ارمینیا میں امریکی ڈیٹا سینٹر؛ خفیہ مقاصد اور بڑھتے توانائی بحران پر سوالات

ڈیٹا سینٹر

?️

سچ خبریں:ارمینیا کے شہر ہرازدان میں امریکی کمپنی فائر برڈ کے جدید ڈیٹا سینٹر پر توانائی، ماحولیاتی تحفظ، ڈیٹا خودمختاری اور خطے میں امریکی انٹیلی جنس اثر و رسوخ کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

ارمینیا میں امریکی کمپنی فائر برڈ کے ڈیٹا سینٹر کا قیام محض ایک تجارتی منصوبہ نہیں بلکہ خطے میں امریکی معلوماتی اثر و رسوخ بڑھانے کا ایک ذریعہ بھی قرار دیا جارہا ہے۔

ایک ماہ قبل ارمینیا کے صوبہ کوتایک کے شہر ہرازدان میں امریکی کمپنی فائر برڈ نے خطے کا سب سے بڑا ڈیٹا پروسیسنگ اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ مرکز قائم کیا۔ یہ منصوبہ جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص امریکی کمپنی این ویڈیا کے جدید نظاموں پر مبنی ہے۔

اس منصوبے کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ اس کے ماحولیاتی اور توانائی سے متعلق اثرات کے ساتھ ساتھ اس کے پس پردہ ممکنہ جغرافیائی سیاسی مقاصد پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ڈیٹا سینٹر کی افتتاحی تقریب میں ارمینیا کے وزیر اعظم نیکول پاشینیان، این ویڈیا کے بانی اور سربراہ جینسن ہوانگ، قزاقستان کے نائب وزیر اعظم ژاسلان مادیف اور امریکہ کے قائم مقام ناظم الامور ڈیوڈ ایلن سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔

فائر برڈ دراصل ایک امریکی-ارمینی اسٹارٹ اپ ہے جسے 2025 میں سان فرانسسکو میں رجسٹر کیا گیا تھا۔ اس کے بانیوں میں امریکہ میں مقیم کاروباری شخصیت اور سرمایہ کار رازمیق ہواقیمیان، ارمینیا کے موبائل فون آپریٹر ٹیم ٹیلی کام آرمینیا کے شریک بانی الیگزینڈر یسایان اور ارمینی نژاد امریکی-کینیڈین کاروباری شخصیت نوبار افیان شامل ہیں، جو دوا ساز کمپنی موڈرنا کے شریک بانی بھی ہیں۔

این ویڈیا کے نائب صدر رو لباریان کی براہ راست معاونت سے فائر برڈ نومبر 2025 میں امریکی محکمہ تجارت سے ارمینیا کو جدید B200 ایکسیلیریٹرز برآمد کرنے کا خصوصی اجازت نامہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اس اجازت کے بغیر اس سطح کی جدید چپس امریکہ سے باہر ارمینیا بھیجنا ممکن نہیں تھا۔

اس بڑے منصوبے کے پس پردہ تجارتی، حکومتی اور جغرافیائی سیاسی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔

دنیا بھر میں کمپیوٹنگ کی صلاحیت کی شدید قلت ہے اور گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPU) کی طلب ان کی رسد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ امریکہ اور یورو زون میں توانائی کی قیمتیں بلند ہونے کے ساتھ ساتھ سخت ریگولیٹری قوانین بھی نافذ ہیں۔

اس کے مقابلے میں ارمینیا میں توانائی نسبتاً سستی ہے۔ ملک میں متعدد پن بجلی گھر موجود ہیں اور اس کے پاس متسامور جوہری بجلی گھر بھی ہے، جس کی پیداواری صلاحیت 440 میگاواٹ ہے اور جو ڈیٹا سینٹر کی توانائی کی ضروریات کا ایک حصہ پورا کرتا ہے۔

ارمینیا کی جغرافیائی حیثیت بھی اس منصوبے کو پرکشش بناتی ہے۔ یہ ملک یورپ، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے، جس سے ڈیٹا سینٹر ان صارفین کو خدمات فراہم کرسکتا ہے جہاں امریکی فزیکل انفراسٹرکچر براہ راست رسائی نہیں رکھتا۔

ارمینیا کے وزیر اعظم نیکول پاشینیان بھی ملک کو ٹیکنالوجی کے مرکز میں تبدیل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان کی حکومت زراعت پر انحصار کے متبادل کے طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دینے پر زور دے رہی ہے، جبکہ فائر برڈ کو خصوصی مراعات دینا ارمینیا کو خطے میں ڈیٹا پروسیسنگ کا اہم مرکز بنانے کی کوشش کا حصہ سمجھا جارہا ہے۔

یہ ڈیٹا سینٹر ارمینیا کے سوویت یونین کے بعد کے معاشی اور ٹیکنالوجی کے منظرنامے میں بھی تبدیلی لاسکتا ہے۔ دنیا بھر میں ارمینی ریاضی دانوں اور پروگرامرز کی شہرت کے پیش نظر GPT-4 کی سطح کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کی صلاحیت رکھنے والے سپر کمپیوٹر کا قیام باصلاحیت افراد کی بیرون ملک ہجرت روکنے کے لیے ایک مضبوط ترغیب فراہم کرسکتا ہے۔

اس منصوبے کے ذریعے ارمینیا کو جدید ٹیکنالوجی تک بھی رسائی حاصل ہوگی۔ 2025 سے قبل امریکی پابندیوں کے باعث این ویڈیا کی جدید ترین چپس، جیسے GB300، گریس بلیک ویل اور ویرا روبن، ارمینیا کو برآمد نہیں کی جاتی تھیں۔

اس منصوبے میں سرحد پار تعاون بھی شامل ہے۔ ڈیٹا سینٹر کی تقریباً 20 فیصد گنجائش ارمینی کمپنیوں کے لیے مختص ہے، جبکہ قزاقستان بھی اس منصوبے میں شریک ہے۔

 قابل ذکر بات یہ ہے کہ ارمینیا اور قزاقستان کے درمیان ڈیٹا کی منتقلی آذربائیجان کی سرزمین کے ذریعے ہوگی، جس کے لیے ارمینی کمپنی ٹیم ٹیلی کام اور آذربائیجانی کمپنی آذر ٹیلی کام کے درمیان معاہدہ موجود ہے۔

تاہم آزاد ماہرین نے اس منصوبے کی توانائی، ماحولیاتی اور قانونی اثرات کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ منصوبہ ارمینیا کے بجلی کے نیٹ ورک، ماحولیاتی قوانین اور قانونی خودمختاری کی موجودہ صلاحیت سے تجاوز کرسکتا ہے۔

توقع ہے کہ 2027 تک ڈیٹا سینٹر کی بجلی کی کھپت 300 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی، جو ارمینیا میں موسم سرما کے دوران بجلی کی مجموعی بلند ترین طلب کا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔

 طویل المدتی منصوبوں میں 2 گیگاواٹ تک بجلی استعمال کرنے کی بات کی گئی ہے، جو ملک کی موجودہ مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت سے بھی زیادہ ہے۔

پاشینیان نے پارلیمان میں اعتراف کیا ہے کہ ایسے منصوبوں سے توانائی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوگا اور اس اضافی طلب کا اثر عام صارفین کے لیے مختص بجلی کے حصے پر پڑ سکتا ہے۔

ڈیٹا خودمختاری کے حوالے سے بھی خدشات موجود ہیں۔ ہرازدان کا ڈیٹا سینٹر امریکی CLOUD Act، جو 2018 میں منظور کیا گیا تھا، کے دائرے میں آتا ہے۔

 اس قانون کے تحت امریکی سکیورٹی اداروں کو بعض حالات میں مقامی عدالتی منظوری کے بغیر مطلوبہ ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔ اس تناظر میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ فائر برڈ کے سرورز پر موجود ارمینی شہریوں کا ڈیٹا واشنگٹن کی دسترس میں آسکتا ہے۔

ماحولیاتی خطرات بھی کم اہم نہیں۔ ارمینیا کے ماحولیاتی قوانین میں ڈیٹا سینٹرز کے لیے کوئی مخصوص ضابطہ موجود نہیں اور وزارت ماحولیات نے تصدیق کی ہے کہ اس منصوبے کے لیے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ نہیں لیا گیا۔

 اس مقدار کے ڈیٹا سینٹرز کو کولنگ کے لیے روزانہ تقریباً 1.89 ملین لیٹر پانی درکار ہوسکتا ہے، تاہم پانی کے ذرائع کے بارے میں اب تک واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

اس منصوبے کا ایک اور پہلو اس کے ممکنہ انٹیلی جنس مقاصد سے متعلق ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پیمانے کا ڈیٹا سینٹر محض ایک تجارتی منصوبہ نہیں بلکہ حقیقی معلوماتی اور انٹیلی جنس انفراسٹرکچر بھی بن سکتا ہے، جو روس، ایران اور ترکی سے متصل ایک اہم خطے میں واشنگٹن کی لاجسٹک اور معلوماتی صلاحیتوں کو مضبوط کرے گا۔ چینی ٹیکنالوجی کے بجائے امریکی چپس کی فراہمی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکی بالادستی کو بھی مستحکم کرسکتی ہے۔

8 اگست 2025 کو نیکول پاشینیان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو بھی اس تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ اس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کا ایک مقصد یوریشین اکنامک یونین کے ذریعے روس کو فائر برڈ کی کمپیوٹنگ صلاحیتوں تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا ہے۔

اسی طرح ارمینیا کے الیکٹریسٹی نیٹ ورکس کی قومی تحویل میں لیے جانے کے معاملے کو بھی فائر برڈ منصوبے سے جوڑا جارہا ہے۔ مذکورہ بجلی کا نیٹ ورک روسی ارب پتی سامول کاراپیتیان کی ملکیت تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے فائر برڈ کے لیے بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور واشنگٹن کے لیے ناپسندیدہ شراکت دار کو منظر سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔

یوں ہرازدان ڈیٹا سینٹر کو محض ایک ٹیکنالوجی منصوبے کے بجائے ایک سیاسی اور سکیورٹی معاہدے کے طور پر دیکھا جارہا ہے؛ جس میں ارمینیا کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، امریکہ کو خطے میں معلوماتی اثر و رسوخ کا ایک نیا مرکز، این ویڈیا کو نسبتاً سستی توانائی اور ارمینی ڈائسپورا کو اپنے اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کا ایک نیا موقع حاصل ہوتا ہے۔

مشہور خبریں۔

ہماری وجہ سے اب تک زلنسکی زندہ اور اقتدار میں ہے:امریکی پارلیمنٹ اسپیکر 

?️ 3 مارچ 2025 سچ خبریں:امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے یوکرینی صدر

شامی فضائی دفاع کا صیہونی حکومت کے میزائلوں سے مقابلہ

?️ 10 جون 2022سچ خبریں:  شام کے فضائی دفاع نے آج جمعہ کو مقامی وقت

کیف میں جنگ نے شدت پکڑی: الجزیرہ

?️ 7 مارچ 2022سچ خبریں:   یوکرین کے جنرل اسٹاف نے تصدیق کی کہ روسی افواج

غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے مصر کے منصوبے کی نقاب کشائی

?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعطی نے غزہ کی پٹی

سکیورٹی فورسز کی خاران میں کارروائی، فتنہ الخوارج کے 12 دہشتگرد جہنم واصل

?️ 17 جنوری 2026راولپنڈی (سچ خبریں) سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع خاران میں آپریشن

صیہونی آبادکاروں کا مسجد اقصی پر وحشیانہ حملہ

?️ 26 اپریل 2021سچ خبریں:صیہونی آبادکاروں کے لگاتار کئی دن سے مسجد اقصی پر وحشیانہ

امریکہ کیسے یوکرین جنگ کو ہوا دے رہا ہے؟

?️ 11 اگست 2023سچ خبریں: امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کو لکھے گئے خط میں

اسلام آباد ہائیکورٹ کا خیبرپختونخوا ہاؤس ڈی سیل کرنے کا حکم

?️ 10 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے خیبرپختونخواہ ہاؤس ڈی سیل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے