?️
کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ کومل میر نے کہا ہے کہ اگرچہ ان کے ساتھ کبھی ہراسانی یا کاسٹنگ کاوٌچ (کام کے بدلے سیکس) جیسے معاملات نہیں ہوئے، تاہم یہ چیزیں انڈسٹری کا حصہ ہیں جب کہ پروڈکشن ہاؤسز کے مقابلے ٹی وی چینلز میں ہراسانی کم ہوتی ہے۔
کومل میر نے حال ہی میں ’سم تھنگ ہاٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیریئر سمیت شوبز انڈسٹری کے دیگر معاملات پر کھل کر بات کی۔
پروگرام کے دوران بات کرتے ہوئے اداکارہ نے بتایا کہ پاکستانی معاشرے میں اب بھی اداکاروں کی عزت نہیں کی جاتی، خواتین اداکاروں کو زیادہ غلط سمجھا جاتا ہے۔
ان کے مطابق ہمارے مذہبی عقائد کی وجہ سے اداکاری کو برا اور غلط سمجھا جاتا ہے، جس وجہ سے اداکاروں کو بھی وہ عزت اور مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اداکاری کو کوئی پیشہ نہیں سمجھا جاتا، اسی وجہ سے بینک والے اداکار بتانے پر اکاؤنٹ تک نہیں کھولتے۔
ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کے سوال پر کومل میر نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ کبھی اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، انہوں نے کبھی اس طرح کی کسی چیز کا سامنا نہیں کیا۔
کومل میر کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہوں نے ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کا سامنا نہیں کیا لیکن وہ ایسی چیزوں سے انکار نہیں کرتیں، ایسی چیزیں انڈسٹری میں ہوتی ہیں اور متعدد افراد نے انہیں ایسی کہانیوں کا بتایا ہے۔
اداکارہ کے مطابق اپنے ساتھ ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کے واقعات نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انڈسٹری میں ایسی چیزیں نہیں ہوتی ہوں گی، ایسی چیزیں دیگر شعبوں کی طرح شوبز انڈسٹری کا بھی حصہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں متعدد افراد نے اپنے ساتھ ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کے واقعات بتائے ہیں لیکن انہوں نے کسی کا نام نہیں بتایا۔
اداکارہ کے مطابق ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کے زیادہ تر واقعات انفرادی لوگ کرتے ہیں، انفرادی طور پر پروڈیوسر، ہدایت کار اور اسٹائلسٹ ایسا کرتے ہیں لیکن مشترکہ طور پر ایسی چیزیں نہیں ہوتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں چھوٹے پروڈکشن ہاؤسز کے مقابلے ٹی وی چینلز اور بڑے پروڈکشن ہاؤسز میں ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کے واقعات نسبتا کم ہوتے ہیں۔
کومل میر نے یہ بھی کہا کہ ماضی کے مقابلے اب ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ جیسے واقعات باالترتیب کم ہوتے جا رہے ہیں، سوشل میڈیا اور بدنام ہونے کے خوف کی وجہ سے اب لوگ ایسی حرکتیں نہیں کرتے۔


مشہور خبریں۔
دنیا جہنم کے راستے پر گامزن:اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل
?️ 12 نومبر 2022اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے مصر میں موسمیاتی اجلاس میں خبردار
نومبر
یمن میں امریکی جارحیت کے اہداف
?️ 4 فروری 2024سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے اتوار کو ایک بیان
فروری
شامی فوج کا صیہونی جارحیت کے خلاف دفاع
?️ 17 نومبر 2023سچ خبریں: شامی حکومت کے فضائی دفاعی سسٹم نے دمشق کے نواحی
نومبر
سعودی عرب کے بعد کئی ممالک پاکستان سے دفاعی معاہدے کے خواہشمند ہیں، اسحاق ڈار
?️ 29 ستمبر 2025لندن: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سعودی
ستمبر
کیا غزہ میں ہونے والے جرائم کا ذکر یہود مخالفت ہے؟ امریکی سنیٹر
?️ 27 اپریل 2024سچ خبریں: امریکی سینیٹر نے صیہونی حکومت کے وزیر اعظم کو مخاطب
اپریل
صیہونی نوجوان اسرائیل سے بھاگنے کا سوچ رہے ہیں
?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: تازہ ترین سروے کے نتائج کے مطابق جو اسرائیل ہیوم
جولائی
آج سوگ کا دن، 27 ویں ترمیم کے بعد جمہوریت برائے نام رہ جائے گی: بیرسٹر گوہر
?️ 11 نومبر 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) بیرسٹر گوہر علی نے کہا ہے کہ
نومبر
را نے پاکستانی مچھیرے کو پیسوں کا لالچ دیکر گھناؤنے مقاصد کیلئے آمادہ کیا۔ عطا تارڑ
?️ 1 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے
نومبر