امریکہ میں جنگی بیانیہ کی ترویج؛ ایران کے خلاف حملے میں تھنک ٹینکس کا کردار بے نقاب

رپورٹ کے مطابق امریکی نومحافظہ کار تھنک ٹینکس نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بیانیے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا

?️

سچ خبریں:رپورٹ کے مطابق امریکی نومحافظہ کار تھنک ٹینکس نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بیانیے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ AI تجزیات نے ان اداروں کو جنگی پالیسی سازی کے مرکزی محرکات قرار دیا۔

رسپانسبل اسٹیٹ کرافٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق متعدد مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ نومحافظہ کار دھڑے سے وابستہ امریکی تھنک ٹینکس نے ایران کے خلاف جنگ سے قبل کے مہینوں میں فوجی آپشن کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو بالآخر ایک ناکامی قرار دیا جاتا ہے تو اس کی جزوی ذمہ داری ان پانچ اسرائیل نواز تھنک ٹینکس پر عائد ہو سکتی ہے، جنہوں نے جنگ سے قبل کے آٹھ ماہ میں مسلسل فوجی اقدام کی حمایت کی۔

ان اداروں میں فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز، امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ، ہڈسن انسٹی ٹیوٹ اور واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نئیر ایسٹ پالیسی شامل ہیں، جنہیں چار بڑے AI پلیٹ فارمز نے جون 2025 کی 12 روزہ جنگ کے بعد سے موجودہ جنگ کے آغاز تک ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے سب سے نمایاں حامی قرار دیا۔

پانچواں ادارہ ہیریٹیج فاؤنڈیشن بھی تین AI ماڈلز کی فہرست میں شامل رہا، جو روایتی طور پر دائیں بازو کے نظریات کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جمینائی، چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ اور گروک جیسے AI پلیٹ فارمز نے انہی اداروں کو 23 سال قبل عراق پر امریکی حملے کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرنے والوں میں شامل قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ، فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز، ہڈسن انسٹی ٹیوٹ اور واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نئیر ایسٹ پالیسی واضح طور پر امریکی خارجہ پالیسی میں سخت گیر نومحافظہ کار دھڑے سے تعلق رکھتے ہیں، جن کے نظریے میں اسرائیل کی حمایت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

ان میں فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کو چاروں AI ماڈلز نے ایران کے خلاف جنگ کے سب سے نمایاں حامی کے طور پر پہلے نمبر پر رکھا، جس کے ابتدائی مشن میں شمالی امریکہ میں اسرائیل کی شبیہ بہتر بنانے اور اسرائیل-عرب تعلقات سے متعلق آگاہی بڑھانے کا ہدف شامل تھا۔

ہیریٹیج فاؤنڈیشن، جو امریکا فرسٹ خارجہ پالیسی کی حامی ہے، طویل عرصے سے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات کی حمایت کرتی آئی ہے اور مارچ 2025 کی ایک رپورٹ میں اس نے امریکہ-اسرائیل تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ان تمام اداروں کے ماہرین مسلسل چند مشترکہ نکات پر زور دیتے رہے، جن میں ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت کو اسرائیل اور امریکہ کے لیے خطرہ قرار دینا، ایران کو دہشت گردی کا سب سے بڑا ریاستی حامی کہنا، اور 1979 کے انقلاب کے بعد موجودہ نظام کو کمزور ترین حالت میں پیش کرنا شامل ہے۔

یہ بیانیہ کانگریس کی سماعتوں، میڈیا مضامین، ٹی وی و ریڈیو انٹرویوز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ایکس پر بھرپور انداز میں پیش کیا گیا، جس کا مقصد عوامی اور سیاسی رائے کو فوجی کارروائی کے حق میں ہموار کرنا تھا۔

یہ مؤقف اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی کانگریس میں ان کے حامی سخت گیر شخصیات، جیسے سینیٹر لنڈسی گراہم، کے بیانات سے ہم آہنگ تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دیگر نومحافظہ کار اداروں جیسے جِنسا، سینٹر فار سیکیورٹی پالیسی اور انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کو بھی بعض AI ماڈلز نے جنگی بیانیے کے فروغ میں اہم قرار دیا، جبکہ ان میں سے کچھ ادارے خود کو غیرجانبدار تجزیاتی مراکز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اسی طرح چیٹ جی پی ٹی نے سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز اور اٹلانٹک کونسل جیسے مرکزی دھارے کے اداروں کو بھی نمایاں قرار دیا، جن کے تجزیات میں فوجی آپشنز کے امکانات اور فوائد پر بھی بحث کی جاتی رہی۔

چاروں AI پروگرامز سے کہا گیا تھا کہ وہ جولائی 2025 سے فروری 2026 کے دوران ایران پر حملے کے فروغ میں سب سے زیادہ سرگرم 10 امریکی تھنک ٹینکس کی نشاندہی کریں، اور ہر ایک نے اپنی الگ تعریف کے مطابق نمایاں کردار ادا کرنے والوں کی فہرست مرتب کی۔

جمینائی کے مطابق 2003 کی عراق جنگ اور 2026 کے موجودہ حالات کے درمیان نمایاں مماثلت پائی جاتی ہے، جہاں وہی ادارے جو عراق جنگ کے فکری معمار تھے، اب ایران کے خلاف کارروائی کے لیے بھی سرگرم ہیں۔

2003 میں فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز ایک نیا ادارہ تھا جو امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ جیسے طاقتور تھنک ٹینکس کے سائے میں کام کر رہا تھا، جہاں رچرڈ پرل جیسے اثر و رسوخ رکھنے والے نومحافظہ کار رہنما موجود تھے، جو ڈک چینی، ڈونلڈ رمزفیلڈ اور پال ولفووِٹز جیسے افراد کے قریبی ساتھی تھے اور عراق جنگ کے فکری معماروں میں شمار ہوتے تھے۔

یہ نومحافظہ کار نیٹ ورک ایک مربوط ایکو چیمبر کی صورت میں میڈیا کے ذریعے اپنے پیغامات کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے میں کامیاب رہا۔ گروک کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے حامیوں کے مقابلے میں عراق جنگ کے حامی زیادہ منظم اور متحد تھے، جو نظام کی تبدیلی، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خطرے اور نائن الیون کے بعد کے حالات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے۔

تاہم 2005 کے بعد عراق جنگ کے تعطل کے آشکار ہونے پر ان میں سے کئی شخصیات اقتدار سے باہر ہو گئیں اور کچھ ادارے، جیسے PNAC، تحلیل ہو گئے۔

2007 میں فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز نے بہاماس میں ایک اجلاس منعقد کیا جس میں نومحافظہ کار شخصیات نے شرکت کی اور ایران کو مرکزی ہدف بنایا گیا۔ بعد ازاں یہ ادارہ ایک نئے نومحافظہ کار نیٹ ورک کے طور پر ابھرا جس نے اپنی توجہ ایران پر مرکوز کر دی۔

رپورٹ کے مطابق سب سے اہم پہلو افراد اور نظریات کا تسلسل ہے۔ گروک کے مطابق نیٹ ورکس، شخصیات اور فکری انداز تقریباً وہی ہیں، جنہوں نے دو دہائیوں کے وقفے سے دو جنگی مہمات کو آگے بڑھایا۔

مشہور خبریں۔

مراد علی شاہ کا پانی چوری کیخلاف آپریشن کرنے کا فیصلہ

?️ 6 مئی 2022کراچی(سچ خبریں) وزیراعلی سندھ نے سندھ بھر میں پانی کی چوری کے

بلوچستان میں بڑی تعداد میں اومیکران کے کیسز سامنے آگئے

?️ 22 دسمبر 2021قلات (سچ خبریں) کیسز میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر ضلع

امریکیوں کی ایف بی آئی جاسوسی میں تین گنا اضافہ

?️ 30 اپریل 2022سچ خبریں:  کل جمعہ کو جاری ہونے والی اپنی سالانہ ٹرانسپیرنسی رپورٹ

صیہونیوں کے خلاف فلسطینی مزاحمتی تحریک کی ایک اور کامیابی

?️ 16 جون 2021سچ خبریں:حماس کے ایک ترجمان  نے زور دے کر کہا کہ صہیونیوں

سوئٹزرلینڈ میں یمنی مذاکرات؛ 715 اسیروں کے ابتدائی تبادلے کا معاہدہ

?️ 21 مارچ 2023سچ خبریں:انصار اللہ کے ترجمان اور یمن کی قومی سالویشن گورنمنٹ کی

غزہ میں فلسطینی مجاہدین کی چابک‌دستی؛صیہونیوں کا ناک میں دم

?️ 16 جولائی 2025 سچ خبریں:صہیونی حملوں کے باوجود فلسطینی مجاہدین نے غزہ میں حیران

سردیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یوکرین کو ترجیح ہے: جرمن وزیر خارجہ

?️ 1 ستمبر 2022سچ خبریں:  جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیرباک نے ایک کانفرنس میں کہا

ترکی کے انتخابات اور مغربی ایشیا میں بائیڈن کی ایک اور شکست

?️ 6 جون 2023سچ خبریں:ترکی کی انتخابی میراتھن ختم ہو گئی جبکہ رجب طیب اردوغان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے