?️
سچ خبریں: ایک صہیونی میڈیا نے ایران کے خلاف جنگ کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے لیے امریکی عوامی رائے کی حمایت غیرمعمولی رفتار سے گر رہی ہے اور یہ روند تل ابیب کے لیے بحران کا سبب بن سکتی ہے۔
سیکیورٹی میڈیا "والانیوز” کے حوالے سے، اسرائیل نے کئی دہائیوں کے دوران امریکہ سے 300 ارب ڈالر سے زیادہ امداد حاصل کی ہے، لیکن اب یہ تاریخی پشتوانہ گر رہا ہے۔
اس میڈیا نے زور دے کر کہا: حالیہ پیش رفت کے بعد تل ابیب اور واشنگٹن کا خصوصی اور اسٹریٹجک تعلق کسی بھی دوسرے وقت کے مقابلے میں زیادہ امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرمپ” اور اسرائیلی وزیراعظم "بنیامین نیتن یاہو” کے درمیان ذاتی تعلق تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ تعلق نہ صرف کمزور ہے بلکہ صہیونی حکومت کے لیے بہت "زیادہ قیمتی” ثابت ہوگا۔
اس رپورٹ کے مطابق، نئے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی عوام کا اسرائیل کے بارے میں نظریہ خاص طور پر ایران کی سرزمین پر فوجی جارحیت کے بعد شدید منفی ہو گیا ہے۔
والانیوز نے لکھا کہ جہاں 2013 میں امریکیوں کی اکثریت اسرائیل کی حمایت کرتی تھی، وہیں اب سروے کے نتائج اس حمایت میں زبردست کمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس طرح کہ 18 سے 34 سال کی عمر کے نوجوانوں میں اسرائیل کے بارے میں منفی نظریہ 63 فیصد تک پہنچ گیا ہے اور فلسطینیوں کی حمایت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
یہ روند بڑی عمر کے گروہوں میں بھی دیکھی جا رہی ہے، اور 50 سال اور اس سے زیادہ عمر کے امریکیوں میں صہیونی حکومت کی مقبولیت 60 فیصد سے زیادہ سے گھٹ کر 40 فیصد سے کم رہ گئی ہے۔
والانیوز نے مزید کہا: امریکہ میں عوامی حمایت میں کمی تیزی سے وہاں کے سیاستدانوں کے موقف کو متاثر کر رہی ہے۔ کچھ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ اراکین نے کھلے عام اسرائیل کو فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور متعدد سینیٹرز نے تل ابیب پر الزام لگایا ہے کہ اس نے امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے۔
اس صہیونی میڈیا نے خبردار کیا کہ اس روند کے جاری رہنے سے اسرائیل کو امریکی امداد کا اہم حصہ کھونے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ امداد گزشتہ کئی دہائیوں سے تل ابیب کی سلامتی کا بنیادی ستون رہی ہے۔
یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب شواہد کے ایک مجموعے سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کی سرزمین پر جارحیت شروع کرنے کا واشنگٹن کا فیصلہ تل ابیب کے براہ راست اور بالواسطہ دباؤ کے تحت کیا گیا تھا۔ گزشتہ مہینوں میں، متعدد امریکی عہدیداروں بشمول کئی ریپبلکن سینیٹرز نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل نے "ہمیں اس جنگ میں کھینچ لیا”۔
کچھ امریکی تجزیہ کاروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ نیتن یاہو کی کابینہ نے ایران کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور ٹرمپ کے ساتھ ذاتی تعلقات پر انحصار کرتے ہوئے امریکہ کو ایک وسیع تر جنگ میں الجھانے کی کوشش کی ہے جس کے خاص طور پر اقتصادی نتائج سنگین ہوں گے۔
مزید اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ تل ابیب نے تنازع شروع ہونے سے مہینوں قبل امریکی فوجی حمایت حاصل کرنے کے منصوبے بنائے تھے۔
اسی تناظر میں، ہمارے ملک کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے بیانات میں زور دے کر کہا تھا کہ "یہ جنگ نہ ایران کی جنگ ہے اور نہ امریکہ کی جنگ ہے؛ یہ اسرائیل کی جنگ ہے۔ یہ اسرائیل تھا جس نے امریکہ کو میدان میں اتارا اور خطے کے عوام اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا: "خود امریکہ میں بھی اب یہ بحث عام ہے کہ یہ جنگ مکمل طور پر بلاوجہ، بے سوچے سمجھے اور امریکہ کے مفادات کی پرواہ کیے بغیر صرف اسرائیل کے مفادات کے لیے کی گئی ہے۔ امریکہ میں مخالفت عروج پر ہے۔”


مشہور خبریں۔
سابق موساد اہلکاروں سمیت سیکڑوں صیہونی فوجیوں کا جنگ بندی کا مطالبہ
?️ 14 اپریل 2025 سچ خبریں:صیہونی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ موساد کے
اپریل
تل ابیب اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی تفصیلات
?️ 18 اگست 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے چینل 12 نے اپنی ایک رپورٹ میں تاکید
اگست
امریکہ کی افغانستان میں اپنے فوجیوں کے جرائم کو چھپانے کی کوشش
?️ 17 اگست 2022سچ خبریں: وکی لیکس نے جنگی جرائم سے بچنے کے لیے مختلف
اگست
ترکی کا شمال مشرقی شام پر ڈرون حملہ
?️ 20 اگست 2022سچ خبریں:ترک فوج نے شام کے صوبے الحسکہ کو ڈرون حملے میں
اگست
غزہ میں مزاحمتی کاروائیوں کا اثر
?️ 22 اپریل 2025 سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی گروہوں، خصوصاً کتائب القسام کی جانب سے غزہ
اپریل
موبائل فون میں یو ایس بی لگانے کے حوالے سے کچھ اہم معلومات
?️ 5 ستمبر 2021سیئول (سچ خبریں) یو ایس بی موبائل فون چارجر میں لگانے کی
ستمبر
مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اہم فیصلہ متوقع
?️ 12 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل
اپریل
جرائم کرنا اور انکار کردینا؛صیہونیوں کا وطیرہ
?️ 17 دسمبر 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت نے ایک بار پھر فلسطینی صحافی شیرین ابو عاقلہ
دسمبر