غزہ میں نقل مکانی سے لے کر مذاکرات میں بلیک میل تک

غزہ

?️

سچ خبریں: صیہونی ریگیم کے غزہ کے عوام کو بے گھر کرنے کے منصوبوں کے تسلسل میں، جبکہ دوحہ میں جنگ بندی کے نئے دور مذاکرات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ صیہونیوں نے رفح، جنوبی غزہ پٹی میں "انسانی شہر” کے نام سے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس کا مقصد پہلے مرحلے میں 6 سے 7 لاکھ فلسطینیوں کو اس شہر میں منتقل کرنا ہے، جو درحقیقت انہیں غزہ سے نکالنے کی پہلی کڑی ہے۔
"انسانی شہر” منصوبے کی تفصیلات
گزشتہ ہفتے منگل کو صیہونی وزیر جنگ "اسرائیل کاتز” نے اس منصوبے کا انکشاف کیا، جس کے تحت رفح کے کھنڈرات پر خیمے نصب کیے جائیں گے۔ یہ دعویٰ کردہ شہر مصر کی سرحد پر فلادلفیا محور اور خان یونس و رفح کے درمیان موراگ محور کے درمیان بنایا جائے گا۔ بعد ازاں، غزہ کے تمام باشندوں کو یہاں منتقل کیا جائے گا تاکہ انہیں اجتماعی طور پر غزہ سے بے دخل کرنے کی راہ ہموار ہو۔
مطلع ذرائع کے مطابق، یہ منصوبہ دراصل صیہونی ریگیم کے پچھلے منصوبوں جیسے "جنرلز پلان” یا "گڈیون ویگنز” پر مبنی ہے، جن کا مقصد غزہ پٹی کے شمال سے دس لاکھ افراد کو خالی کرکے وسطی اور جنوبی علاقوں میں منتقل کرنا تھا۔ دوحہ میں صیہونی مذاکراتی ٹیم کی پیش کردہ نقشہ بندی بھی درحقیقت غزہ سے صیہونی فوج کی مکمل واپسی نہیں، بلکہ ان کا دوبارہ تعیناتی کرنا ہے، جس کے تحت رفح شہر اور غزہ کا 40% سے زائد علاقہ صیہونی قبضے میں رہے گا۔
یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ مقبوضہ فلسطین کے عوام کو مصر اور دیگر ممالک میں جبری بے دخل کرنے کی سازش جاری ہے۔ صیہونی ٹیم کی پیش کردہ نقشہ بندی کے مطابق، کچھ علاقوں میں قبضہ کار 3 کلومیٹر تک گھس جائیں گے، جبکہ بیت لہیا، ام النصر، بیت حانون (شمالی غزہ) اور خزاعہ (خان یونس) کے علاوہ الشجاعیہ و الزیتون (مشرقی غزہ شہر) بھی صیہونی کنٹرول میں رہیں گے۔
یہ نقشے غزہ کے 40% رقبے پر صیہونی تسلط قائم کریں گے، جس سے تقریباً 7 لاکھ فلسطینیوں کو گھر واپس جانے سے روک کر انہیں جنوبی غزہ کے بے گھر کیمپوں کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔
صیہونیوں کے "انسانی شہر” کے اہداف
فلسطینی گروپوں، خاص طور پر حماس، نے اس منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جسے وہ امریکہ اور صیہونی ریگیم کی غزہ والوں کو بے گھر کرنے کی سازش قرار دیتے ہیں۔ حماس نے دوحہ میں اپنی مذاکراتی ٹیم کے ذریعے زور دیا ہے کہ صیہونی فوج کو موراگ محور سے مکمل طور پر انخلاء کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جو فلسطینیوں کو بے گھر کرے۔ کسی بھی جنگ بندی کے معاہدے میں صیہونیوں کا مکمل انخلاء اور جنگ کا مستقل خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔
عرب تجزیہ کار مصطفیٰ ابراہیم کے مطابق، صیہونی "انسانی شہر” کا منصوبہ دراصل فلسطینیوں کے قتل عام اور انہیں بے گھر کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی بین الاقوامی خاموشی اور عرب دنیا کی غیر فعال پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر ایسے منصوبوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
فوجی اور سیاسی اختلافات
کچھ عرب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صیہونی فوج اس منصوبے کی مخالف ہے، کیونکہ اس کے نفاذ کے لیے غزہ پٹی میں بڑی تعداد میں فوجی تعیناتی درکار ہوگی، جو انتہائی مہنگی اور خطرناک ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ پر براہ راست قبضہ صیہونی ریگیم کو کوئی حکمت عملی فائدہ نہیں دے گا، چاہے تمام قیدی رہا ہی کیوں نہ ہو جائیں۔
نتیجہ
صیہونی ریگیم کا یہ منصوبہ نہ صرف فلسطینی عوام کے خلاف ایک اور ظالمانہ اقدام ہے، بلکہ یہ خطے میں مزید تناؤ اور انسانی المیے کو جنم دے گا۔ بین الاقوامی برادری کی خاموشی اس ظلم کو طول دے رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

حزب اللہ کی جوابی کارروائی ؛ دھمکی کے مقابل دھمکی

?️ 12 اکتوبر 2024سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ نے اسرائیلی حکومت کی فوج کے ان

آزاد کشمیر کے سابق صدر و وزیراعظم کا انتقال ہوگیا

?️ 10 اکتوبر 2021مظفرآباد(سچ خبریں) آزاد کشمیر کےسابق صدر، وزیراعظم سردار سکندر حیات انتقال کرگئے۔کوٹلی

کوئی نہیں جانتا کہ حزب اللہ کا اگلا قدم کیا ہوگا

?️ 17 نومبر 2024سچ خبریں: اتوار کے روز اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ،

بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر کی اسرائیلی آرمی چیف سے ملاقات

?️ 24 جون 2021سچ خبریں:وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر

عوام سے لاتعلق نہیں ہیں ان کی پریشانیوں کا احساس ہے

?️ 16 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا

صیہونی حکومت کا وہ منصوبہ جو پھٹنے سے پہلے ہی جل گیا: ڈونلڈ ٹرمپ

?️ 17 جون 2025سچ خبریں: ایسے وقت میں جب جنگ کے میدان میں صیہونی حکومت کے

آرامکو پر حملے سے زیادہ تلخ تجربہ ریاض کا منتظر

?️ 9 مئی 2022سچ خبریں: جب اقوام متحدہ کے ایلچی نے صنعاء اور سعودی اتحاد

یوکرین کی فوج کو برطانیہ کی 304 ملین ڈالر کی امداد

?️ 25 دسمبر 2022سچ خبریں:     گارڈین اخبار نے اعلان کیا کہ برطانوی وزیر اعظم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے