپنی فوجی صلاحیت، بشمول جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں اضافہ کرے۔
انہوں نے اس اسٹریٹجک ناکامی کی وجہ "خالی فخر” اور "جھوٹے دعوؤں اور عوام کو دھوکہ دینے پر مبنی انتظام” کو قرار دیا اور مزید کہا کہ فتح کے دعوے صرف چند ماہ تک قائم رہے اور سیاسی اور ذاتی مفادات نے حکومت کی سلامتی پر ترجیح حاصل کر لی۔
باراک نے مقبوضہ فلسطین کے شمالی محاذ کے بارے میں، پورے لبنان پر قبضے کے ذریعے حزب اللہ کو تباہ کرنے کے تصور کو "غیر عملی” قرار دیا اور علاقائی سیاسی حل پر تاخیر سے تحقیق کرنے پر تنقید کی۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ ایران کے ساتھ مقابلے کی تقدیر بالآخر جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر طے ہوگی اور یہ عمل صیہونی حکومت کی براہ راست شرکت کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔
باراک نے آگے خبردار کیا کہ اس صورتحال کے نتائج بہت وسیع ہو سکتے ہیں اور بین الاقوامی اداروں میں امریکہ کی روایتی حمایتوں کو بھی کمزور کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صیہونی حکومت کے لیے حمایت بھی ہمیشہ اور یقینی نہیں ہے۔


مشہور خبریں۔
سربراہ پاک بحریہ کا امریکی دورہ، سربراہان سے اہم ملاقاتیں
?️ 19 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی
ستمبر
اسحاق ڈار 17 سے 19 اگست تک برطانیہ کا سرکاری دورہ کریں گے
?️ 16 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق
اگست
نیتن یاہو کو مظاہرین کی آواز کیوں نہیں سنائی دیتی؟: وال اسٹریٹ جرنل
?️ 6 ستمبر 2024سچ خبریں: وال سٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ اسرائیل میں ہونے
ستمبر
نماز پڑھنے پر ہندوستانی ٹیچر سے پوچھ تاچھ؛سوشل میڈیا صارفین کا احتجاج
?️ 3 جون 2022سچ خبریں:بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب پہن کر کلاسوں میں شرکت کے
جون
کروڑوں پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت کرنیکا معاملہ، حکام سے 15 دن میں جواب طلب
?️ 14 اکتوبر 2024کراچی: (سچ خبریں) سندھ ہائیکورٹ میں ساڑھے 11 کروڑ پاکستانیوں کا حساس
اکتوبر
ڈونلڈ لو کا پاکستانی انتخابات سے متعلق گانگریس میں بیان غیرمعمولی نہیں، امریکا
?️ 15 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ
مارچ
امریکہ دنیا کی غیر متنازعہ طاقت نہیں رہا
?️ 30 اپریل 2023سچ خبریں:امریکی محکمہ دفاع کی حال ہی میں افشا ہونے والی دستاویزات
اپریل
عوام سے لاتعلق نہیں ہیں ان کی پریشانیوں کا احساس ہے
?️ 16 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا
جنوری