کیا ایران کے خلاف دوبارہ جنگ عالمی معیشت کو مفلوج کردے گی؟

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کشیدگی نے عالمی سپلائی چین، توانائی کی قیمتوں اور غذائی تحفظ کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش، تیل و گیس کی ترسیل میں تعطل اور مہنگائی کے دباؤ نے عالمی معیشت کو بحران کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ تجزیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملہ عالمی معیشت کو تباہ کن جمود اور مہنگائی کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

امریکہ اور صہیونی حکومت کی ایران کے خلاف فوجی کشیدگی نے محض ایک علاقائی محاذ آرائی سے کہیں آگے بڑھ کر عالمی معیشت پر تباہ کن زلزلے کی مانند اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس صورتِ حال نے دنیا بھر میں سپلائی چین، توانائی کی قیمتوں اور غذائی تحفظ کو شدید چیلنجوں سے دوچار کردیا ہے۔

اس بحران کا مرکزی نقطہ آبنائے ہرمز ہے؛ یہ اہم آبی گزرگاہ دنیا کے 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل کا راستہ ہے اور عالمی توانائی تجارت کی نبض اس کے ہاتھ میں ہے۔

اس اسٹریٹجک گزرگاہ پر رکاوٹ پیدا ہونے سے تیل بردار جہازوں اور مائع قدرتی گیس لے جانے والے بحری جہازوں کی آمدورفت رک گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔

یہ زبردست دھچکا صرف پٹرول اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے تک محدود نہیں رہا، بلکہ عالمی معیشت کے باہمی انحصار کے باعث کیمیائی کھادوں کی پیداوار، دھاتوں کی صنعت، سمندری لاجسٹکس اور اشیا کی ترسیل کے اخراجات میں بھی شدید اضافہ ہوا۔

 اس کے نتیجے میں صارفین کی منڈیوں میں مہنگائی کی ایک ایسی لہر دوڑ گئی جس نے معیشتوں کو مفلوج کردیا۔ اس صورتِ حال نے ثابت کردیا کہ جدید عالمی معیشت اس تنگ آبی راستے کی سلامتی کے حوالے سے کس قدر غیر محفوظ ہے۔

ایران جنگ کے معاشی فاتح اور نقصان اٹھانے والے ممالک

اس گہرے بحران نے سب سے زیادہ مشرقِ وسطیٰ کی معیشتوں کو نشانہ بنایا اور خطے کے دارالحکومتوں کے لیے حالات کو نقصان دہ رخ پر موڑ دیا۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے ممالک کی معیشتیں غیر معمولی سکڑاؤ کا سامنا کررہی ہیں۔

یہاں تک کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسی بڑی ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی، جنہوں نے تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی تھی، اس معاشی سونامی کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکیں۔

ان ممالک کی غیر تیل معیشتوں کا علاقائی استحکام، آزاد تجارت اور توانائی کی بلا تعطل ترسیل پر انحصار ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور سیاحت و مالیاتی خدمات میں خلل کے باعث ان کی اقتصادی ترقی کی رفتار سکڑاؤ کی جانب مڑ گئی۔

اس دوران قطر اور کویت جیسے ممالک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا، جبکہ عمان اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث مثبت اقتصادی ترقی ریکارڈ کرنے میں کامیاب رہا۔

دوسری جانب، ایران نے اپنے بنیادی ڈھانچے پر انحصار کرتے ہوئے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، تاکہ ریفائنری اور پیٹروکیمیکل صنعتوں کو ترقی دے کر ویلیو چین کو مضبوط بنایا جاسکے اور خام تیل فروخت کرنے پر انحصار سے نکلنے کی نئی راہیں تلاش کی جاسکیں۔

عالمی منڈیوں میں زلزلہ

اس محاذ آرائی کے اثرات خطے سے باہر بھی پھیل گئے اور ایشیا و مغرب کی بڑی معیشتوں کو شدید ہلا کر رکھ دیا۔

