انتہاپسند صیہونی وزیر کے 20 لاکھ فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنے کے منصوبے کے پوشیدہ پہلو، عمل درآمد میں بڑی رکاوٹیں

انتہاپسند صیہونی وزیر

?️

سچ خبریں:صیہونی اخبار یدیعوت احرونٹ کے مطابق انتہاپسند صیہونی وزیر ایتمار بن گویر کا 7 برس میں غزہ سے تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا منصوبہ مالی اور سیاسی رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ کسی ملک کی جانب سے فلسطینیوں کو قبول نہ کیے جانے کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے۔

صہیونی حکومت کے انتہاپسند وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر کا 7 برس کے دوران غزہ کی پٹی سے تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا منصوبہ سنگین رکاوٹوں سے دوچار ہے اور بظاہر صہیونی حکومت اس منصوبے پر عمل درآمد کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

صہیونی اخبار یدیعوت احرونٹ نے ایک رپورٹ میں صہیونی حکومت کے انتہا پسند وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر کے اس منصوبے کا جائزہ لیا ہے، جس کے تحت غزہ کی پٹی سے تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

 اخبار کے مطابق منصوبے میں پہلے سال 250,000 فلسطینیوں، 3 سال کے دوران تقریباً 1.11 ملین افراد اور بالآخر 7 سال میں 1.86 ملین فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ غزہ کی آبادی 2.2 ملین سے زیادہ ہے۔

اخبار کے مطابق اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے صہیونی حکومت کو ابتدائی طور پر 3.1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی، جبکہ اسرائیل کی تجویز کردہ مالیاتی اسکیم کی مجموعی مالیت 15.6 ارب ڈالر تک پہنچتی ہے۔ تاہم یہ رقم بین الاقوامی شراکت داری اور فلسطینیوں کو قبول کرنے والے ممالک کے ساتھ معاہدوں سے مشروط ہے۔

بن گویر کے منصوبے کی بڑی رکاوٹیں

بن گویر کی جماعت اس منصوبے کو اپنی انتخابی مہم کے ایک حصے کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے۔ تاہم یدیعوت احرونٹ کے مطابق اس منصوبے کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اب تک کوئی بھی ملک غزہ کے اتنی بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوا۔

اخبار نے ایک سینئر صہیونی عہدیدار کے حوالے سے لکھا ہے کہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ایسے فلسطینیوں کی ضرورت ہوگی جو خود غزہ چھوڑنے پر آمادہ ہوں اور ایسے ممالک کا رخ کریں جو انہیں قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اخبار نے اعتراف کیا ہے کہ تل ابیب اور متعدد ممالک کے درمیان غزہ سے فلسطینیوں کو قبول کرنے کے حوالے سے ہونے والی سابقہ بات چیت ناکام ہوچکی ہے۔

یدیعوت احرونٹ نے رپورٹ کیا کہ صہیونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی سکیورٹی کابینہ کے ارکان کو افریقی ممالک، جن میں ایتھوپیا، کانگو اور صومالی لینڈ شامل ہیں، کے ساتھ فلسطینیوں کو قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے ہونے والے رابطوں سے آگاہ کیا ہے۔

صہیونی حکومت کے وزیر دفاع یسرائیل کاٹز بھی اس منصوبے کو اپنی انتخابی مہم کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ منصوبہ منسوخ نہیں ہوا بلکہ فی الحال معطل ہے۔ تاہم کاٹز نے غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مصر کی شدید مخالفت کا بھی اعتراف کیا ہے۔

اسی تناظر میں نیتن یاہو نے غزہ میں صہیونی فوجیوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ کے 60 فیصد علاقے پر قابض ہے اور فوج غزہ سے انخلا نہیں کرے گی۔

اس کے باوجود مقبوضہ فلسطین میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے پر مجبور کرنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے بھی صہیونی حکومت کے 2 انتہا پسند وزرا نے غزہ سے فلسطینیوں کی اجتماعی بے دخلی کے اپنے منصوبوں کو دہرایا تھا۔

غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے منصوبے صہیونی حکومت کی جانب سے اکتوبر 2023 میں غزہ میں نسل کشی شروع ہونے کے بعد سے پیش کیے جاتے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بعد میں ان منصوبوں کو کھلے عام پیش کیا۔

31 جنوری 2025 کو ٹرمپ نے ایک بار پھر غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ مصر اور اردن کو انہیں قبول کرنا چاہیے۔ اسی سال 4 فروری کو انہوں نے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا جس کے تحت فلسطینیوں کو دوسرے ممالک میں بے گھر کیے جانے کے بعد امریکہ غزہ کا کنٹرول سنبھالے۔

دوسری جانب اس منصوبے کو عرب اور اسلامی ممالک کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے بن گویر اور کاٹز کے غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی سے متعلق بیانات، منصوبوں اور فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے جبری طور پر نکالنے کے لیے پیش کردہ طریقہ کار کی مذمت کی ہے۔

ان وزرائے خارجہ نے کہا کہ ایسے بیانات اور تجاویز بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں اور وہ فلسطینی عوام کو بے دخل کرنے کے مقصد سے بنائے گئے ہر منصوبے یا کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ غزہ فلسطینی سرزمین کا ناقابل تقسیم حصہ ہے اور غزہ اور مغربی کنارے، بشمول مشرقی بیت المقدس، کے درمیان فلسطینی سرزمین کی وحدت برقرار رہنی چاہیے۔

 اسلامی ممالک نے مزید کہا کہ منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کا واحد راستہ 2 ریاستی حل پر عمل درآمد اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جو بین الاقوامی قانونی جواز سے متعلق قراردادوں کے مطابق ہو۔

مشہور خبریں۔

صلیبی جنگیں اور جدید امریکی جنگیں؛ ایک ہی سکے کے دو رخ  

?️ 4 اپریل 2025 سچ خبریں:صلیبی جنگوں کا جدید امریکی جنگوں سے موازنہ محض ایک

پاکستان دہشت گردوں، سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے پرعزم ہے، دفتر خارجہ

?️ 28 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا

برطانوی اخبار کی فلسطین کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کے ساتھ خیانت

?️ 30 اکتوبر 2023سچ خبریں: انگلستان میں فلسطین کے حامیوں کے تیسرے مظاہرے ، جس

بنگلہ دیشی پاسپورٹ میں تبدیلی کا معاملہ، وزارت خارج نے تنازع کے بعد وضاحت پیش کردی

?️ 24 مئی 2021ڈھاکا (سچ خبریں) حال ہی میں بنگلہ دیش نے اپنے پاسپورٹ میں

ملکی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ فیلڈ مارشل

?️ 31 دسمبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم

وزیراعظم محمد شہباز شریف اپنے 2 روزہ دورہ ایران کیلئے تہران پہنچ گئے

?️ 26 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف اپنے دو روزہ دورہ

آیت اللہ خامنہ ای کی حالیہ تقریر کا مسلمانوں پر کیا اثر رہا؟

?️ 5 جون 2024سچ خبریں: فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سکریٹری جنرل نے امام خمینی کی

یونی پولر ورلڈ آرڈر کے خاتمے کے تین راستے

?️ 31 جولائی 2025سچ خبریں: عالمی احکامات جنگ میں شکست یا ڈیٹرنس میں ناکامی، معاشی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے