?️
سچ خبریں:سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مکہ معاہدہ متعدد تضادات کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق تینوں ممالک کے مختلف مفادات اس معاہدے پر عمل درآمد کے امکانات کو محدود کرتے ہیں۔
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مکہ معاہدہ متعدد تضادات کے سائے میں طے پایا ہے،ماہرین کے مطابق فریقین کے درمیان موجود اختلافات اور مختلف مفادات نے معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد کے امکانات کو انتہائی کم کر دیا ہے۔
الاخبار نیوز ایجسنی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مکہ دفاعی مشترکہ معاہدے پر دستخط اجتماعی بازدارندگی کے لیے ایک فریم ورک کے طور پر کیے گئے ہیں، جس کے ذریعے ایک بار پھر خطے میں اتحادوں کا نقشہ تشکیل دیا گیا ہے۔
تاہم تینوں ممالک کے مفادات میں فرق اور ان کے حساب کتاب میں موجود تضادات نے اس معاہدے کی ذمہ داریوں بالخصوص ایران کے حوالے سے عمل درآمد کی صلاحیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس معاہدے کے بارے میں تجزیوں اور قیاس آرائیوں سے متعدد بڑے تضادات سامنے آتے ہیں جو بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اس کے نفاذ کے امکانات کو ممکنہ طور پر کم ترین سطح تک پہنچا دیتے ہیں۔ الاخبار نے اس حوالے سے 8 بنیادی نکات پیش کیے ہیں:
1: یہ معاہدہ فوجی نوعیت کا حامل ہے اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کے دائرے میں اس فریق کے دفاع کا تقاضا کرتا ہے جس پر حملہ کیا جائے۔ ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے وضاحت کی کہ مکہ معاہدہ کے عملی طریقہ کار کے تمام پہلو شمالی بحر اوقیانوس معاہدے کی تنظیم سے مطابقت رکھتے ہیں۔
تاہم ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ خطے کے موجودہ حالات ان معاہدے کے تحت ممالک کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے لیے سازگار ہیں۔
2: معاہدے پر دستخط کرنے والے تینوں ممالک امریکہ پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ صورتحال اس اقدام کے حوالے سے امریکہ کے کردار کو خاص اہمیت دیتی ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے ذریعے ایران کے لیے امریکی پیغام ہو سکتا ہے، جس کا مقصد تہران کو رعایتیں دینے پر آمادہ کرنا ہے۔
3: معاہدے پر دستخط کرنے والے تینوں ممالک کی سنی شناخت نے بعض مبصرین میں مذہبی فتنہ انگیزی کے خدشات پیدا کیے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مصر نے اب تک اس معاہدے میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے، کیونکہ وہ خود کو مذہبی تنازعات سے بالاتر ایک ایسے فریق کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے جو خارجہ پالیسی میں زیادہ بڑا کردار ادا کرے۔
4: مکہ معاہدہ ترکی کی ریاستوں کے درمیان غیر جانب داری سے متعلق اتاترک کے اصول سے متصادم ہے۔ بعض سیاسی مبصرین اس معاہدے کو بغداد معاہدے کی نئی شکل قرار دیتے ہیں، جسے برطانیہ نے 1955 میں قائم کیا تھا اور ترکی عدنان مندریس کی اسلامی حکومت کے دور میں اس کا حصہ بنا تھا۔
5: نئے اتحاد کا اعلان ترکی میں شمالی بحر اوقیانوس معاہدے کی تنظیم کے اجلاس کے انعقاد کے ایک ماہ بعد کیا گیا ہے، جو بظاہر اس تنظیم کی قراردادوں سے ہم آہنگ ہے۔ اسی بنا پر بعض حلقوں کا خیال ہے کہ مکہ معاہدہ میں شامل تینوں ممالک خطے میں مغرب کے نمائندہ کردار کی ادائیگی چاہتے ہیں تاکہ امریکہ کی ناکامیوں کے بھاری بوجھ میں کچھ کمی لائی جا سکے۔
6: اردوغان کے حامی ترک حلقے نئے اتحاد میں شمولیت کا جواز اس طرح پیش کرتے ہیں کہ یہ اتحاد ترکی کے خلاف صہیونی حکومت کی توسیع پسندانہ خواہشات کے مقابلے میں ایک نئی بازدار قوت پیدا کرے گا۔ تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس معاہدے میں صہیونی حکومت کے مفادات بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ اردوغان بھی 2028 کے صدارتی انتخابات میں نئے ووٹ حاصل کرنے کے لیے، جس وقت انصاف و ترقی پارٹی کی مقبولیت میں کمی واقع ہو رہی ہے، اس معاہدے کے خواہاں تھے۔
7: مکہ معاہدہ میں شامل ممالک کی ضروریات کا جائزہ پیچیدہ علاقائی اور سیاسی حساب کتاب کو ظاہر کرتا ہے۔ ترکی کے اپنے داخلی اور علاقائی حسابات ہیں اور ان کے مطابق اسے سعودی عرب کی حمایت کی ضرورت نہیں ہے، جبکہ سعودی عرب بنیادی طور پر ایسی حمایت فراہم کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔
دوسری جانب پاکستان جغرافیائی اعتبار سے ترکی اور صہیونی حکومت یا یونان کے درمیان کسی بھی ممکنہ محاذ آرائی سے دور ہے اور بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی اسے اس معاہدے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ اس کے پاس جوہری بم موجود ہے، اسی طرح ترکی بھی نئی دہلی کے مقابلے میں اسلام آباد کی کھلی حمایت کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔
لہٰذا اس معاہدے کی سب سے زیادہ ضرورت سعودی عرب کو ہے۔ ریاض ایران یا یمن کی انصاراللہ کے مقابلے میں اپنی قوت مدافعت کے زوال کا سامنا کر رہا ہے اور نئے اتحاد کے قیام کے ذریعے اپنی مدافعاتی صلاحیت کو بحال کرنے کے لیے ایک نظریاتی موقع پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم اس کوشش کی کامیابی اب بھی غیر یقینی ہے۔
8: نیا اتحاد اپنے دستخط کنندگان کے درمیان وسیع اختلافات کے باوجود تشکیل دیا گیا ہے۔ عثمانی اسلام اور وہابی اسلام کے درمیان نظریاتی اختلافات، جو 200 سال سے زیادہ عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ تنازع میں رہے ہیں، ان گہرے اختلافات میں سے صرف ایک ہیں۔ یہ تضادات ترکی کو ایک مشکل امتحان میں ڈال دیں گے۔
مثال کے طور پر اگر ایران سعودی عرب میں امریکی ٹھکانوں پر حملہ کرتا ہے اور ریاض اس معاہدے کی بنیاد پر ترکی سے اس محاذ میں داخل ہونے کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ سوال پیدا ہوگا کہ کیا ترکی ایسا کرے گا اور سعودی عرب کے دفاع کے لیے ایران کے ساتھ جنگ میں داخل ہونے پر آمادہ ہوگا؟
الاخبار نے آخر میں نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس اتحاد کے بارے میں پرامید ہونے کی گنجائش بہت کم ہے۔ معروف ترک تجزیہ کار فهمی قورو کے مطابق یہ اتحاد بغداد معاہدے کے دور کی یاد تازہ کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں متعدد مسابقتیں اور افراتفری پیدا ہو سکتی ہے۔


مشہور خبریں۔
صیہونیوں کا فلسطینیوں کے سامنے اپنی بے بسی کا اعتراف
?️ 10 ستمبر 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے اس حکومت کے ایک فوجی
ستمبر
سلطنت تک پہنچنے کے بعد بن سلمان سے صیہونیوں کی پہلی توقع
?️ 13 فروری 2022سچ خبریں:عبرانی زبان کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کو
فروری
ن لیگ ہمیشہ دھونس و دھاندلی کی سیاست کرتی آئی ہے، شبلی نواز
?️ 21 فروری 2021اسلام آباد {سچ خبریں} وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نواز
فروری
بھارت نے افغاستان کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے
?️ 19 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا
ستمبر
غزہ، زمین پر جہنم؛ تمام طبی آلات کے ختم ہونے کا الارم
?️ 20 اپریل 2025سچ خبریں: غزہ کے صحت کے نظام کی تباہی اور اس پٹی
اپریل
UNIFIL فورسز کے بارے میں اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے کی گستاخی
?️ 14 اکتوبر 2024سچ خبریں: ڈینی ڈینن نے اتوار کو کہا کہ UNIFIL کے فوجیوں
اکتوبر
پی ٹی آئی انتخابی دھاندلی کی عدالتی تحقیقات کے مطالبے سے دستبردار، چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا
?️ 16 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت کے ساتھ مذاکرات کے تیسرے دور
جنوری
سنڈے ٹائمز: روسی جنگ کے وقت کی معیشت سے مطمئن ہیں
?️ 1 جون 2025سچ خبریں: برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں اس
جون