?️
سچ خبریں: ارجنٹائن کی جیو پولیٹیکل تجزیہ کار اورسولا آستا نے مشرق وسطیٰ کے حالیہ واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے صہیونی ریاست کے اقدامات کو مغرب کی بالادستی اور امریکہ کی قیادت میں یک قطبی عالمی نظام کے زوال کو روکنے کی ایک وسیع تر کوشش قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سیاسی کمزوری اور امریکہ میں نومحافظہ کاروں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ایران کے خلاف جنگ اور ٹارگٹ کلنگز کا مقصد محض سلامتی کے خدشات نہیں، بلکہ مقاومت کے محور کو کمزور کرنا اور ایران کو کثیر قطبی عالمی نظام میں شامل ہونے سے روکنا ہے۔
آستا نے بین الاقوامی اداروں کے دوہرے معیارات، جنگ crimes پر مغرب کی خاموشی، اور میڈیا کے حقائق کو مسخ کرنے پر تنقید کی ہے۔ ان کے مطابق، مغرب کے تسلط کے خلاف ایک آزاد محاذ کی تشکیل ناگزیر ہے۔
سوال: حالیہ دنوں میں صہیونی ریاست کے ایران اور غزہ میں غیر فوجیوں کے خلاف مظالم کو کس نظر سے دیکھا جائے؟
جواب: نتانیاہو کے لیے ایران سے جنگ کا ایک بڑا محرک اس کا اپنا سیاسی بحران ہے۔ وہ اس جنگ کو اپنی حکومت بچانے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ دوسری طرف، ایران، "عظیم اسرائیل” کے خواب کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ امریکہ میں صہیونی اور نومحافظہ کار گروہوں کا اثر اسرائیل کو مشرق وسطیٰ پر کنٹرول کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
سوال: اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنا رہا ہے، لیکن عملاً ہسپتالوں اور میڈیا مراکز کو تباہ کر دیا گیا۔ اس تضاد کی کیا وجہ ہے؟
جواب: اسرائیل کا اصل مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے کو روکنا ہے۔ وہ ایران کے سیاسی نظام کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے وہ جوہری خطرے کا بہانہ بنا رہا ہے، حالانکہ خود اس کے پاس غیر قانونی جوہری ہتھیار ہیں۔
سوال: مغرب اسرائیل کے جنگی جرائم کی حمایت کیوں کرتا ہے؟
جواب: امریکہ میں نومحافظہ کار گروہ اسرائیل کو اپنی علاقائی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ پر کنٹرول برقرار رہے تاکہ امریکہ کی عالمی بالادستی بحال رہے۔
سوال: میڈیا اسرائیل کے مظالم کو کیوں نظر انداز کرتا ہے؟
جواب: مغربی میڈیا پر صہیونی لابی کا گہرا اثر ہے۔ تاہم، سوشل میڈیا اور متبادل ذرائع اب حقائق کو سامنے لا رہے ہیں۔ غزہ کے بحران جیسے واقعات نے مغرب کے دوہرے معیارات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوال: اسرائیل کا طویل المدتی مقصد کیا ہے؟
جواب: اسرائیل چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں مغرب کا اثر برقرار رہے۔ لیکن اب ایران، سعودی عرب، چین اور روس کے اتحاد نے اسے مشکل میں ڈال دیا ہے۔ برکس گروپ اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) جیسی تنظیموں کے ابھرنے سے عالمی طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔
سوال: ایران پر حالیہ حملوں پر آپ کا رد عمل؟
جواب: میں غیر فوجیوں کے قتل کی مذمت کرتا ہوں۔ عالمی برادری کو انسانی المیوں پر توجہ دینی چاہیے۔ اسرائیل کی طرف سے امداد روکنا بھی ایک جنگی جرم ہے۔
سوال: امریکہ کی حمایت اسرائیل کے مظالم کو جاری رکھنے کا باعث کیوں ہے؟
جواب: امریکہ اپنی کمزور ہوتی عالمی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیل کو استعمال کر رہا ہے۔ لیکن اب کثیر قطبی دنیا کا ابھرنا امریکی بالادستی کے خاتمے کی علامت ہے۔
سوال: اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں پر پابندی کیوں نہیں؟
جواب: یہ دوہرے معیارات کی واضح مثال ہے۔ ایران پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں، لیکن اسرائیل کے غیر قانونی ہتھیاروں پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ بین الاقوامی اداروں کو اپنی افادیت پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
ایک جوکر ملک کا وزیر دفاع رکھا ہوا ہے ان جوکروں کو میڈیا سے دور رکھیں، عالیہ حمزہ
?️ 30 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کی چیف آرگنائزر پنجاب عالیہ
اپریل
یوکرین کی سلامتی کی ضمانت زمین کے بدلے ممکن نہیں
?️ 4 ستمبر 2025یوکرین کی سلامتی کی ضمانت زمین کے بدلے ممکن نہیں ماسکو (انٹرنیشنل
ستمبر
صدر مملکت نے اسمبلیاں تحلیل کر دیں
?️ 3 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیراعظم عمران خان کی
اپریل
حزب اللہ نے ابھی کتنی طاقت استعمال کی ہے؟ شاباک کے سابق عہدیدار کی زبانی
?️ 20 اکتوبر 2024سچ خبریں: صیہونی انٹیلی جنس ادارہ شاباک کے ایک سابقہ اعلیٰ عہدیدار
اکتوبر
یمن کو سعودی صیہونی مشترکہ سازشوں کا سامنا
?️ 12 جولائی 2022سچ خبریں:یمنی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اس وقت ہمارے ملک
جولائی
امریکی کمانڈوز اسرائیل میں موجود، وجہ ؟
?️ 1 نومبر 2023سچ خبریں:امریکہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری دفاع نے کہا ہے کہ امریکی کمانڈوز
نومبر
صیہونیوں کا ایک بار پھر درندگی کا مظاہرہ
?️ 20 اگست 2023سچ خبریں: صیہونی آبادکاروں نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک فلسطینی بچے
اگست
مصر کی جانب سے عرب ملٹری فورس بنانے کی تجویز پر تل ابیب کی تشویش
?️ 14 ستمبر 2025سچ خبریں: صیہونی ریاست میں اپوزیشن جماعت کے رہنما یائیر لاپید نے
ستمبر