?️
سچ خبریں:خلیج فارس میں امریکی اڈوں کے باوجود سیکیورٹی کیوں ممکن نہ ہو سکی، اس پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
خلیج فارس میں سینٹکام کے امریکی اڈوں کے باوجود عرب ممالک کو سیکیورٹی نہ مل سکی، ایران جنگ کے بعد خطے میں طاقت کا توازن بدل گیا اور عرب ممالک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
امریکہ اور چین کے درمیان عالمی طاقت کی کشمکش اب ایران اور مشرق وسطیٰ کے خطے تک پہنچ چکی ہے۔ اس تناظر میں حالیہ جنگ نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں عرب ممالک خود کو ایک مشکل پوزیشن میں پا رہے ہیں۔
دو ماہ قبل امریکہ نے وینزویلا کے خلاف اقدامات کے بعد ایک متنازع کارروائی میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا، جس کے بعد امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے بھی بیانات دیتے ہوئے خود کو انسانی حقوق کا حامی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ تاہم عالمی برادری نے ان اقدامات پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔
اس دوران عرب ممالک اور ترکی نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کیں اور جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور دیا۔ ایران نے بھی مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی، تاہم اس کے باوجود حالات جنگ کی طرف بڑھ گئے۔
جنگ کے آغاز سے قبل عمان کے وزیر خارجہ نے واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات کی اور واضح کیا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، مگر حالات سے ظاہر ہوتا تھا کہ فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔
کچھ ماہرین کے مطابق اس جنگ کے پس منظر میں مختلف عوامل کارفرما ہیں، جن میں توانائی کے وسائل پر کنٹرول، عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلہ اور خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششیں شامل ہیں۔ بعض امریکی سیاستدانوں کے بیانات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تیل کے ذخائر پر کنٹرول ایک اہم ہدف ہے۔
اس پورے منظرنامے میں عرب ممالک کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ گزشتہ برس امریکی صدر کے دورہ خلیج کے دوران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے بھاری سرمایہ کاری کے وعدے لیے گئے تھے، جبکہ ان ممالک کو سیکیورٹی کی یقین دہانیاں بھی کرائی گئی تھیں۔
تاریخی طور پر امریکہ نے خلیج فارس میں اپنے فوجی اڈوں کو سیکیورٹی کے ضامن کے طور پر پیش کیا، لیکن موجودہ صورتحال میں یہی اڈے خطرے کا باعث بن گئے ہیں۔ بحرین میں پانچویں بحری بیڑے کے اڈے سے لے کر متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں تک، مغربی مفادات کو نشانہ بنائے جانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے ان اڈوں، لاجسٹک مراکز، توانائی کے ذخائر اور دیگر تنصیبات کو اپنے ممکنہ اہداف میں شامل کر لیا ہے، جس سے خطے میں عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے۔
عرب ممالک اس وقت ایک مشکل صورتحال کا شکار ہیں، جہاں نہ وہ امریکی افواج کو اپنے علاقوں سے نکال سکتے ہیں اور نہ ہی ایران کو مکمل یقین دہانی کرا سکتے ہیں کہ ان کی سرزمین کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔
ماہرین کے مطابق اس دوہری صورتحال میں عرب ممالک اس جنگ کے سب سے بڑے نقصان اٹھانے والے بن کر سامنے آئے ہیں، جنہوں نے سیکیورٹی بھی کھوئی، مالی وسائل بھی صرف کیے اور عالمی سطح پر سیاسی دباؤ کا سامنا بھی کیا۔


مشہور خبریں۔
نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں الحشدالشعبی کے ایک کمانڈر شہید
?️ 2 اگست 2021سچ خبریں:عراقی صوبے صلاح الدین میں نامعلوم مسلح افراد نے پیر کے
اگست
صہیونی جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی
?️ 16 فروری 2025سچ خبریں: بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ رائد عامر نے کہا کہ
فروری
ٹرمپ کا ایران سے متعلق خفیہ دستاویزات اپنے پاس رکھنے کا اعتراف
?️ 1 جون 2023سچ خبریں:امریکی وفاقی استغاثہ نے ٹرمپ کی آڈیو حاصل کی ہے جس
جون
جدہ میں آرامکو کی تنصیبات تقریباً مکمل طور پر جل چکی ہے: المیادین
?️ 26 مارچ 2022سچ خبریں: المیادین نے ہفتہ کی صبح جدہ میں آرامکو آئل ریفائنری
مارچ
علی محمد خان کی مسلم لیگ ن پر شدید تنقید
?️ 26 جنوری 2021علی محمد خان کی مسلم لیگ ن پر شدید تنقید اسلام آباد(سچ
جنوری
قرضوں کیساتھ ملک ترقی نہیں کریگا، دعا کریں کہ صنعت و زراعت بڑھے، شہباز شریف
?️ 22 فروری 2025ڈی جی خان: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ
فروری
پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری سپریم کورٹ میں چیلنج
?️ 13 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی نے اسپیکر قومی اسمبلی راجا
ستمبر
، ای وی ایم مشین دھاندلی کو ختم کر دے گی
?️ 14 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ، ای وی ایم مشین دھاندلی کو ختم
جولائی