?️
سچ خبریں:ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے عالمی طاقتوں کو تین ممکنہ راستوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ چین اور روس جنگ کے توازن کے حق میں ہیں، جبکہ امریکہ، خاص طور پر دورِ ٹرمپ، اسرائیل کی برتری چاہتا ہے۔ اس تجزیے میں جنگ کے عالمی اثرات، جوہری معاہدات اور مستقبل کے بین الاقوامی نظام پر گفتگو کی گئی ہے۔
تہران یونیورسٹی کے محقق جواد حقگو نے اسرائیل کی حالیہ جارحیت کے تناظر میں ایک جامع تجزیہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق، اگرچہ عالمی طاقتیں اپنے بیانات میں مختلف مؤقف رکھتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے نظریات امریکہ کی نسبت چین اور روس کے نظریات سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔
اسرائیل کی جارحیت اور اس کے اثرات
23 جون سے شروع ہونے والی اسرائیلی حملوں کی لہر نے ایرانی سرزمین کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں درجنوں بےگناہ شہری، خواتین، بچے، فوجی افسران اور سائنسی ماہرین شہید ہوئے۔ اسرائیل کی ناکامی کے بعد اب اس کی کوشش ہے کہ امریکہ کو بھی اس جنگ میں شامل کرے۔
تین ممکنہ منظرنامے:
1. ایران کی فتح اور خطے میں اس کا اثرورسوخ بڑھ جانا
2. اسرائیل کی مکمل جیت اور اس کی علاقائی بالادستی (بطور واحد جوہری طاقت)
3. جنگ کا توازن پر اختتام، جس میں دونوں فریق کمزور ہوں
حقگو کے مطابق بیشتر عالمی طاقتیں تیسرا منظرنامہ (توازن) بہتر سمجھتی ہیں۔
عالمی طاقتوں کی پوزیشن:
چین و روس: ایران کی شکست کے مخالف ہیں اور اگر ایسا خدشہ محسوس ہوا تو ایران کی حمایت کے لیے قدم اٹھا سکتے ہیں، حتیٰ کہ فوجی مدد بھی ممکن ہے۔
یورپی یونین (فرانس و جرمنی): فوری جنگ بندی کے خواہاں ہیں، لیکن ایران کو کمزور اور نتانیاہو کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
امریکہ (دورانِ ٹرمپ): اسرائیل کی مکمل فتح یا ایران کی کمزوری کے حق میں ہے تاکہ ایران کو مذاکرات پر مجبور کیا جا سکے۔
جنگ کا بین الاقوامی اثر:
چین: مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام چین کے مفادات کے خلاف ہے۔ لہٰذا بیجنگ جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔
روس: یوکرین میں مصروف ہونے کے سبب اس کا ردعمل چین سے کمزور ہوگا، لیکن مفادات مشترک ہیں۔
دیگر عرب ریاستیں جیسے سعودی عرب و ترکی، اسرائیل کی فتح کے خلاف ہیں اور توازن کی حمایت کرتے ہیں۔
جوہری نظام پر اثرات:
اسرائیل، جو این پی ٹی (NPT) معاہدے کا رکن نہیں ہے، ایران کے قانونی جوہری پروگرام پر حملہ کر کے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔
اس سے این پی ٹی کی ساکھ مجروح ہوئی ہے، جس کا نتیجہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
ایران، جنوبی کوریا، ترکی، برازیل جیسے ممالک اب دیکھ رہے ہیں کہ ایک غیر جوہری ملک کا ایک جوہری ریاست کے ساتھ ٹکراو کیسا نتیجہ لاتا ہے۔
نتیجہ:
مزید پڑھیں:امریکہ اسرائیلی جارحیت میں شریک ہے، جس مقام سے حملہ ہوگا اسی جگہ جواب دیں گے، ایرانی سفیر
یہ جنگ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی نظم و نسق پر بھی گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔ اگر اسرائیل غالب آتا ہے تو یہ مغربی ہژمونی کے تسلسل کا پیغام ہوگا۔ لیکن اگر توازن برقرار رہا تو یہ عالمی طاقتوں کے مفادات میں زیادہ موزوں تصور ہوگا۔ کسی بھی صورت میں، یہ تنازعہ نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
صیہونی توسیع پسندی کا نیا باب؛ شام کے قدرتی وسائل کی لوٹ مار جاری
?️ 3 مئی 2025 سچ خبریں:صیہونی حکومت نے جنوبی شام میں آبی اور توانائی وسائل
مئی
چین کو چپ تیار کرنے والے آلات کی فروخت پر عائد پابندی میں توسیع کی جائے
?️ 9 اکتوبر 2025چین کو چپ تیار کرنے والے آلات کی فروخت پر عائد پابندی
اکتوبر
صیہونی غزہ میں مواصلاتی ذرائع کیوں بند کر رہے ہیں؟
?️ 28 اکتوبر 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت نے غزہ کی پٹی پر صیہونی جنگی طیاروں
اکتوبر
روسی سفیر نے بھی عمران خان کی تصدیق کر دی ہے:اسد عمر
?️ 14 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے
جون
برطانوی لیبر پارٹی کے ارکان نے غزہ کے لیے کیا کیا؟
?️ 6 نومبر 2023سچ خبریں: غزہ کی پٹی پر صیہونی حکومت کے حملوں میں شدت
نومبر
سعودی اور متعدد عرب ممالک کی جانب سے مسجد الاقصی پر صیہونی حملے کی مذمت
?️ 25 ستمبر 2023سچ خبریں:متعدد عرب ممالک نے الگ الگ بیانات جاری کرتے ہوئے مسجد
ستمبر
امریکہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو تباہ کرنے کے لیے تیار ہے: بائیڈن
?️ 13 مئی 2023سچ خبریں:امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ
مئی
پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان معاملات طے
?️ 26 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان معاملات طے پانے
مئی