?️
سچ خبریں: اسپین کے معروف ملٹی نیشنل فیشن و میک اپ برانڈ ’زارا‘ نے متنازع فوٹوشوٹ کی تشہیر پر ہونے والی سخت تنقید کے بعد بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ’افسوس‘ ہے کہ ان کی تشہیری مہم سے ’غلط فہمی‘ نے جنم لیا۔
7 دسمبر کو کپڑوں کے فیشن برانڈ زارا کی جانب سے فوٹو شوٹ کی تصاویر شئیر کی گئی تھیں، اس مہم کی بعض تصاویر پر اس لیے تنقید کی جا رہی تھی کیونکہ یہ غزہ میں جاری جنگ سے ملتی جلتی ہیں۔
زارا کی اس مہم کا نام ’جیکٹ‘ تھا، تشہیری مہم میں امریکی اداکارہ کرسٹین میک مینامی کو اپنے ارد گرد کفن میں ملبوس تباہ حال پُتلوں، ٹوٹ پھوٹ کا شکار پلاسٹک بورڈ اور دیگر پتلوں کے کچھ اعضا غائب دیکھے جاسکتے ہیں۔
ایک تصویر میں ماڈل کاندھے پر کفن میں ملبوس پتلا لیے کھڑی ہیں، سوشل میڈیا صارفین کا الزام تھا کہ یہ فوٹوشوٹ غزہ میں جاری جنگ سے ملتی جلتی ہیں، جہاں غزہ کی مائیں کفن میں لپٹے بچوں کو گلے لگا کر رو رہی ہیں۔
فوٹوشوٹ شئیر کرنے کے بعد فیشن برانڈ کو شدید تنقید کا سامنا تھا اور سوشل میڈیا پر اس کے ’بائیکاٹ‘ کی مہم شروع جاری ہے۔
مہم جاری ہونے کے تقریباً ایک ہفتے بعد فیشن برانڈ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مہم جولائی میں بنائی گئی اور اس کی تصاویر ستمبر میں کھینچی گئی تھیں۔‘
زارا نے انسٹاگرام پوسٹ پر اپنا مؤقف دیا کہ ’یہ تصاویر ایک مجسمہ ساز کے اسٹوڈیو میں کھینچی گئیں جہاں کئی نامکمل مجسمے تھے، اس کا مقصد کپڑوں کی تیاری کے عمل کو آرٹ کے ماحول سے جوڑنا تھا۔‘
فیشن برانڈ نے اپنے بیان غزہ اور فلسطینیوں کا نام لیے بغیر کہا کہ ’بدقسمتی سے نئی تشہیری مہم کی تصاویر سے کچھ لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ تصاویر ہٹائی دی گئی ہیں، اس مہم کا مقصد وہ نہیں تھا جو بعض صارفین نے اخذ کیا۔‘
بیان میں بائیکاٹ مہم کے حوالے سے بھی براہ راست ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا، فیشن برانڈ نے کہا کہ زارا کو ’افسوس‘ ہے کہ ان کی تشہیری مہم سے ’غلط فہمی‘ نے جنم لیا اور ہم سب کے جذبات کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
فیشن برانڈ کی جانب سے بیان جاری کرنے کے بعد بھی کئی صارفین ’زارا‘ کو شدید تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں، کئی صارفین کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی فیشن برانڈ کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے ، متعدد صارفین نے کہا کہ اگر ستمبر میں تصاویر کھینچی گئیں تو دنیا کی حالیہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ فوٹوشوٹ جاری نہیں کرنا چاہیے تھا۔
کینیڈا میں فلسطین کے حامی منہ پر پٹی باندھے زارا کے شوروم پر احتجاج کرتے بھی دکھائی دیے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ فیشن برانڈ زارا فلسطینی مخالف مہم کا حصہ بنا ہو، قبل ازیں 2021 میں ’زارا‘ کی خاتون ڈیزائنر ونیسا پرلیمن کی جانب سے فلسطین مخالف کمنٹس کرنے کے بعد انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
ونیسا پرلیمن نے فلسطینی نژاد مرد ماڈل قاھر ھرہش کے کمنٹ پر سخت کمنٹس کرتے ہوئے فلسطینیوں کو انتہاپسند قرار دیا تھا۔
ونیسا پرلیمن نے اپنے کمنٹ میں لکھا تھا کہ بطور یہودی وہ سوشل میڈیا پر بہت کچھ برداشت کرتی رہی ہیں اور ان کی قوم ہولوکاسٹ جیسے ظلم کو برداشت کر چکی ہے۔


مشہور خبریں۔
گزشتہ رات جلد بازی میں کی گئی قانون سازی پر عمر ایوب کی تنقید کے بعد قومی اسمبلی اجلاس ملتوی
?️ 5 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے گزشتہ رات
نومبر
افغانستان کا مسئلہ حل کرنا چاہیے:پیوٹن
?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں:روس کے صدر نے پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات میں کہا کہ
ستمبر
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں: آرمی چیف
?️ 5 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ
فروری
کراچی میں بٹ کوائن ڈکیتی، آئی جی سندھ نے اعلی سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی
?️ 8 جنوری 2025 کراچی: (سچ خبریں) کراچی میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی
جنوری
کانگریس کی رکن: ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے ذریعے امریکی عوام کی زندگیاں تباہ کر دیں
?️ 6 مئی 2026سچ خبریں: کانگریس کی رکن نے اعتراف کیا کہ ٹرمپ نے امریکہ
مئی
جس بینچ پر پارلیمنٹ نے عدم اعتماد کیا، اس کے سامنے کیسے پیش ہو جاؤں، فضل الرحمٰن
?️ 20 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے
اپریل
پرویز الہی کو ریلیف
?️ 22 جون 2024سچ خبریں: پی ٹی آئی کے رہنما چوہدری پرویز الہٰی کو ایک
جون
امریکہ کے لیے 2022 ایک مشکل سال
?️ 26 دسمبر 2021موجودہ حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2022 میں امریکہ کو بڑے
دسمبر