دنیا کی بڑی صنعتی طاقت چین اور خطے کی توانائی کا ایک بڑا خریدار بھارت، پیداواری اخراجات میں بے تحاشا اضافے، تجارتی خسارے اور اپنی کرنسیوں کی قدر میں کمی سے دوچار ہوئے۔ سیول اور ٹوکیو کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی غیر معمولی گراوٹ دیکھی گئی۔

یورپ میں توانائی کی شدید مہنگائی، بجلی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے دباؤ میں اقتصادی ترقی مفلوج ہوکر رہ گئی۔

یہاں تک کہ امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کے بھاری اخراجات، بالخصوص پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور درآمدی پھلوں جیسی روزمرہ اشیا کی مہنگائی نے شہریوں میں احتجاجی آوازیں بلند کردیں۔

اس جنگ نے ہر امریکی خاندان پر اوسطاً 2,000 ڈالر کا مالی بوجھ بھی ڈال دیا ہے اور انتخابات سے قبل سیاسی اختلافات کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔ اس صورتِ حال میں مغربی حکمرانوں کو ووٹروں کے غصے پر قابو پانے کے لیے اپنے تزویراتی تیل کے ذخائر استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

اس دوران عالمی مالیاتی نظام سرکاری قرضوں کے بھاری بوجھ اور گہری نابرابریوں کے درمیان مشکلات سے دوچار ہے۔ عالمی اقتصادی ترقی کا انجن شدید عدم توازن کا شکار ہوگیا ہے اور ترقی کا زیادہ تر بوجھ مٹھی بھر ممالک کے کندھوں پر آگیا ہے۔

جہاں کئی دہائیوں سے ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتیں توانائی کے مسلسل جھٹکوں، موسمیاتی تبدیلیوں اور قرض لینے کے بھاری اخراجات کے باعث غربت کی کھائی میں گرنے کے خطرے سے دوچار ہیں، وہیں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی لہر نے ترقی یافتہ معیشتوں کو کسی حد تک سانس لینے کا موقع فراہم کیا ہے۔

تاہم، یہ ٹیکنالوجیز بھی مالیاتی بلبلوں اور افرادی قوت کی منتقلی نیز لاکھوں افراد کے بے روزگار ہونے کے خدشات کو چھپانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔

دنیا کے درجنوں ممالک بنیادی اشیا کی فراہمی کے بحران سے نکلنے کے لیے بین الاقوامی اداروں سے مدد طلب کرچکے ہیں، کیونکہ کمزور طبقات کی مدد کے لیے حکومتی سبسڈیز اور بچتیں اپنی آخری حد تک پہنچ چکی ہیں۔

حاصل کلام

عالمی معیشت کی اس تاریک اور پیچیدہ صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے، اگر امریکہ دوبارہ ایک اسٹریٹجک غلطی کرتے ہوئے ایران پر نیا حملہ کرتا ہے تو عالمی معیشت بلاشبہ ایک غیر معمولی اور ناقابلِ تلافی جمود مع مہنگائی کی جانب دھکیل دی جائے گی۔

ایران پر دوبارہ حملے کا مطلب آبنائے ہرمز کی مستقل اور مکمل بندش، خلیج فارس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی مکمل تباہی اور تیل کی قیمتوں کا ناقابلِ تصور حد تک بڑھ جانا ہوگا۔

اس تباہ کن منظرنامے میں عالمی ترسیل مفلوج ہوجائے گی، غذائی اشیا اور اناج کی سپلائی چین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گی، دنیا کی بڑی مالیاتی منڈیاں منہدم ہوجائیں گی اور بے قابو مہنگائی پوری دنیا میں اربوں انسانوں کے معاش کو تباہ کردے گی۔

فوجی مہم جوئی کو جاری رکھنا یا اسے دہرانا محض ایک علاقائی کشیدگی نہیں، بلکہ عالمی معیشت کی تباہی کا بٹن دبانے اور انسانیت کو تاریکی، قحط اور مالیاتی بحرانوں کے ایک ایسے دور میں واپس دھکیلنے کے مترادف ہے، جس کے تباہ کن اثرات کئی دہائیوں تک ختم نہیں ہوں گے۔

ایسی صورت حال میں بڑی صنعتی طاقتیں بھی ہجرت کی لہروں، تجارتی بینکوں کے دیوالیہ ہونے اور بین الاقوامی تجارتی نظام کے انہدام کو سنبھالنے کی صلاحیت کھودیں گی۔ اس معاشی خودکشی کی بھاری قیمت سیاسی بدانتظامی کی آگ میں انسانیت کی گزشتہ کئی دہائیوں کی فلاح و بہبود اور پائیدار ترقی کی تمام کامیابیوں کو جھونک دے گی۔ یہ ایسا انجام ہے جس کی اجازت بین الاقوامی نظام میں کسی بھی عقل مند حکومت کو نہیں دینی چاہیے۔

قومی سلامتی کی سپریم کونسل میں رہبرِ معظم کے سیکریٹری اور نمائندے میجر جنرل محسن رضائی کی جانب سے حالیہ دھمکیوں میں خطے میں امریکہ سے وابستہ اقتصادی بنیادی ڈھانچے، بالخصوص متحدہ عرب امارات، کو نشانہ بنانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ دھمکیاں ظاہر کرتی ہیں کہ تہران نے پہلے سے زیادہ دشمن کی کمزوری کو پہچان لیا ہے اور توانائی، مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ، کثیر القومی کمپنیوں اور خلیج فارس کے جنوبی ساحلوں کی اسٹریٹجک بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناکر دشمن کو ایرانی سرزمین پر دوبارہ حملے سے روکنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ اعتبار کے جال میں پھنس کر اپنی زندگی کا سب سے بڑا جوا کھیلتے ہوئے امریکی صدی کا خاتمہ کردیں گے، یا اپنے اقتصادی مشیروں کے اس مشورے پر عمل کریں گے کہ تہران کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم سے گریز کیا جائے، کشیدگی کم کی جائے اور بالآخر ایران کے خلاف جنگ سے پسپائی اختیار کی جائے۔

مشہور خبریں۔

صیہونی حکومت کی ایران کو جواب کی کوشش ناکام

?️ 26 اکتوبر 2024سچ خبریں: اعلیٰ امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایران کے خلاف اسرائیل

ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں اگلے نوٹس تک معطل: امارات

?️ 19 اگست 2026سچ خبریں: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کے ساتھ تمام

یمن میں متحدہ عرب امارات کے بھیس میں اسرائیل سرگرم

?️ 10 جنوری 2022سچ خبریں:یمن کی ایک ویب سائٹ نے متحدہ عرب امارات اور صیہونی

ایران کے مقابلے میں نیتن یاہو کی حکمت عملی ناکام، اسرائیل کو مکمل شکست کا سامنا؛ صہیونی ذرائع ابلاغ کا اعتراف

?️ 10 جون 2026سچ خبریں:صہیونی ذرائع ابلاغ نے ایران اور حزب اللہ کے ساتھ جاری

عائشہ عمر اور اظفر رحمٰن نئے ڈرامے میں اسکرین پر ایک ساتھ دکھائی دیں گے

?️ 23 ستمبر 2021کراچی (سچ خبریں ) پاکستان کی معروف اداکارہ عائشہ عمر اور معروف

وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ، عیدالفطر اور نوروز کی مبارکباد دی

?️ 23 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے رابطہ

غزہ میں قابضین کے نئے جرم پر اسلامی تعاون تنظیم کا ردعمل

?️ 10 اگست 2024سچ خبریں: اسلامی تعاون تنظیم نے تابعین اسکول کو نشانہ بنانے کے

جنوبی افریقہ کا اسرائیل کے خلاف اہم قدم

?️ 23 نومبر 2023سچ خبریں: جنوبی افریقہ کے ارکان پارلیمنٹ نے اس ملک میں اسرائیلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے